اختر شاہ عارف، جہلم
عمرانہ اسکول جانے کے لیے صُبح آٹھ بجے گھر سے نکلی، تو وہ حسبِ معمول گلی کی نکڑ پر کھڑا جیسے اُسی کا منتظر تھا۔ بڑھی ہوئی داڑھی، کھچڑی بال، عام سے، سستے کپڑے کی شلوار قمیص، چہرے مُہرے سے وہ ساٹھ پینسٹھ برس کا معلوم ہوتا تھا۔ نہ جانے کب سے وہاں باقاعدگی سے آکر گلی کی نکڑ پر کھڑا ہو جاتا، جیسے کسی کی آمد کا منتظر ہو اور جوں ہی عمرانہ اسکول کے لیے نکلتی، اُس کی آنکھوں میں ایک چمک سی آجاتی۔
وہ وہاں اُتنی دیر کھڑا رہتا، جب تک عمرانہ گھر سے نکل کر گلی کا موڑ نہ مُڑ لیتی۔ عمرانہ جیسے ہی گلی کا موڑ مُڑ کر پیٹرول پمپ کی طرف بڑھتی، وہ مناسب فاصلہ رکھ کراُس کے پیچھے پیچھے چل پڑتا۔ عمرانہ گردوپیش سے بےنیاز سرجُھکائے پیٹرول پمپ کے سامنے والی سڑک عبور کر کے مدنی محلے کی گلیوں میں چلتی ہوئی گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول کا رُخ کرلیتی اور وہ مناسب فاصلہ رکھے آہستہ آہستہ اُس کے پیچھے چلتا رہتا اور جب وہ اسکول میں داخل ہوجاتی تو وہ ایک سرد آہ بھر کرآگے نکل جاتا۔
وہ نہ جانے کب سے اُس کا تعاقب کررہا تھا، مگر عمرانہ کو احساس اُس روز ہوا، جب ایک روز وہ اتفاق سے’’ٹیچرز میٹنگ‘‘ کی وجہ سے کچھ لیٹ ہوگئی۔ میٹنگ اسکول کی چُھٹی کے بعد شروع ہوئی، اور پرنسپل صاحبہ کے کچھ ضروری نکات پر بریفنگ دیتے خلافِ معمول دیر سے ختم ہوئی۔ پھر پرنسپل کی طرف سے چائے پارٹی کے دوران وقت گزرنے کا احساس ہی نہ ہوا اور جب وہ دیگر ٹیچرز کے ساتھ باہر نکلی تو سہ پہر کے چار بج رہے تھے۔
چوں کہ اُس کا گھر اسکول کے نزدیک ہی تھا اور وہ پیدل ہی آیا جایا کرتی تھی، تو اپنی کولیگ کے ساتھ جیسے ہی اسکول گیٹ سے باہر نکلی، اچانک اُس کی نظر اس ادھیڑ آدمی پر پڑی، جو بڑی بے قراری سے اِدھر اُدھر ٹہل رہا تھا، جب کہ اُس کی نظریں اسکول کے بیرونی گیٹ ہی پر جمی تھیں۔
جیسے ہی عمرانہ اور اُس کی نگاہیں ٹکرائیں، عمرانہ نے محسوس کیا کہ وہ یک دم مطمئن ساہوگیا۔ عمرانہ نے گھبرا کر نگاہ جُھکالی تھی، حالاں کہ اُس کی نظروں میں کسی قسم کی کوئی آلودگی نہیں تھی، پھر بھی عمرانہ کواُس کا یوں دیکھنا اچھا نہ لگا۔
اُس نے بیرونی گیٹ عبور کیا اور تیز تیز قدموں سے گھر کی جانب چل دی۔ کچھ دُور جا کر یوں ہی مُڑ کے دیکھا تو وہ شخص بہت آہستگی سے اُس کے پیچھے پیچھے ہی آرہا تھا۔ عمرانہ کے قدم مزید تیز ہوگئے۔ گھر کے دروازے پر پہنچ کر اُس نے ایک بار پھر مُڑ کر دیکھا تو ادھیڑ عُمر شخص گلی کی نکڑ پر کھڑا اُسی کو دیکھ رہا تھا۔ اُس نے جلدی سے کال بیل پر ہاتھ رکھ دیا۔ اُس کا دل بہت تیز تیز دھڑک رہا تھا اور چہرے پر پسینے کے قطرے چمکنے لگے تھے۔
