سائنسدان انٹارکٹیکا میں جمی ہوئی برف کے نیچے چھپی ہوئی دنیا کا ایک تفصیلی نقشہ منظر عام پر لے آئے۔
نیا نقشہ پہاڑوں، وادیوں اور میدانی علاقوں پر مشتمل زمین کو بے نقاب کرتا ہے اور یہ سمجھنے کے لیے اہم ڈیٹا فراہم کرتا ہے کہ زمین پر تیزی سے رونما ہونے والی موسمیاتی تبدیلیوں کے انٹارکٹیکا پر کیا اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
محققین نے یہ نقشہ تیار کرنے کے لیے سیٹلائٹ ڈیٹا کو گلیشیئر کی نقل و حرکت کے بارے میں موجود معلومات کے ساتھ ملایا تاکہ انٹارکٹیکا کی برف کے نیچے چھپی زمین کی شکل اور خصوصیات کا اندازہ لگایا جا سکے۔
محققین کی جانب سے تیار کردہ یہ نتیجہ خیز نقشہ انٹارکٹیکا کی برف کے نیچے چھپی زمین کی بہت ساری خصوصیات کو ظاہر کرتا ہے جیسے کہ بلند و بالا پہاڑ اور وادیاں۔
اس تحقیق کے سربراہ اور ایڈنبرا یونیورسٹی کے گلیشیولوجسٹ رابرٹ بنگھم نے بتایا کہ برف کے بہاؤ کی حرکیات کو سمجھنے کے لیے بیڈراک کی درست نقشہ سازی ضروری ہے کیونکہ یہ برف کے پگھل کر سمندر میں بہنے کی رفتار پر اثر انداز ہوتا ہے۔
اُنہوں نے مزید بتایا کہ بیڈراک کے درست نقشے کی مدد سے برف کے بہاؤ اور زمین پر سطح سمندر میں اضافے پر اس کے اثرات کو بہتر انداز میں سمجھا جا سکے گا۔