دعویٰ کیا جارہا ہے کہ ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کو امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے پہلے دن ٹانگوں میں زخم آئے، جس کی وجہ سے وہ تاحال عوام کے سامنے نہیں آئے ہیں۔
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق 56 سالہ مجتبیٰ خامنہ ای کو جنگ کے آغاز میں ہونے والے حملوں کے دوران ٹانگوں پر چوٹیں آئیں، اسی دن ان کے والد اور ایران کے طویل عرصے تک سپریم لیڈر رہنے والے علی خامنہ ای بھی شہید ہوئے تھے۔
رپورٹ میں اسرائیلی اور ایرانی حکام کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ زخمی ہونے کی وجہ سے مجتبیٰ خامنہ ای اب تک نہ تو کسی عوامی تقریب میں دکھائی دیے ہیں اور نہ ہی قوم سے ویڈیو خطاب کیا ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا بھی انہیں جانبازِ رمضان جنگ قرار دے رہا ہے، جس سے عندیہ ملتا ہے کہ وہ جنگ میں زخمی ہوئے ہیں، ایران نے جاری تنازع کو رمضان وار کا نام دیا ہے۔
دوسری جانب تہران میں عوامی ریلیاں نکالی گئیں جہاں لوگوں نے نئے سپریم لیڈر سے وفاداری کا اظہار کیا۔
شہر کے مشہور والیاسر اسکوائر میں ایک بڑا میورل بھی نصب کیا گیا ہے جس میں بانیٔ انقلاب روح اللہ خمینی کی موجودگی میں علی خامنہ ای اپنے بیٹے کو قیادت کا پرچم سونپتے دکھائے گئے ہیں۔