آسٹریلیا میں 48 گھنٹوں کے دوران شارک کے 4 حملوں کے بعد کئی ساحل بند کر دیے گئے۔
بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق شارک کے حملے کا تازہ ترین واقعہ منگل کی صبح نیو ساؤتھ ویلز (NSW) کے مڈ نارتھ کوسٹ میں پوائنٹ پلومر کے قریب پیش آیا جہاں ایک 39 سالہ سرفر کو نیشنل پارک کے کیمپ گراؤنڈ کے قریب سرفنگ کرتے ہوئے شارک نے کاٹ لیا۔
رپورٹ میں مقامی ہیلتھ ڈسٹرکٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ متاثرہ شخص کو معمولی زخم آئے تھے اور اسے واقعے کے فوراََ بعد اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ اتوار سے سڈنی اور اس کے گرد و نواح کے ساحلی علاقوں میں شارک کے حملوں کے متعدد واقعات پیش آنے کے بعد سامنے آیا جس کے باعث پولیس، لائف گارڈز اور میری ٹائم حکام نے خبردار کیا کہ کئی دنوں کی شدید بارش کے بعد سمندری حالات بدستور خطرناک ہیں۔
آسٹریلوی کیپٹل ٹیریٹری میں محفوظ انداز میں ساحل کی سیر کو فروغ دینے والی تنظیم ’سرف لائف سیونگ‘ کے چیف ایگزیکٹیو سٹیون پیئرس نے کہا کہ ساحل کے زیادہ تر حصے میں پانی کا معیار اس وقت غیر محفوظ ہے اس لیے لوگ تیراکی سے مکمل گریز کریں۔
اس سے قبل اتوار کی دوپہر سڈنی ہاربر کے نیلسن پارک کے قریب ایک 12 سالہ لڑکا شارک کے حملے میں شدید زخمی ہو گیا تھا، پیر کو سڈنی کے ناردرن بیچز میں ڈی وہائی بیچ پر ایک 11 سالہ سرفر پر بھی شارک نے حملہ کیا لیکن خوش قسمتی سے وہ محفوظ رہا اور اسی دن بعد میں ایک 27 سالہ شخص کو مینلی بیچ پر سرفنگ کے دوران شارک نے کاٹا جسے نازک حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔
مختلف ساحلوں پر شارک کے حملوں کی اطلاعات موصول ہونے کے بعد سڈنی کے ناردرن بیچز کونسل کے تمام ساحل کم از کم جمعرات تک بند کر دیے گئے۔