• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ہڈیوں کے جوڑ میں موجود ٹشوز کو دوبارہ ڈیولپ کرنے کا طریقہ دریافت

سائنسدانوں نے ہڈیوں کے جوڑ میں موجود ٹشوز (کارٹیلیج) کو دوبارہ تیار کرنے کا طریقہ دریافت کرلیا ہے۔ یہ طبی دریافت گٹھیا (آرتھرائٹس) کی بیماری کے علاج میں ایک انقلابی پیشرفت ثابت ہوگی اور اس سے لاکھوں افراد کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔

سائنسدانوں کی جانب سے ایک اہم پروٹین کی اس دریافت سے اب بڑھتی عمر میں زخمی گھٹنوں کا علاج اور گٹھیا سے بچاؤ ممکن ہوگیا ہے۔ گٹھیا ایک عام بیماری ہے، جو جوڑوں میں درد اور سوزش کا باعث بنتی ہے، دنیا بھر لاکھوں افراد اس سے متاثر ہوتے ہیں جبکہ اس وقت اس کا کوئی مکمل علاج موجود نہیں ہے۔

تاہم امریکی ریاست کیلیفورنیا میں واقع اسٹینفورڈ یونیورسٹی کے ماہرین نے ایک نئی دوا تیار کی ہے جو عمر سے متعلق کارٹیلیج (ہڈیوں کے جوڑوں کے ٹشوز) کے نقصان کو ختم کرکے ٹشوز کو دوبارہ ڈیولپ کرسکتی ہے، جس سے چوٹ کے بعد گھٹنے میں گٹھیا کا تدارک ممکن ہے۔

جوڑوں کے ٹشوز کے پھٹنے سے چوٹ لگ سکتی ہے، جو اکثر کھیلوں کے دوران شدید دھچکے یا گھٹنے کے مڑنے کی وجہ سے ہوتا ہے۔ ایک بار جب کارٹلیج (ٹشوز) کو نقصان پہنچ جائے تو یہ خود بخود ٹھیک نہیں ہو سکتا۔ اس سے درد، سوجن اور اکڑن پیدا ہو سکتی ہے اور ہڈیاں آپس میں رگڑنے لگتی ہے، جو جوڑ کی شکل بدل دیتی ہے اور ہڈیوں کو ان کی معمول کی جگہ سے باہر کر دیتی ہے۔

تاہم سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اگر دوا کو براہِ راست متاثرہ جوڑ میں انجیکٹ کیا جائے تو یہ ٹشوز کی تجدید کو متحرک کر دیتا ہے، جو مستقبل میں ایسی تھراپیز کی طرف اشارہ کرتا ہے جو جوڑ کی سرجری کا متبادل بن سکتی ہیں۔

اس تحقیقی ٹیم کی سربراہ اور  ماہر مائیکرو بائیولوجی اور امیونولوجی پروفیسر ہیلن بلاؤ نے کہا کہ یہ بالغ ٹشو کو دوبارہ پیدا کرنے کا ایک نیا طریقہ ہے اور اس میں عمر رسیدگی یا چوٹ کی وجہ سے ہونے والے گٹھیا کے علاج کے لیے نمایاں طبی امکانات موجود ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ لاکھوں افراد عمر کے ساتھ جوڑوں کے درد اور سوجن کا سامنا کرتے ہیں اور یہ ایک بہت بڑی طبی ضرورت ہے۔

صحت سے مزید