راولپنڈی میں جرگے کے حکم پر شادی شدہ خاتون سدرہ عرب کے قتل کیس میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، مقدمے میں نامزد ایک اور روپوش ملزم کو گرفتار کر لیا گیا۔
پولیس کے مطابق عدالت نے ملزم کو پہلے ہی اشتہاری قرار دیا تھا، گرفتار ملزم نے مقتولہ سدرہ عرب کی قبر کی رسید غائب کی تھی، ملزم سے تفتیش مکمل کرکے ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان کیا جائے گا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ سدرہ عرب قتل کیس میں مجموعی طور پر 17 ملزمان گرفتار کیے جا چکے ہیں، جس میں مقتولہ کا والد، چھ بھائی، چچا، جرگے کا سربراہ اور قبرستان کے عملے کے تین افراد شامل ہیں، کیس میں سابق شوہر، رکشہ لوڈر ڈرائیور، پڑوسی اور ایک کرایہ دار بھی شامل ہیں۔
پولیس کے مطابق سدرہ عرب کو گزشتہ سال 16 اور 17 جولائی کی درمیانی شب جرگے کے حکم پر گلا دبا کر قتل کیا گیا تھا، ملزمان نے بغیر جنازہ پڑھے مقتولہ کی تدفین کی اور بعد ازاں قبر کے نشانات بھی مٹا دیے تھے۔
سدرہ عرب قتل کیس کا مقدمہ پولیس کی مدعیت میں تھانہ پیر ودھائی میں درج ہے، جبکہ جرگے کے سربراہ عصمت اللہ خان سمیت تمام ملزمان اس وقت اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