تھوڑی دیر بعد دروازہ کُھلا اور وہ تیزی سے اندر داخل ہوگئی۔ اُس کی اُڑی ہوئی رنگت دیکھ کرماں نے استفسار کیا تو ایک بار تو اُس کا جی چاہا کہ وہ سب بتا دے، مگر اُس شخص نے سوائے تعاقب کے کوئی قابلِ اعتراض حرکت نہیں کی تھی۔ اِس لیے چُپ رہی، مگر دل ہی دل میں یہ اٹل فیصلہ کرلیا کہ جس روز اُس نے کوئی ایسی ویسی حرکت کی، وہ اس کی عُمر کا لحاظ کیے بغیر اُس کی ایسی درگت بنائے کہ دنیا دیکھے گی۔
عمرانہ کی کہانی بھی عام لڑکیوں ہی جیسی تھی۔ وہ جہلم شہر کی ایک مشہور آبادی مِشن محلے کی رہنے والی تھی۔ گھر پیٹرول پمپ کی نزدیکی گلی ہی میں تھا۔ وہ والدین کی اکلوتی بیٹی تھی، ابھی چھوٹی ہی تھی کہ اُس کے والد جو آلو، پیازکی ریڑھی لگاتےتھے، فوت ہوگئے۔ اُس کی ماں ساجدہ نے اُسے محنت مزدوری کر کے پڑھایا، لکھایا اور یہ اُس کی ماں کی دن رات کی محنت و لگن ہی کا نتیجہ تھا کہ عمرانہ نے ایم اے ایم ایڈ کر کے گورنمنٹ ملازمت اختیار کر لی۔
اُس کی تعیناتی مختلف سرکاری اسکولوں میں ہوتی رہی اور اب وہ گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول میں تعینات تھی۔ ملازمت کے دورانیے اور تعلیم کے لحاظ سے وہ سینئر ترین ٹیچر تھی۔ عن قریب اُس کی ترقی ہیڈ مسٹریس کے عہدے پر ہونے والی تھی۔ تعلیمی مدارج طے کرتے کرتے اُس کی عُمر تیس سال کے اریب قریب ہوچُکی تھی۔ ماں اُس کی بڑھتی عُمر کے پیشِ نظر اُس کی شادی کے لیے بے حد پریشان رہتی، مِلنے جُلنے والوں سے بھی کہہ رکھا تھا کہ کوئی موزوں رشتہ ہو تو بتائیں، مگر ابھی تک کوئی مناسب رشتہ نہیں آیا تھا۔
یہی وجہ تھی کہ ساجدہ اپنی اکلوتی بیٹی کے لیے بےحد پریشان رہتی تھی۔ یہ سوچ کر کہ اُس کی زندگی کا کوئی بھروسا نہیں، اگر وہ کسی روز اچانک آنکھیں موند گئی تواِس بَھری پُری دنیا میں اکیلی رہ جانے والی عمرانہ کا کیا بنے گا۔ اِن ہی پریشانیوں میں گِھری ساجدہ اکثر بیمار رہنے لگی تھی۔ عمرانہ ماں کو کم ہی کسی بات پر پریشان کیا کرتی تھی۔ بہرحال، اُس نے یہ فیصلہ کرلیا تھا کہ جس دن اُس شخص نے کوئی ایسی ویسی حرکت کی، وہ اُس کی طبیعت صاف کر کے رکھ دے گی۔ گرچہ وقتی طور پر وہ خوف زدہ بھی ہوئی تھی، لیکن پھر اُس نے خُود کو مضبوط کیا اور ہر طرح کے حالات کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہوگئی۔
اُس روز جمعے کا دن تھا، اسکول کی چُھٹی کے بعد، وہ ابھی گیٹ سے باہر نکلی ہی تھی کہ اُسےوہ نظر آگیا۔ آج اُس نے نسبتاً صاف سُتھرے کپڑے پہن رکھے تھے۔ بال بھی قدرے سلیقے سے بنے ہوئے تھے، البتہ داڑھی، مونچھوں کے بال ناتراشیدہ ہی تھے۔ اُس کے ہاتھوں میں تازہ بتازہ، کِھلے ہوئےسُرخ گلابوں کا ایک گل دستہ تھا۔ عمرانہ پر نظر پڑتے ہی اُس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آگئی، آنکھوں میں جیسے جہان بَھر کا پیار امڈ آیا۔
