بھارت میں ایک اہم عدالتی فیصلے میں سپریم کورٹ نے 13 سال سے کومے میں زندگی گزارنے والے نوجوان کو لائف سپورٹ ہٹانے کی اجازت دے دی۔
عدالت نے ہرش رانا نامی 31 سالہ شخص کے والدین کی درخواست منظور کرتے ہوئے کہا ہے کہ مریض کی حالت میں بہتری کی کوئی امید نہیں، اس لیے انسانی وقار کو مدِنظر رکھتے ہوئے لائف سپورٹ واپس لیا جا سکتا ہے۔
عدالت کا یہ فیصلہ جسٹس جے بی پردیوالا اور جسٹس کے وی وشواناتھن پر مشتمل بینچ نے سنایا، فیصلے میں کہا گیا ہے کہ لائف سپورٹ ختم کرنے کا فیصلہ دو بنیادوں پر ہونا چاہیے کہ علاج کو طبی مداخلت تصور کیا جائے اور یہ فیصلہ مریض کے بہترین مفاد میں ہو۔
سپریم کورٹ نے کہا کہ ڈاکٹر کا فرض مریض کا علاج کرنا ہے، مگر جب صحت یابی کی کوئی امید نہ رہے تو یہ ذمے داری اپنی اہمیت کھو دیتی ہے۔
عدالت نے ہدایت دی کہ مریض کو اسپتال میں پالی ایٹو کیئر کے تحت رکھا جائے اور لائف سپورٹ باعزت طریقے سے مرحلہ وار ختم کیا جائے۔
سپریم کورٹ نے موجودہ فیصلے میں حکومت کو یہ بھی مشورہ دیا ہے کہ اس حوالے سے واضح قانون سازی پر غور کیا جائے۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق ہرش رانا 2023ء میں یونیورسٹی کے طالب علم تھے اس دوران وہ ایک عمارت کی چوتھی منزل سے گر گئے تھے، جس کے نتیجے میں شدید دماغی چوٹ کے باعث وہ مستقل ویجیٹیٹو اسٹیٹ میں چلے گئے۔
اس کے بعد سے وہ بستر تک محدود رہے، سانس لینے کے لیے ٹریکیوسٹومی ٹیوب اور خوراک کے لیے فیڈنگ ٹیوب پر انحصار کرتے رہے۔