کراچی(اسٹاف رپورٹر) ایم کیو ایم پاکستان نے 18 ویں ترمیم کو ملک کے لیے ناسور اور کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کا مطالبہ کردیا، جمعرات کومتحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سینئر مرکزی رہنما و وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے مرکز بہادر آباد میں ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئےکہا کہ18ویں ترمیم صرف کرپشن اور نسل کشی کا ذریعہ بن چکی ہے جس سے عوام کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا۔ کراچی کو آئین کے آرٹیکل 148 اور 149 کے تحت فوری طور پر وفاق کے حوالے کیا جائے کیونکہ سندھ کی انتظامیہ مکمل طور پر مفلوج ہو چکی ہے اور وفاقی حکومت پیپلز پارٹی کی ناراضگی کے خوف سے اس شہر کے لیے اقدامات کرنے سے قاصر ہے، ایم کیو ایم پاکستان نے 27 ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے اپنی حکمت عملی طے کر لی ہے اور اگر شہری علاقوں کے حقوق کے لیے ہماری ترامیم منظور نہ ہوئیں تو ہم استعفیٰ دینے سے بھی گریز نہیں کریں گے، کیونکہ ہم مزید لاشیں اٹھانے اور اپنے لوگوں کی نسل کشی ہوتے دیکھنے کی سکت نہیں رکھتے، انہوں نےکراچی کی موجودہ صورتحال اور سندھ حکومت کی کارکردگی پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے سانحہ گل پلازہ کے شہداء کے لیے دعائے مغفرت اور لواحقین سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کراچی میں انسانی جانوں کا زیاں ایک معمول بن چکا ہے اور کوئی بھی اس بات کی ضمانت دینے کو تیار نہیں کہ یہ شہر کا آخری سانحہ ہوگا۔ کبھی معصوم بچے کھلے گٹروں میں گر کر مر رہے ہیں تو کبھی بلند و بالا عمارتیں انتظامیہ کی کرپشن کی وجہ سے مسمار ہو رہی ہیں، پیپلز پارٹی کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ 18 سال سے سندھ پر حکمران ٹولہ اپنی ناکامیوں کا ملبہ ایم کیو ایم پر ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے، حالانکہ گزشتہ کئی سالوں سے میئر، صوبائی حکومت اور وفاق میں شراکت داری ان ہی کی ہے۔