متحدہ عرب امارات نے ایران جنگ سے متعلق سوشل میڈیا پر گمراہ کن اور جعلی ویڈیوز پھیلانے کے الزام میں 35 افراد کی گرفتاری کا حکم دے دیا ہے، جن میں 19 بھارتی شہری بھی شامل ہیں۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق یو اے ای کے اٹارنی جنرل ڈاکٹر حمد سیف الشامسی نے کہا ہے کہ حکام نے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی نگرانی کے دوران پایا کہ ملزمان نے جنگ سے متعلق جھوٹی معلومات، اے آئی سے تیار کردہ ویڈیوز اور اشتعال انگیز مواد شیئر کیا جس سے عوام میں خوف اور بے چینی پھیل سکتی تھی، تمام ملزمان کے خلاف تیز رفتار ٹرائل کیا جائے گا۔
یو اے ای کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق ملزمان کو تین گروپوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔
اس گروپ میں 10 افراد شامل ہیں جن میں 5 بھارتی، 1 پاکستانی، 1 نیپالی، 2 فلپائنی اور 1 مصری شہری شامل ہے۔
ان افراد نے میزائلوں کی پرواز اور ان کے روکنے سے متعلق حقیقی ویڈیوز شیئر کیں لیکن ان کے ساتھ ایسی آوازیں اور تبصرے شامل کیے جن سے یہ تاثر دیا گیا کہ یو اے ای پر حملہ ہو رہا ہے۔
اس گروپ میں 7 افراد شامل ہیں جن میں 5 بھارتی، 1 نیپالی اور 1 بنگلا دیشی شہری شامل ہے۔
ان پر الزام ہے کہ انہوں نے مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ جعلی ویڈیوز اور دوسرے ممالک کے واقعات کی فوٹیج کو یو اے ای کا واقعہ ظاہر کر کے سوشل میڈیا پر شیئر کیا۔
اس گروپ میں 6 افراد شامل ہیں جن میں 5 بھارتی اور 1 پاکستانی شہری شامل ہے۔
ان تمام ملزمان پر ایران کی قیادت اور فوجی کارروائیوں کی تعریف کرنے اور ایران کے حق میں پروپیگنڈا پھیلانے کا الزام ہے۔
اس کے علاوہ 2 بھارتی شہریوں پر بھی اسی نوعیت کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
حکام کے مطابق ایسے جرائم یو اے ای کے قوانین کے تحت سنگین جرم ہیں جن کی سزا کم از کم 1 سال قید اور 1 لاکھ درہم جرمانہ ہے۔