بھارت میں ایک داماد کی پہلی بار سسرال آمد پر 1374کھانے بناکر خوش آمدید کہا گیا۔ دعا ہے کہ یہ داماد خوش رہے ورنہ کوئی بعید نہیں کہ زندگی کے کسی موقع پر بیوی کو یہ سننا پڑ جائے کہ 1375 ڈشز کیوں نہیں بنوائیں۔کچھ داماد گھرداماد تو نہیں ہوتے لیکن ’خرداماد‘ ضرور ثابت ہوتے ہیں۔ سسرال والے جتنا پیار کرتے ہیں یہ اتنا ہی سر پر چڑھتے چلے جاتے ہیں۔ان کی خواہش ہوتی ہے کہ سسرال میں ہونے والے تمام اہم فیصلے اِن کی زیرصدارت ہونے چاہئیں۔ پنجابی میں دامادکو’جوائی بھائی‘ کہا جاتا ہے۔ بیشترصورتوں میں یہ جوائی تباہی ثابت ہوتاہے۔رہی بات اتنے زیادہ کھانوں سے استقبال کرنے کی تومیں نے کئی ایسی شادیاں دیکھی ہیں جن میں مہمانوں کیلئے دنیا بھر کی ڈشز شامل کی جاتی ہیں، کروڑوں روپے کی سجاوٹ کی جاتی ہے لیکن پھر پتا چلتاہے کہ شادی ایک سال بھی نہیں چل سکی۔شادی احترام مانگتی ہے اوراحترام کا پیٹ نہیں ہوتا۔ شروع شروع میں سسرال بڑاپیارا لگتا ہے۔ میں اس حوالے سے ایک واقعہ اکثرشیئر کرتارہتا ہوں کہ میرے ایک دوست کی عادت تھی کہ اسے جو چیز بھی پسند آتی تھی اس کے نام کے ساتھ دی (The) لگا دیتا تھا۔ ویسے تو اس کا تلفظ ’دا‘ ہے لیکن عام طور پر اسے ’دی‘ ہی بولاجاتاہے۔ قبلہ کے پسندیدہ کھانے تھے ’دی بھنڈیاں، دی آلو قیمہ، دی کریلے گوشت۔ پسندیدہ فلمیں تھیں ’دی گجر دا کھڑاک، دی بول، دی ٹائی ٹینک۔ ان کی شادی ہوئی تو سسرال کی آؤبھگت دیکھ کر کہنا شروع کردیا’دی سُسرال‘۔ جب بھی بات چلتی تو بڑے فخر سے بتاتے کہ یہ گھڑی مجھے ’دی سُسرال‘ نے دی ہے۔ یہ سوٹ مجھے ’دی سُسرال‘ کی طرف سے آیا ہے۔اب ان کی شادی کو اٹھارہ سال ہوچکے ہیں۔سسرال کے ساتھ’دی‘ وہ اب بھی لگاتے ہیں لیکن اب بعد میں لگاتے ہیں اورمٹھیاں بھینچ لیتے ہیں۔
…………
ایک خبرکے مطابق چین کے والدین بچوں پرشادی کیلئے دباؤ بڑھانے کی خاطر اے آئی سے بنی وڈیوز شیئر کرنے لگے ہیں جن میں شادی نہ کرنے کے پچھتاوے دکھائے جاتے ہیں۔ 1979میں چین میں بڑھتی ہوئی آبادی کوروکنے کیلئے ایک بچے کی پیدائش کی اجازت دی گئی تھی اور جو کوئی اس پر عمل نہیں کرتا تھاان کیلئے جرمانے، نوکری سے نکالنےاورزبردستی اسقاط حمل کی سزائیں تک شامل ہوتی تھیں۔ اس رجحان نے خوف کے زیراثر ایسی تقویت پائی کہ شادیوں کا سلسلہ ہی سست پڑگیا حالانکہ غالباً 2013 میں فی خاندان دو بچوں تک کی اجازت دے دی گئی تھی لیکن اب حالت ہے کہ نئی نسل اپنے بڑوں کی حالت دیکھ کر شادی سے ہی متنفر ہوتی جارہی ہے۔پوری دنیا اس رجحان کی زد میں ہے لہٰذااگرآپ کی شادی ہوچکی ہے تو شکر کریں اور اگر نہیں ہوئی تو بھی شکر کریں۔ اپنے ہاں تو یہ صورتحال ہے کہ جن کی شادی نہیں ہوئی اورجن کی ہوچکی ہے دونوں گھر سے بھاگنا چاہتے ہیں۔چینی نوجوان بڑے ذہین ہوتے ہیں ممکن ہے انہوں نے اندازہ لگالیا ہوکہ شادی کے بعدبربادہونے سے بہتر ہے کہ شادی کے بغیر بربادی برداشت کرلی جائے۔ ایک لڑکی نے لڑکے سے کہا کہ میں شادی کے بعد تمہارے سارے دُکھ سمیٹ لوں گی۔لڑکے نے حیرت سے کہا کہ مجھے تو کوئی دُکھ ہی نہیں۔لڑکی اِٹھلا کر بولی’میں شادی کے بعد کی بات کر رہی ہوں۔
