• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

گاڑی میں بیٹھتے ہی ڈرائیور نے کہا، سیٹ بیلٹ باندھ لینگے سر؟حیرت سے میں نے کہا،کراچی میں بھی سیٹ بیلٹ؟جی سر!یارہم تو کراچی آتے ہی اس لیے ہیں کہ سیٹ بیلٹ نہ لگانے کی عیاشی کرنے کو مل جائیگی۔ اب وہ عیاشیاں نہیں رہیں سر! ارے تو پھر کراچی کس بات کا کراچی ہوا؟ بس کراچی نام کو ہی رہ گیا ہے سر۔ وہ بات رہی ہی نہیں کراچی میں اب سر۔ اگلے دن بھتیجے کی گاڑی میں بیٹھا۔ آواز آئی، چاچو سیٹ بیلٹ لگا لیں۔ میں حیرت میں مبتلا ہوگیا کہ یہ چل کیا رہا ہے۔ جھنجھلا کر میں نے کہا، بھئی میں برابر والی سیٹ پہ بیٹھا ہوں،بیٹھے رہنے دو سکون سے، کیا جا رہا ہے تمہارا؟ ہنس کر بولا، چاچو میرے دس ہزار روپے جارہے ہیں۔ اگلا ایک لفظ بھی منہ سے نکالے بغیر میں نے کھٹ سے بیلٹ کھینچی اور ٹھک سے لگالی۔ بھتیجا کافی دیرمیرے رد عمل پہ ہریان دریان رہا۔ چاچو ویسے تو بہت سمجھ دار ہیں۔قانون اورضابطے کی بات کرتے ہیں۔ موج میں ہوں توڈسپلن کی بات بھی کرتے ہیں۔آج سیٹ بیلٹ اور اوور اسپیڈنگ پہ بھی طبعیت بگڑ گئی ہے۔ہمت کرکے اسنے کہہ دیا، یار چاچو اووراسپیڈ پہ تو چالان بنتا ہی ہے نا۔ اب اس پہ کیوں حیران ہو رہے ہیں؟ جانی میں اس بات پرحیران نہیں ہورہا کہ اووراسپیڈنگ پہ چالان ہورہا ہے۔حیران اس بات پر ہورہا ہوں کہ کراچی کی ٹریفک میں کسی کی اسپیڈ سو سے اوپر جا کیسے رہی ہے۔مجھے وہ سڑک دکھادو جس پر ایک سو بیس کی گنجائش ہے یا پھر اس سلطان گولڈن سے ملوادو جو کراچی کی ٹریفک میں ایک سوبیس پہ جارہا ہے۔بھتیجا آہستگی سے بولا، یار چاچو رش صرف آفس اور اسکول والے ٹائم میں ہوتاہے۔باقی اوقات میں تو سڑکیں خالی ہی ہوتی ہیں۔جذبات برقرار رکھتے ہوئے میں نے کہا،میرے خیال سے اس وقت ہم باقی والے اوقات میں ہی سفر کررہے ہیں۔یہ رہا گھوڑا یہ رہا میدان۔ایک سو بیس پہ جاکر دکھادو۔اگلے ایک گھنٹے میں اگر تمہیں ایک بار بھی گاڑی ایک سو بیس پہ اٹھانے کا موقع مل گیا توماموں کے کباب اور دھوراجی کا گولاگنڈا کھلاؤں گا۔

