• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایک رات کسی تقریب سے لوٹتے ہوئے گھر کی خواتین ایک شاپنگ پلازے پر رکیں، اور’’بس دس منٹ‘‘کہہ کر بھیڑ میں اوجھل ہوگئیں۔ کپڑوں اور زیورات کی دکانوں میں سرگرداں خواتین کے ’’دس منٹ‘‘ تو ہم جانتے ہی ہیں۔ یک لخت خیال آیا کہ گاڑی میں بیٹھنے سے بہتر ہے دکان داروں اور گاہکوں کو قریب سے دیکھا جائے، ان کی باتیں سنی جائیں، ہم گاڑی سے اترے اور لبرٹی مارکیٹ لاہور کے عقب میں اس تنگ اورپر ہجوم پلازے میں داخل ہو گئے۔ پلازے میں چھوٹی چھوٹی گلیاں ہی گلیاں تھیں، سب کی سب انسانوں سے اٹی ہوئی، راہ داریوں میں’’پھٹے‘‘ تھے، ان پر شو کیس، ان میں جیولری، اور ارد گرد خواتین کا گھیرا۔ چلنے والوں کیلئے بہ مشکل تین چار فٹ جگہ بچی تھی، بھیڑ کا یہ عالم تھا کہ تِرچھا ہو کر چلنا پڑ رہا تھا، پھر بھی کوئی کاندھا ناگہانی ٹکرا ہی جاتا تھا۔ کچھ قدم چلنے کے بعد سانس لینے میں دشواری ہونے لگی۔ اسی دوران ایک کالی بلی نے تیزی سے ہمیں اوور ٹیک کیا، سامنے سے ایک صاحب سر پہ لوہے کی سیڑھی عمودی رُخ پر رکھے’’بچ کے، بچ کے‘‘ کی صدا لگاتے آ رہے تھے، ہم نے کبڑے ہو کر ان کی ہدایت پر عمل کیا، اتنے میں گھر کی عورتیں نظر آ گئیں، ہم نے انہیں’’دس منٹ‘‘یاد کرائے، وہ نقلی سونے کا سیٹ دیکھنے میں منہمک رہیں۔ اب سانس لینا دشوار تر ہو چکا تھا۔ کہیں اندر سے آواز آئی،’’جان عزیز ہے تواس پلازے سے فوراً باہر نکل جاؤ۔‘‘ ہم بلا چون و چرا باہر نکل آئے۔

دل گاڑی میں پناہ لینے کی خواہش سے معمور ہو چکا تھا، مگر گاڑی نظر نہیں آئی، ڈرائیور صاحب بھی غائب تھے۔ دائیں دیکھا، بائیں دیکھا، مگر گاڑی کا سراغ نہیں ملا۔’’دانش مندی‘‘ کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہم اسی مقام پر ایستادہ ہو گئے جہاں گاڑی سے اترے تھے تاکہ ہمیں تلاش کرنے میں اہلِ خانہ کو آسانی ہو۔ آدھا گھنٹا گزر گیا، کوئی نہ آیا تو تھک کر وہیں فٹ پاتھ پر بیٹھ گئے۔ ہم’’دس منٹ‘‘ والوں کا ’’قصیدہ‘‘ پڑھتے رہے، وقت گزرتا رہا۔ پھر آخر بھیڑ چھٹنے لگی، شور گھٹنے لگا، دکانوں کی بتیاں بجھنے لگیں۔ ’’آپ یہاں بیٹھے ہیں، ہم آپ کو پورے پلازے میں ڈھونڈ چکے ہیں‘‘یک دم ڈرائیور صاحب کی آواز آئی۔’’جہاں اترا تھا، وہیں بیٹھا ہوں‘‘ میں نے تُرش لہجے میں جواب دیا۔ ڈرائیور کے چہرے پر تشویشناک ہم دردی کے آثار ابھرے اور وہ بڑبڑایا ’’یہ وہ جگہ نہیں ہے، آپ پلازے کی ایک اور سائیڈ پر بیٹھے ہوئے ہیں‘‘۔ ذرا غور کیا تو اندازہ ہوا الطاف ٹھیک کہہ رہا تھا۔ میں اس مارکیٹ کا محلِ وقوع دہائیوں سے اچھی طرح جانتا ہوں۔ زندگی میں پہلی دفعہ اندازہ ہو’’ ا ڈس اورینٹ ایشن‘‘کسے کہتے ہیں، جانے پہچانے منظر اجنبی کیسے بن جاتے ہیں، سمتیں کیوں کر بھیس بدل لیتی ہیں۔گُل پلازہ میں آگ لگی تو یہ قصہ یاد آیا۔ سچی بات تو یہ ہے کہ اس ملک کا قریباً ہر پلازہ اپنے اندر گُل پلازہ بننے کی’’اہلیت‘‘ رکھتا ہے۔ ہم نہیں جانتے بلڈنگ لاز کس جانور کا نام ہے، عوامی عمارتوں کے داخلی خارجی راستے کیسے رکاوٹوں سے پاک رکھنے ہیں، آگ بجھانے کے آلات کیا شے ہیں اور انہیں قابلِ استعمال حالت میں کیسے رکھا جاتا ہے، اور فائر ڈرل کیا بلا ہوتی ہے۔ ہم برطانیہ میں جس یونی ورسٹی میں پڑھتے تھے وہاں باقاعدہ فائر ڈرل ہوتی تھی، ہمارے تعلیمی اداروں میں ہوتی ہے؟ یونی ورسٹی ہاسٹل میں باقاعدگی سے یہ ڈرل ہوتی تھی، کبھی چھٹی والے دن صبح صبح، کبھی ہفتےکے دوران رات گئے، اور الارم اتنا کریہہ الصوت ہوتا تھا کہ ہم جیسے کاہل بھی سخت سردی میں، بستر سے نکلتے اور سیڑھیاں اتر کر کھلے آسمان تلے کھڑے ہو جاتے تھے، اس یقین کے ساتھ کہ آگ نہیں لگی فقط تربیت ہو رہی ہے۔ کیا وطنِ عزیز میں ایسا کچھ ہوتا ہے؟ وطنِ عزیز کے جس پلازے میں (خدا نخواستہ) آگ لگے گی، گُل پلازے سے مختلف انجام کی توقع نہ رکھیں۔ ہماری تیاری ہی نہیں ہے۔ آنسوؤں سے تو آگ نہیں بجھائی جا سکتی، فقط دعاؤں سے تو جلتی ہوئی عمارتوں کو نہیں بچایا جا سکتا۔ ایسے حادثوں پر کسی بڑے نقصان سے بچنے کیلئے حکومتیں تیاری کرتی ہیں، ادارے تیاری کرتے ہیں۔یہ ریاست’’ڈس اورینٹ ایشن‘‘کا شکار ہے، یہ سمت کا تعین نہیں کر پائی، اس ریاست کا منہ کس طرف ہے؟ مشرق کہ مغرب؟ یہ بے سمتی سکولوں سے شروع ہوتی ہے اور قریہ قریہ پھیل جاتی ہے۔ ہم ابھی اس بحث میں الجھے ہوئے ہیں کہ اس ریاست بنانے کا مقصد کیا تھا، یہاں حقِ حکم رانی کس کی ہے، قانون کی عمل داری ہو گی یا رشوت اور طاقت کو استثناء دیا جائیگا؟ اس طرز کی ریاست میں شہری ایک مہمان اداکار ہوا کرتا ہے، فقط خانہ پُری کیلئے۔ اگر فلم کی شوٹنگ کے دوران کوئی مہمان اداکارمر بھی جائے تو پروڈیوسر ڈائریکٹر کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑتا، شوٹنگ جاری رہتی ہے، جگتیں چلتی رہتی ہیں، آئٹم سانگ فلمائے جاتے رہتے ہیں۔ یہ ہے ہمارے شہری کی حیثیت اور یہ ہے اس کی جان کی قیمت۔ جس ریاست میں شہری ’’ہیرو‘‘ہوتا ہے، وہاں اس کی جان محفوظ رکھنے کیلئے کثیر سرمایہ صرف کیا جاتا ہے، اسے ہر طرح کے حادثے سے بچانے کیلئے طویل تیاری کی جاتی ہے۔ اور ہماری ریاست و حکومت کی ایسی کوئی تیاری نہ تھی، نہ فی الحال ایسا کوئی ارادہ نظر آتا ہے۔ اندیشہ ہے کہ یہ آتش’’گُل‘‘ یونہی بھڑکتی رہے گی۔

تازہ ترین