…………
مہنگائی نے ایسا اثر ڈالاہے کہ جو بندہ گھر سے ڈرائی فروٹ خریدنے نکلتا ہے‘ اُس کی رائے آدھے راستے میں ہی تبدیل ہوجاتی ہے‘ لہٰذا واپسی پراُس کے ہاتھ میں چلغوزوں کی بجائے ڈبل روٹی‘ پیمپر‘ دالیں‘ مصالحے‘ آٹا اور آئل کا پیکٹ ہوتاہے۔یہ وہ لوگ ہیں جنکے بچے گرمیوں اور سردیوں کے بے شمار پھلوں کے نام تک سے واقف نہیں۔ اِن کیلئے موسم بدلنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ یہ گرمیوں میں ہوا کیلئے ترستے ہیں اور سردیوں میں آگ کیلئے۔یہ کبھی گیزر کے پانی سے نہیں نہائے لہٰذا اِنہیں سرکاری پانی ہی گرم پانی لگتاہے‘یہ مالٹے نہیں کینو کھاتے ہیں اور اُسے ہی میٹھا سمجھتے ہیں‘یہ 20 روپے کے ملوک لے کر ڈیڑھ گھنٹے تک اُس میں سے بیج اور چھلکا الگ کرتے ہیں اور ڈرائی فروٹ کا مزا لیتے ہیں۔ یہ جس دن انڈے والے سے اُبلا ہوا انڈا خرید لیں خوشی سے بے قابو ہوجاتے ہیں اور انڈے کے ایک ایک نوالے کا بھرپور مزا لیتے ہیں۔ یہ چائے کے ایک ایک گھونٹ کو آخری گھونٹ سمجھ کر پیتے ہیں۔ سوپ کے نام پر مرغی کی غسل زدہ یخنی بھی اِن کا وجود گرما دیتی ہے۔ یہ کبھی سخت سردی میں ہیٹر کا مزا نہیں اٹھاتے لیکن پھر بھی ٹھٹھرتی رُت میں بوسیدہ سا کمبل اوڑھ کر انتہائی سکون کی نیند سوتے ہیں۔راہیں مسدود ہوجائیں تو خواہشیں بھی محدود ہوجاتی ہیں اور خواہشیں محدود ہوجائیں تو سارے مسئلے حل ہوجاتے ہیں بقول بیدل حیدری’’گرمی لگی تو خود سے الگ ہوکے سوگئے... سردی لگی تو خود کو دوبارہ پہن لیا‘‘۔
…………
کتنااچھا لگتاہے جب بیرون ملک مقیم کوئی پاکستانی وطن کے وقارمیں اضافے کا باعث بنتاہے۔میاں چنوں کے احسان شاہد چوہدری انہی میں سے ایک ہیں۔ یوکے میں رہتے ہیں اور وہاں اُنہیں شاہی تمغے سے بھی نوازا جاچکا ہے۔ اوپن کچن کے نام سے ایک ایسا ادارہ چلاتے ہیں جو رنگ و نسل سے بالا تر ہوکر بھوک مٹانے کافریضہ سرانجام دیتاہے۔ انکے اوپن کچن میں پردیسی توکھاناکھاتے ہی ہیں خود بے سہارا انگریز بھی آتے ہیں۔ احسان شاہدپیارکاایک سمندر ہیں۔ زندہ دلی کالفظ شائدانہی کو دیکھ کر ایجاد ہواہوگا۔انتہائی خوش مزاج اوردوست پرور ہیں۔پکےپِیٹھے شاعر ہیں لہٰذاایسا شعرکہتے ہیں کہ جان نکال کررکھ دیتے ہیں۔اُن کایہ شعر توضرب المثل بن چکا ہے کہ’بونوں نے آج مل کے کیا ہے یہ فیصلہ ....کاٹووہ سرجو اپنے سے اونچا دکھائی دے‘۔