فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے پرال سسٹم میں بغیر انٹریز سے 2 کروڑ 13 لاکھ روپے کے ریونیو نقصان کا انکشاف سامنے آیا ہے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس اسلام آباد میں شاہدہ اختر کی زیرصدارت ہوا۔ اس موقع پر آڈٹ حکام نے بتایا کہ کسٹمز ڈیوٹی کی غلط شرحیں اور غیر منظور شدہ پی سی ٹی ہیڈنگز سسٹم میں شامل کی گئیں، چین سے درآمدی اشیا پر رعایتی ڈیوٹی کے غلط اطلاق سے خزانے کو نقصان ہوا۔
اسلام آباد کسٹمز کلیکٹوریٹ میں درآمدی اشیا کی غلط درجہ بندی کا انکشاف ہوا۔ آڈٹ حکام کے مطابق کسٹمز اور پی آر اے ایل عملہ غلط فیڈنگ کا مشترکہ طور پر ذمہ دار ہے۔
ایف بی آر حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان اور چین کے درمیان ساڑھے 5 ہزار اشیا کی تجارت ہو رہی ہے، پاکستان اور چین کی تجارت کا حجم 17 سے 18 ارب ڈالرز ہے۔ اتنے بڑے حجم کی انٹری میں چند کروڑ کی رقم کا ہندسہ لکھنے میں غلطی ہوئی۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے رکن بلال خان مندوخیل نے استفسار کیا کہ غلطی سے اس طرح کی کتنی غلطیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ پہلی بار کسٹم سروس کا افسر براہ راست گرفتار ہوا ہے۔
بلال خان مندوخیل نے کہا یہاں کسی انکوائری کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا، ہمارے ہاں دو جملے کامن ہوچکے ہیں کہ بندہ ریٹائرڈ ہوگیا یا مرگیا۔
ایف بی آر حکام نے کہا کہ مجموعی طور پر 12.58 ملین ریکور اور 8.77 ملین باقی ہیں۔ پی اے سی نے ریکوری ہونے والی رقم کی تصدیق اور باقی رقم ریکوری کرنے کی ہدایت کر دی۔