اُس وقت چوں کہ چُھٹی کا وقت تھا، طالبات کےساتھ ساتھ ان کو لے جانے والے والدین، گاڑیوں، رکشوں وغیرہ کی بھی کافی بھیڑتھی۔ اِس لیے وہ بس دُور ہی دُور سے اُسے تکتا رہا، مگر جیسے ہی عمرانہ سڑک عبور کر کے مِشن محلہ روڈ کی طرف مُڑی، وہ بھی اُس کے پیچھے پیچھے چل پڑا۔ عمرانہ نے اُسے اپنا تعاقب کرتے ہوئے دیکھ لیا تھا۔ مگر آج اُس کے دل میں کوئی خوف، ڈر نہیں تھا بلکہ غصّے کا آتش فشاں سا دہک رہا تھا۔ وہ بڑے اعتماد کے ساتھ یہ سوچتی ہوئی آگے بڑھ رہی تھی کہ آج اُس نے کوئی ایسی ویسی حرکت کی، تو وہ اُسے چَھٹی کا دودھ یاد دلا دے گی۔
اور… پھر جیسے ہی وہ گھر کی گلی کا موڑ مُڑی۔ اُس شخص نے بھی تیزی سے قدم بڑھائے اور بالکل اُس کے برابر پہنچ کر تھوڑا ہکلاتے ہوئے بہت پیار سے بولا۔ ’’سال گرہ مبارک نیلی… ‘‘ ابھی اُس کا جملہ مکمل بھی نہ ہوا تھا کہ عمرانہ نے بجلی کی سی تیزی سے پاؤں سے جوتا اُتارا اور تڑا تڑ اس کے سر پر برسانا شروع کردیا۔ ساتھ ہی وہ ہذیانی اندازمیں چیختے ہوئے کہہ رہی تھی۔ ’’شرم نہیں آتی تمہیں ذلیل انسان، یوں سرِعام اپنی بیٹی کی عُمر کی لڑکیوں کو چھیڑتے اور تحفے دیتے ہوئے… گھٹیا، بےشرم آدمی، تمھارے گھر میں ماں، بیٹی نہیں ہیں…‘‘ جواباً وہ شخص ہق دق چُپ چاپ مارکھا رہا تھا۔
عمرانہ کے چیخنے چلّانے کی آواز سُن کر گلی کے لوگ گھروں سے نکل آئے تھے۔ پل کے پل میں وہاں مَردوں، عورتوں کی بِھیڑ لگ گئی۔ عمرانہ کو ایک ہاتھ سے اُس کا گریبان پکڑے، دوسرے سے سر، منہ پر جوتے مارتے، چیختے چلّاتے دیکھ کر لوگ معاملے کی تہہ تک پہنچ چُکے تھے۔ چار پانچ ہٹّےکٹّے مرد آگے بڑھے اور اُسے عمرانہ سے چھڑوا کر اپنی گرفت میں لے لیا۔ ’’تجھے شرم نہیں آئی، اپنی بیٹی کی عُمر کی لڑکی سے ایسی بے ہودہ حرکت کرتے ہوئے…‘‘
ایک مرد کی بھاری بھرکم آواز پر وہ جیسے یک لخت ہوش میں آگیا اور اُس سے بھی زیادہ اونچی آواز میں تقریباً چیختے ہوئے بولا۔ ’’ہاں، مجھے بالکل بھی شرم نہیں آئی، اِسے یوں سرِعام گل دستہ دیتے ہوئے، اِس لیے کہ یہ میری بیٹی کی عُمر ہی کی نہیں بلکہ میری بیٹی نیلی کی ہُوبہو ہم شکل بھی ہے۔ اُس بیٹی کی، جو دو سال پہلے مجھے روتا دھوتا چھوڑ کر دُور نیلے جاودانی آسمان کے اُس پارچلی گئی ہے۔
آج میری نیلی کی سال گرہ ہے…‘‘ اتنا کہہ کر وہ تڑپ تڑپ کر ہچکیوں سے رونے لگا۔ پورے مجمعے کو جیسے سانپ سونگھ گیا تھا۔ خُود عمرانہ کا بھی منہ کُھلا کا کُھلا تھا۔ ’’میری نیلی کو سُرخ گلاب بہت پسند تھے۔ یہ میری نیلی کے لیے ہیں۔ یہ میری نیلی ہے… مَیں اپنی نیلی کو اب دوبارہ نہیں کھو سکتا…‘‘ ادھیڑ عُمر شخص عمرانہ کی طرف گل دستہ بڑھاتے ہذیانی انداز میں کہے جارہا تھا۔ ’’یہ میری نیلی ہے… میری نیلی کی آج سال گرہ ہے، میری نیلی کو سُرخ گلاب بہت پسند ہیں… سال گرہ مُبارک ہو میری نیلی بیٹی…‘‘ گل دستہ اُس کے ہاتھ سے چُھوٹ کے عمرانہ کے قدموں میں جا پڑا تھا اور ساتھ ہی وہ خُود بھی ڈھے گیا تھا۔