اللّٰہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے آج پاکستان ان چند ملکوں میں شمار ہوتا ہے جو نہ صرف اپنی دفاعی ضروریات خود پوری کر رہے ہیں بلکہ جدید جنگی سازو سامان تیار، استعمال و برآمد بھی کر رہے ہیں ۔ پاکستان نے 1947ء میں دفاعی صنعت کا تقریباً صفر سے آغاز کیا تھا، مگر مستقل ترقی اور محنت کے نتیجے میں آج ہم ایک خود مختار دفاعی صنعتی طاقت رکھتے ہیں جو ہوائی، زمینی اور بحری صلاحیتوں کی حامل ہے۔ پاکستان کی فضائی قوت کا اہم ستون JF-17 Thunder ہے، جو پاک فضائیہ اور چین کی مشترکہ تخلیق ہے اس جنگی طیارے کو دنیا بھر کے اخبارات، رسائل، جرائد، تجزیہ جات اور سوشل میڈیا پر Fighter King of Skiesکہا گیا ہے۔ یہ اعلیٰ درجے کا کثیر المقاصد لڑاکا طیارہ ہے جو جدید AESA ریڈار، جدید میزائل نظام اور متنوع جنگی صلاحیتوں کا حامل ہے۔ 2025ء میں JF-17 نے دنیا بھر میں اپنی کارکردگی کا لوہا منوایا اور بھارت کی فضائیہ اور ایئر ڈیفنس کا غرور خاک میں ملا دیا اور کئی ممالک نے اسے خریدنے میں دلچسپی ظاہر کی۔ دبئی ایئرشو 2025ء میں پاکستان نے کئی ملکوں کیساتھ مفاہمتی یادداشتوں (MoUs) پر دستخط کیے اور JF-17کو بین الاقوامی سطح پر نمایاں مقام دلایا۔ سب سے بڑی تاریخی برآمدی ڈیل میں پاکستان اور آذربائیجان نے 40 بلاک III JF-17 لڑاکا طیاروں کے معاہدے کی تصدیق کی، جسکی مجموعی مالیت اندازاً 4.6بلین ڈالر ہے، اور یہ معاہدہ پاکستان کی دفاعی برآمدات میں سنگِ میل قرار پایا ہے۔ اسکے علاوہ میانمار، نائیجیریا انڈونیشیا، حتیٰ کہ آسٹریلیا اور کچھ دیگر ممالک نے بھی JF-17 خریداری میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ مزید برآں، پاکستان کی دفاعی صنعت نے نہ صرف ایوی ایشن سسٹمز تیار کیے ہیں بلکہ ہائپر سونک اور دیگر جدید میزائل سسٹمز جیسے Taimoor اور Babur / Harbah بھی اپنا حصہ رکھتے ہیں جو زمینی اور بحری اہداف کیخلاف موثر ہیں۔ پاکستان نے نہ صرف ہوائی بلکہ زمینی اور بحری شعبوں میں بھی حیرت انگیز پیش رفت کی ہے۔ میزائل پروگرام کے تحت مختلف قسم کے بیلیسٹک، کروز اور ٹیکٹیکل میزائل تیار کیے گئے ہیں جو طاقت کے توازن کو برقرار رکھتے ہوئے بھارت کے مذموم عزائم کے سامنے رکاوٹ ہیں۔ بحری میدان میں پاکستان نے متعدد جنگی بحری جہاز، فریگیٹس اور آبدوزیں تیار یا حاصل کی ہیں۔ Hangor-class آبدوزیں، جو چین کے تعاون سے تیار ہو رہی ہیں، پاکستان کی سمندری دفاعی صلاحیت میں ایک نئی جہت لے کر آئی ہیں۔ ان آبدوزوں کی مجموعی لاگت تقریباً4–5 بلین ڈالر ہے اور پہلی بٹالین 2026ءمیں بحری بیڑے میں شامل ہو رہی ہے۔ پچھلے چند برسوں میں پاکستان کی سمندری طاقت کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس کرنے کیلئے خصوصی توجہ دی گئی ہے، جس میں ایئر انڈیپنڈنٹ پروپولشن (AIP) سسٹم، ٹارپیڈوز اور جدید جنگی سسٹمز شامل ہیں۔ 2025ء میں پاکستان کی دفاعی برآمدات نے ایک نئی تاریخ رقم کی، جب تقریباً 10 بلین ڈالر کے دفاعی معاہدوں پر دستخط ہوئے جو ہماری معیشت کیلئے نہایت اہم اور منفرد سنگِ میل ہے۔ یہ معاہدے صرف طیاروں تک محدود نہیں ہیں بلکہ ان میں تربیتی طیارے، میزائل نظام، گولہ بارود، الیکٹرانک وارفیئر آلات اور دیگر فوجی سازوسامان شامل ہیں۔ اعلیٰ تکنیکی ٹرانسفر، مقامی صنعتوں کی شراکت اور ماہر افرادی قوت نے پاکستان کو ایک مضبوط دفاعی سپلائر کے طور پر دنیا کے نقشے پر لا کھڑا کیا ہے۔ دفاعی برآمدات اقتصادی فوائد کیساتھ ساتھ علاقائی اور بین الاقوامی سٹریٹجک تعلقات کو بھی مضبوط بناتی ہیں۔ JF-17 اور دیگر دفاعی اثاثوں کے معاہدے نے پاکستان کے تعلقات کو ایشیا، افریقہ اور مشرقِ وسطیٰ میں نئی جہت دی ہے، جس سے نہ صرف تجارت بڑھ رہی ہے بلکہ سفارتی تعاون میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ حال ہی میں سعودی عرب نے اسلحہ سازی کی صنعت کو بھی اجازت دے دی ہے۔ حکومت اور عوام کو اس میں حصہ لینا چاہئے۔ موجودہ حالات میں باقی انڈسٹری، کاروبار وغیرہ غیر مستحکم ہیں۔ اسلئے اب ہمیں دفاعی صنعت کو مزید فروغ دینا چاہئے، نہ صرف حکومتی سطح پر بلکہ عوامی سرمایہ کاری، پبلک، پرائیویٹ پارٹنرشپ اور شیئر ہولڈنگ ماڈلز کے ذریعے اسے فروغ دیں۔ اس سے دفاع مضبوط اور زرمبادلہ حاصل ہوگا۔ مختلف دفاعی پراجیکٹس میں عوام اور سرمایہ کاروں کی سرمایہ کاری کیلئے شیئرمارکیٹ کو استعمال کیا جانا چاہئے۔ یہ سرمایہ کاری قومی ترقی، تکنیکی نقل و حرکت، صنعتوں کی جدت اور نوجوان طبقات کیلئے روزگار کے نئے مواقع بھی فراہم کریگی اور پاکستان کا دفاع بھی ناقابلِ تسخیر بن جائیگا۔