• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایران اور امریکہ کے تعلقات کئی دہائیوں سے کشیدگی، بداعتمادی اور مفادات کے ٹکراؤ کی علامت ہیں۔ شاہِ ایران کے بعد آنیوالی حکومتوں کے قیام سے یہ تعلقات ایک ایسے مرحلے میں داخل ہوئے جہاں مفاہمت کے امکانات محدود اور تصادم کے خدشات نمایاں ہوتے چلے گئے۔ اس دور کے بعد ایران نے اپنی خارجہ پالیسی میں خودمختاری اور علاقائی اثر و رسوخ کو مرکزی حیثیت دی جبکہ امریکہ نے ایران کو اپنے مشرقِ وسطیٰ کے مفادات کیلئے ایک مستقل چیلنج کے طور پر دیکھا۔امریکہ کی پالیسی زیادہ تر دباؤ پر مبنی رہی۔اقتصادی پابندیاں، سفارتی تنہائی اور عسکری دھمکیاں اس حکمتِ عملی کا حصہ رہیں۔ اسکے مقابلے میں ایران نے اس دباؤ کا جواب خودانحصاری، متبادل عالمی شراکت داریوں اور خطے میں اپنی موجودگی مضبوط بنا کر دیا۔ نتیجتاً کشیدگی کم ہونے کے بجائے مختلف شکلوں میں برقرار رہی۔ایرانی ایٹمی پروگرام اس تنازع کا مرکزی نکتہ بن گیا۔ ایران اسے پُرامن مقاصد سے جوڑتا ہے لیکن امریکہ اور اس کے اتحادی اسے سلامتی کیلئے خطرہ قرار دیتے ہیں۔ پابندیوں نے ایرانی معیشت کو شدید متاثر کیا لیکن ایران اپنی بنیادی پالیسی سے پیچھے نہ ہٹا۔اس دوران ایران کا علاقائی کردار بھی اختلاف کی ایک بڑی وجہ بن گیا۔ عراق، شام، لبنان اور یمن میں ایران کے اثر و رسوخ کو امریکہ اوراسکے اتحادی عدم استحکام کا سبب سمجھتے ہیں اورایران اسے اپنی دفاعی حکمتِ عملی کا لازمی حصہ قرار دیتا ہے۔ یہی اختلاف خلیج فارس میں بار بار خطرناک صورتحال پیدا کرتا رہا ہے۔اسی تناظر میں ایران کو اندرونی سطح پر بھی دباؤ کا سامنا ہے۔ حالیہ عرصے میں معاشی مشکلات، مہنگائی اور کرنسی کی گرتی ہوئی قدر کے باعث مختلف شہروں میں عوامی احتجاج سامنے آیا جسے حکومت نے سختی سے کنٹرول کرنے کی کوشش کی توبے چینی میں اضافہ ہوگیا۔ یہ داخلی دباؤ ایران کی خارجہ پالیسی اور عالمی مذاکراتی حکمتِ عملی پر بھی اثر انداز ہو رہا ہے۔تاہم موجودہ صورتحال کو سمجھنے کیلئے ایک اہم علاقائی تبدیلی کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا اور وہ ہے سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان کا بدلتا ہوا کردار۔ ماضی میں سعودی عرب اور ایران خطے میں ایک دوسرے کے فطری حریف سمجھے جاتے تھے۔ سعودی پالیسی واضح طور پر ایران مخالف صف بندی کا حصہ رہی۔ حالیہ برسوں میں محمد بن سلمان نے اس پالیسی میں نمایاں تبدیلی کی ہے۔اب سعودی قیادت ایران کے ساتھ کھلے تصادم کے بجائے مفاہمت اور توازن کی طرف بڑھتی دکھائی دیتی ہے۔ چین کی ثالثی میں ایران اور سعودی عرب کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی اس تبدیلی کا واضح ثبوت ہے۔ موجودہ ایران امریکہ کشیدگی میں سعودی عرب کا یہ رویہ ماضی کے برعکس ایران کیلئے ایک اہم سفارتی سہولت بن کر سامنے آیا ہے۔یہ تبدیلی امریکہ کیلئے بھی ایک نئی حقیقت ہے۔ سعودی عرب، اب ایران سے براہِ راست محاذ آرائی کے بجائے استحکام اور مفاہمت کو ترجیح دے رہا ہے۔ اس رویے نے ایران کو مکمل تنہائی میں دھکیلنے کی امریکی کوششوں کو محدود کر دیا ہے۔ہمارے لیے یقینی طور پریہ صورتحال غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ ایسے میںہم غیر محتاط صف بندی کے بجائے متوازن اور حقیقت پسندانہ خارجہ پالیسی اپنائے ہوئے ہیں۔ایک غیر جانبدارانہ تجزیہ یہ کہتاہے کہ مجموعی طور پر ایران اور امریکہ کی کشیدگی اب صرف دو ریاستوں کا معاملہ نہیں رہی۔ محمد بن سلمان کے بدلے ہوئے کردار، ایران کے اندرونی دباؤ اور خطے کی نئی سفارتی صف بندی نے اس تنازع کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ اصل سوال اب یہ ہے کہ کیا طاقت کے استعمال کو ترجیح دی جاتی ہے یا سفارت کاری کے ذریعے اس کشیدگی کو قابو میں رکھا جاتا ہے۔موجودہ صورتحال میں یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ خطے کے عوام اب مسلسل کشیدگی، پابندیوں اور غیر یقینی صورتحال سے تھک چکے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ کو درپیش اصل چیلنج عسکری برتری نہیں بلکہ سیاسی استحکام اور معاشی بحالی ہے۔ ایران اور امریکہ دونوں اپنی پالیسیوں میں لچک پیدا کرنے پر آمادہ ہوں تو تصادم کے بجائے مذاکرات کی گنجائش نکل سکتی ہے۔ محمد بن سلمان کی جانب سے مفاہمت کی طرف بڑھتا ہوا قدم اس بات کی علامت ہے کہ خطے میں طاقت کے بجائے استحکام کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ایران کیلئے بھی یہ لمحہ خود احتسابی کا ہے کہ داخلی مسائل کے حل کے بغیر خارجی محاذ پر طویل جدوجہد ممکن نہیں۔ اسی طرح امریکہ کیلئے یہ سوچنے کا مقام ہے کہ دباؤ کی پالیسی نے اب تک مطلوبہ نتائج نہیں دیے۔ عالمی سیاست اب یک قطبی نہیں رہی، اور نئی حقیقتوں کے ساتھ ہم آہنگی ناگزیر ہو چکی ہے۔ سفارت کاری کو موقع دیا جائے تو کشیدگی کے بوجھ تلے دبے اس خطے کو کسی حد تک سکون میسر آ سکتا ہے۔ بصورتِ دیگر طاقت کے کھیل کا انجام ہمیشہ کی طرح غیر یقینی ہی رہے گا۔

تازہ ترین