مت کریں چاچو،ایسی سڑک نکل ہی آئیگی۔جی بیٹا سڑک بالکل نکل آئے گی، مگر ایک سو بیس پھر بھی نہیں مار سکوگے۔وہ کیوں؟ وہ اس لیے کہ تم مشکل سے ایک سو پہ پہنچوگے اور آگے اتنا بڑا کھڈا آجائے گا۔ اگر کھڈا نہ آیا تو کبڑی سڑک کا کوہان آجائے گا، اس کا کیا کروگے؟ اگر منجانب اللّٰہ کھڈا نہ بھی ملا تو آگے وہ سڑک آجائے گی جس کی پندرہ سال سے اوپن ہارٹ سرجری چل رہی ہوگی۔کھڈوں اور کھدائیوں سے اگرڈیڑھ گھنٹے میں گزر بھی گئے تو آگے گٹر کھلا ہواہوگا، اسکا کیا کروگے؟اس سے بھی گزر گئے تو آگے بس اور موٹرسائیکل والے کے بیچ ماوا اور گٹکے سے بھرپور توتکار چل رہی ہوگی، اسکا کیا کرو گے؟ بھتیجے نے منہ پہ ہاتھ رکھتے ہوئے کہا،بس کردیں چاچو اپنے تو کراچی کی ایسی کی تیسی کردی۔ بیٹا میں تومہینوں میں ایک بارآتا ہوں میں کیسے ایسی کی تیسی پھیرسکتا ہوں۔اسکی ایسی کی تیسی سیاسی ضدبازیوں، مس مینجمنٹ، لاتعلقی اور قبضہ گیری نے پھیر رکھی ہے۔پنڈ دان خان کی ٹوٹی ہوئی سڑک بھی کہیں نہ کہیں حکومت کا پتہ دے دیتی ہے۔ کراچی توایسا لگتا ہے جیسے خود ہی اپناشل وجود کسی طرح شاہراہ فیصل پرکھینچ رہا ہو۔کوئی والی وارث نظر نہیں آتا۔درخت نام کو نہیں ہے۔ اگرہے تو گنجا ہے۔دوچار پتے ہیں بھی توگرد نے اسکا رنگ مٹیالا کر دیا ہے۔گفتگو یہاں تک پہنچی تولگا کہ بھتیجے کی دل آزاری ہورہی ہے۔کہانی اسلام آباد کی طرف موڑتے ہوئے میں نے کہا،اب تو خیر اسلام آباداورکراچی تقریبا برابرہوگئے ہیں۔اسلام آباد میں پچھلے دوسالوں میں کئی انڈر پاس اور کئی پل تعمیرکردیے گئے ہیں مگرٹریفک اب بھی بمپرٹوبمپر ہی چل رہا ہے۔موقع کو غنیمت جان کر بھتیجے نے ٹوک دیا،لیکن وہاں تومینجمنٹ کا مسئلہ نہیں ہے؟ اپنا سر بچانے کیلئے میں نے بڑھتی ہوئی آبادی پر لیکچردینا شروع کردیا۔ آبادی کا مسئلہ مینجمنٹ اور لاقانونیت کے مسئلے سے بھی بڑا ہے۔ تمہیں پتہ ہے اس خطے میں بڑھتی ہوئی آبادی کی سب سےزیادہ شرح ہماری ہے؟وسائل ہیں نہیں اورآبادی بڑھتی چلی جارہی ہے۔ضمیر جعفری کہتے تھے بڑے شوق سے لخت جگر نور نظر پیدا کرو، ظالمو تھوڑی سی گندم بھی مگر پیدا کرو۔ گندم ہے نہیں اور ہم بچے پیداکیے جارہے ہیں۔ بچے کھائیں گے کیا؟سرد آہ بھرتے ہوئے بمشکل گفتگو کے سحر سے نکلتے ہوئے بھتیجے نے کہا،آبادی والی بات میں وزن ہے۔مگر میں ایک اور بات سوچ رہا ہوں۔ہمارے بڑے اگرآبادی کے حوالے سے حساس ہوتے تو آج آپ دنیا میں ہوتے؟ اب جب دنیا میں ہیں تو آپکو اگلی نسل کی پڑی ہے کہ وہ کیا کھائے گی۔یہ فکر نہیں ہے کہ آپ کا بھتیجا کیا کھائے گا۔ ٹریفک جام ہے۔ راستے میں برنس روڈ پڑے گا۔وہیں چلتے ہیں۔

ٹریفک تھوڑا سا رینگنے لگا تولگا کہ دور کہیں شعلے لپک رہے ہیں۔ مولاخیر کرے کیا ہواہے۔کسی نے بتایا گل پلازہ میں آگ لگ گئی ہے۔فورا خیال آیا،چلو دیکھتے ہیں جس شہر میں دس ہزار کا چالان دو منٹ میں گھر پہنچ رہا ہے وہاں فائربریگیڈ کتنے دیر میں پہنچتی ہے۔آدھا گھنٹہ مزیدٹریفک میں پھنسے رہنے کےبعد فون پراپڈیٹ لیں تومعلوم ہواکہ سواگھنٹہ ہوگیا ہے ریسکیو ٹیم نہیں پہنچی۔پانچ گھنٹے بعد خبر آئی کہ فائربریگیڈ آگئی ہے مگراب پانی کا مسئلہ پیدا ہوگیا ہے۔تین صدی پہلے میٹروبس کیلئے جوسڑک کھودی گئی تھی وہ ریسکیوآپریشن میں رکاوٹ پیدا کررہی ہے۔فائربریگیڈ کی گاڑیاں جواب دے رہی ہیں۔اندر پچاس لوگ پھنسے ہوئے ہیں۔چھ کے مرنے کی خبرآگئی ہے۔آگ تیز ہوتی چلی جارہی ہے۔مشکل یہ نہیں تھی کہ عمارت جل رہی تھی۔ مشکل یہ تھی کہ پندرہ گھنٹے گزرنے پر بھی جلتی ہوئی عمارت کو کوئی پوچھنے والا نہیں تھا۔پوچھنے والے جب پہنچے تو عمارت ڈھے چکی تھی۔چیخنے چلانے والی ماؤں کے گلے بیٹھ چکے تھے۔ پیچھے ایک سوال رہ چکا تھا۔یہ شہر ہے؟ یہ واقعی پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہے؟ یہ کیا ہے۔کراچی اب شہر نہیں ہے۔یہ سمندر کنارے پڑی ہوئی ایک گلی سڑی لاوارث لاش ہے۔کیڑے اسے نوچ رہے ہیں۔کشتیوں سے اترنے والے قافلے ناک پہ رومال رکھ کر لاش کے پاس سے ایسے گزر رہے ہیں جیسے مرحوم کو جانتے تک نہ ہوں۔روح نہیں پھونک سکتے تو نہ پھونکو، کفنا تو دو۔دفنا تو دو۔

تازہ ترین