ہمارے ایک دوست بہت خاص وضع کے آدمی ہیں۔ ہم یہ کالم ان کا نام لے کر لکھ سکتے تھے، مگر اصل مسئلہ تو ان کے نام ہی کا ہے، جس کی وجہ سے ہم یہ کالم لکھ رہے ہیں۔ اب آپ چاہیں گے کہ اس مسئلے کی کچھ تفصیلات بیان کی جائیں تو چلئے ہم تھوڑی بہت تفصیل بھی بیان کئے دیتے ہیں۔
ایک دفعہ ہم انہیں ملنے ان کے دفتر گئے۔ ایک کمرے کے باہر تعبیر صدیقی نام کی تختی لگی تھی، ہم الجھن میں پڑ گئے کیوں کہ ان کا نام تعبیر ہے مگر وہ صدیقی نہیں ہیں، سوچا کمرے میں جھانک کر دیکھ لیتے ہیں، جھانک کر دیکھا تو موصوف کرسی پر براجمان تھے۔ ہم نے پوچھا ’’ برادر! یہ تعبیر صدیقی کون ہے؟‘‘
بولے ” میں ہوں ‘‘ ہم نے کہا ’’ مگر تم صدیقی تو نہیں ہو !‘‘ کہنے لگے’’ میرا افسر تو صدیقی ہے !‘‘
اسی طرح ایک اور دفتر میں ان کے ٹرانسفر ہونے پر ہم ملاقات کے لئے ان کے پاس گئے تو پتہ چلا ان دنوں وہ تعبیر نقوی ہیں، وجہ دریافت کرنے کی اگرچہ ضرورت نہ تھی، لیکن معلوم کیا تو وجہ وہی نکلی جس کا شبہ تھا یعنی جس افسر کے ماتحت وہ ان دنوں کام کر رہے تھے، وہ نقوی تھے۔ایک دفعہ ہم نے انہیں دیکھا کہ پان کی گلوری منہ میں ہے، پاجامہ پہنا ہوا ہے اور بات بات پر ’’ آداب آداب ‘‘ کہتے ہیں۔ معلوم ہوا کہ موصوف ان دنوں تعبیر رامپوری کہلاتے ہیں۔
کچھ دنوں بعد ملے تو بات بات پر بے تکلفی سے ہاتھ پر ہاتھ مارتے تھے، کڑھے ہوئے کرتے کے ساتھ چوخانے والی دھوتی باندھی ہوئی تھی، اردو کی بجائے پنجابی بولتے تھے یعنی موصوف ان دنوں تعبیر جالندھری تھے!
ایک زمانے میں انہوں نے خش خشی داڑھی رکھ لی، ٹخنوں سے اونچی شلوار پہننے لگے۔ چند دنوں بعد ملاقات ہوئی تو کلین شیوڈ تھے۔ تھری پیس سوٹ پہنا ہوا تھا، ہاتھ میں پائپ تھا۔ ہم نے پوچھا ’’ برادر آپ کی داڑھی کہاں گئی ذرا اس کی ضرورت پڑ گئی تھی ‘‘ کہنے لگے ’’وہ تو افسر کے ساتھ گئی لیکن آپ کو اس کی ضرورت کیوں پڑ گئی خیریت تو ہے؟ ‘‘ ہم نے کہا ’’ ٹیلی ویژن پر تفہیم دین پروگرام میں آپ کو بلانا تھا، پروڈیوسر سے بات بھی ہو گئی ہے ‘‘ بولے ’’ کوئی بات نہیں، مہینے پندرہ دنوں تک افسر تبدیل ہونے والا ہے ‘‘
تقریباً ڈیڑھ ماہ بعد گھر پر آئے تو چہرے پر ننھی منی داڑھی اور کاندھے پر رومال تھا۔ کہنے لگے ” چلو ٹیلی ویژن اسٹیشن چلتے ہیں ‘‘ ہم نے کہا ’’ جس پروڈیوسر سے بات ہوئی تھی، اس کا تبادلہ ہو گیا ہے! ‘‘بولے تو پھر چلو نائی کی دکان پر چلتے ہیں ! "
موصوف کا تعلق کسی زمانے میں ریڈیو سے بھی تھا۔ ایک دن ہم نے کہا تم جس طرح حکومت کے پروپیگنڈے میں لگے ہوئے ہو، اگلی حکومت تمہیں الٹا ٹانگ دے گی! بولے ’’ ایسا نہیں ہو گا ہم اگلی حکومت سے صرف چوبیس گھنٹے کی مہلت مانگیں گے، ان سے کہیں گے کہ آپ نے جو بھی فیصلہ کرنا ہے ہمارے آئندہ چوبیس گھنٹے کے پروگرام سن کر کریں ‘‘ چنانچہ یہ فیصلہ ان کے حق میں تھا۔
موصوف سرکاری ملازم ہونے کی وجہ سے اگرچہ کسی سرکاری پارٹی سے باقاعدہ وابستہ نہیں، مگر ہر دور میں کسی نہ کسی سیاسی جماعت کے لئے کام ضرور کرتے رہے ہیں اور اسے حسن اتفاق ہی سمجھیں کہ ان کی پسندیدہ سیاسی جماعت بر سر اقتدار جماعت ہوتی ہے۔
ایک الیکشن کے دوران موصوف ایک سیاسی جماعت کے زبردست مخالف تھے اور مسلسل اس پر نکتہ چینی میں لگے رہتے تھے، جبکہ ان کے ایک دوست اس جماعت کے حامی تھے، نتائج والے دن یہ دونوں دوست ٹیلی ویژن کے سامنے بیٹھے تھے ، جس جماعت کے یہ مخالف تھے اس کی جیت کے آثار پیدا ہو گئے مگر انہوں نے اپنے دوست کے کاندھوں کو مسرت سے جھنجھوڑا اور چلا کر کہا ’’ پیارے ہم جیت رہے ہیں! ‘‘
جن دنوں ہمارے یہ دوست ’’ روٹی کپڑا اور مکان ‘‘ کے پرچارک تھے، ان دنوں اگر کبھی ان کے دفتر فون کیا جاتا تو بتایا جاتا کہ صاحب کسی کچی آبادی کے معائنے پر گئے ہوئے ہیں، ان دنوں فون کریں تو جواب ملتا ہے ’’ صاحب نماز پڑھ رہے ہیں !‘‘
ہمارے یہ دوست سول سروس سے وابستہ ہیں اور انہیں ایک مثالی بیورو کریٹ سمجھا جاتاہے۔