• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

گرین لینڈ کو امریکہ کا حصہ بنانے پر مبنی صدر ٹرمپ کا مطالبہ مغربی دنیا میں ایک سیاسی بھونچال کی صورتحال اختیار کر گیا ہے۔ کیونکہ یہ جزیرہ پچھلی پانچ صدیوں سے ڈنمارک کے زیر تسلط ہے اور ڈنمارک امریکہ کا قریبی اتحادی اور امریکہ،یورپ کے دفاعی اتحاد نیٹو کا بانی رکن ہے۔ امریکی صدر کی طرف سے ایک اتحادی ملک سے اسکی سرزمین پر قبضہ کرنے کی خواہش نے دنیا بھر کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا ہے۔ یہ پہلی بار ہو رہا ہے کہ ایک اتحادی ملک سے اسکا حصہ اس لیے لیا جا رہا کہ اُس اتحادی کے پاس اسکے رہ جانے سے امریکہ کے دفاع کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ ٹرمپ کی منطق اسلیے سمجھ سے بالاتر ہے کہ یہ جزیرہ مکمل طور پر امریکہ کے اتحادی اور نیٹو کے رکن ڈنمارک کا حصہ ہے اور اسکے علاوہ آج بھی گرین لینڈ پہ امریکی فوجی اڈے موجود ہیں اور 1951 کے دفاعی معاہدےکے تحت امریکہ کو اس جزیرہ پہ ہر طرح کی دسترس حاصل ہے۔ گرین لینڈ دنیا کا سب سے بڑا جزیرہ ہے جسکا رقبہ بیس لاکھ چھیاسٹھ ہزار مربع کلو میٹر پر محیط ہے ۔

گرین لینڈ شمالی بحراوقیانوس میں واقع ہے اور بڑی حد تک غیرآباد یہ جزیرہ اسوقت عالمی سطح پر بڑی طاقتوں کے لیے تزویراتی اعتبار سے اہمیت حاصل کر چکا ہے۔ خاص کر مستقبل کی دفاعی صنعت میں نایاب معدنیات Rare earth elements کی اہمیت کے پیش نظر کلیدی حیثیت حاصل کر چکا ہے کیونکہ یہاں پر ان معدنیات کے بڑے ذخائر پائے جانے کی شواہد موجود ہیں۔

امریکہ کی طرف سے یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ چین کی مضبوط ہوتی معیشت کے نتیجے میں گرین لینڈ پر چین ان معدنیات تک رسائی حاصل کر سکتا ہے لہٰذا اسکے تداراک کا حل یہ ہے کہ گرین لینڈ کو امریکہ میں شامل کر دیا جائے۔لیکن امریکی صدر ٹرمپ کی طرف سے گرین لینڈ کو دفاعی تقاضوں اور نایاب معدنیات کی ضرورت کے پیش نظر امریکہ کا حصہ بنانے کی تجویز اس کے یورپی اور نیٹو اتحادیوں کے لیے آسمان سے بجلی گرنے کے مترادف ثابت ہو رہی ہے،یورپ کے سارے اتحادی اس کے خلاف بیان بازی کر رہے ہیں اور کئی یورپی سربراہانِ مملکت تو امریکہ کے اس منصوبہ کو روبہ عمل ہونے کی صورت میں نیٹو اتحاد کے عملی طور پر تحلیل ہونے کا عندیہ دے چکے ہیں۔ گو یورپ کی طرف سے بہت سی تشویش سامنے آ رہی ہے اور امریکہ یورپ کی رفاقت، رقابت میں بدلنے کے خدشات کے اظہار کے ساتھ یورپ اور امریکہ کے دفاعی اتحاد کے خاتمے کا کہا جا رہا ہے لیکن اسکے بر عکس یورپ والے امریکہ سے کسی قسم کے تصادم کی سکت نہیں رکھتے۔ کیونکہ یورپی دفاع کا سارا انحصار امریکی ساز و سامان اور اسلحہ پر ہے جسکا یورپ کے پاس اسوقت کوئی متبادل موجود نہیں۔

شاید اسی آگاہی کی بنیاد پر صدر ٹرمپ یورپی تشویش اور خدشہ کو درخور اعتنا سمجھنے کے موڈ میں نہیں اور وہ یورپی سربراہان کے احتجاج کے باوجود بار بار اپنی اس خواہش کو دہرا رہے ہیں اور خاص کر وینزویلا میں فوجی کارروائی کے بعد کی جانے والی پریس کانفرنس کے دوران گرین لینڈ جیسے معاملہ کا تذکرہ امریکی صدر کی جانب سے اپنے مطالبہ کی سنجیدگی اور سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔ یورپ کی طرف سے تشویش اور خدشات اپنی جگہ بجا ہیں لیکن یورپ کی یہ مجبوری بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ امریکہ کے اس منصوبہ کو عملی جامہ پہنانے کی صورت میں یورپ کچھ بھی نہیں کر پائے گا۔ کیونکہ یورپ کی ساری دفاعی قوت نیٹو کی محتاج ہے اور نیٹو امریکہ کے بغیر کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ لہٰذا قیاس یہی ہے کہ ایسی صورتحال کے سامنے آنے پر یورپ اور ڈنمارک سوائے افسوس کرنے اور ہاتھ ملنے کے اور کچھ نہیں کر پائیں گے۔ جہاں تک نیٹو اتحاد کے ختم ہونے کی بات ہے تو یہ اتحاد امریکہ سے زیادہ یورپ کو درکار ہے اور یورپ میں جاری یوکرائن کی جنگ کی موجودگی میں یورپ والے نیٹو کو گرین لینڈ کی خاطر قربان کر نے کے متحمل نہیں ہو سکتے بلکہ نیٹو کی خاطر گرین لینڈ کی قربانی دینا انکی مجبوری بن سکتی ہے۔

لہٰذا یہ توقع کی جا رہی ہے کہ در پردہ یہ کوششیں کی جائیں گی کہ صدر ٹرمپ کی گرین لینڈ کو امریکہ کا حصہ بنانے کی خواہش پر عملدرآمد ایسا ہو کہ جس سے ڈنمارک اور یورپ کی بے توقیری کا تاثر نہ ملے اور رسوائی و شرمندگی سے بچتے ہوئے ڈنمارک کی بھی اشک شوئی کا بندوبست کیا جا سکے۔ اب تمام عالمی مبصرین اس بات پر متفق ہیں کہ ایسا صرف اور صدر ٹرمپ کی مرضی پر منحصر ہے۔ وہی یورپ کو ایسی شرمندگی سے بچا سکتے ہیں بصورت دیگر یورپ خود کسی بھی ایسی پوزیشن میں نہیں کہ وہ کچھ کر پائے۔ بہرحال مستقبل قریب میں گرین لینڈ کا امریکہ کا حصہ بن جانا اٹل لگ رہا ہے بس دیکھنا یہ ہے کہ یہ کیسے ہوتا ہے۔ اس کی کنجی صدر ٹرمپ کے ہاتھ ہے اور وہ اس معاملہ کو عملی جامہ پہنانے میں سنجیدہ دکھائی دیتے ہیں۔

تازہ ترین