• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

’’آپ انسانی حقوق پر کام کرتے ہو نا‘‘ درمیانی عمر کے اس خوش لباس شخص نے کمرے میں داخل ہوتے ہی سوال داغ دیا۔جی ادنیٰ سا طالب علم ہوں اور اپنی سی کوشش کرتا ہوں،مجھے اس کے اس طرح سے داخل ہونے اور بغیر کسی تمہید کے مخاطب کرنے پر حیرت تو ضرور ہوئی لیکن جواب دیتے ہی بن پڑی۔آپ انسانی حقوق کی کیوں بات کرتے ہو؟ اس نے دوسرا سوال کر ڈالا۔

میں ان حقوق کی بات اس لیے کرتا ہوں کہ جس قدر ممکن ہو میں اپنے ساتھی انسانوں کی تکالیف کم کروں، خاص طور پر ان طبقات کی جو خود اپنی بات نہیں کر سکتے، طاقتور کے مقابلے میں مظلوم کا ساتھ دینا چاہتا ہوں۔اس دفعہ میرا جواب سن کر میرے بِن بلائے مہمان کے سنجیدہ چہرے پر طنزیہ مسکراہٹ اُمڈ آئی۔تو کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ جانور بھی ذی روح ہوتے ہیں، ان کا خون بھی سرخ ہوتا ہے، ان کا دل بھی دھڑکتا ہے، ان کو بھی تکلیف ہوتی ہے، وہ بھی طاقتور کے مقابل ظلم کا شکار ہیں، وہ ایک ہی سانس میں یہ سب کچھ کہہ گیا۔

آپ کہنا کیا چاہ رہے ہیں؟ مجھے اب گفتگو میں دلچسپی محسوس ہونے لگی۔کہنا یہ ہے کہ آپ جیسے نام نہاد انسانی حقوق کے علمبرداروں اور دانشوروں کو جانوروں کے حقوق پر بھی بات کرنا ہوگی، وہ خود تو اپنے لیے آواز اٹھا نہیں سکتے۔ ہمارے ملک میں ان کو حقوق دینا تو کُجا ان پر ظلم ہی رک جائے تو بڑی بات ہے۔’’میں آپ سے کُلی اتفاق کرتا ہوں کہ جانوروں کے ساتھ حسنِ سلوک کے حوالے سے ہمارا ریکارڈ کچھ اچھا نہیں بلکہ باقاعدہ برا ہے لیکن آپ کس پہلو کی نشاندہی کرنا چاہ رہے ہیں؟‘‘ ان کے حواس اب کسی حد تک پرسکون ہو چکے تھے اور وہ سامنے دھری کرسی پر نشست افروز ہو گئے۔اگر آپ برا نہ منائیں تو اپنا تعارف بھی کروا دیں، میں نے موقع غنیمت جانا۔ ان صاحب نے اپنا نام بتایا اور کہنے لگے کہ انہوں نے بیرونِ ملک سے جانوروں کی نفسیات اور رویوں پر ماسٹرز کر رکھا ہے۔ یہ بھی بتانے لگے کہ پاکستان میں شاید ہی کوئی اور شخص ہو جس نے یہ ڈگری حاصل کر رکھی ہو۔ ان میں میری دلچسپی اور بھی بڑھ گئی۔

’’آپ کو اندازہ ہے کہ جانور جبلی طور پر آزاد منش ہوتے ہیں۔ ہم انسان جب ان کو پکڑ کر پنجروں میں قید کرتے ہیں تو انہیں ان کے جبلی تقاضوں سے محروم کر دیتے ہیں جس سے وہ بھی انسانوں کی طرح ڈپریشن اور دیگر ذہنی عوارض کا شکار ہو جاتے ہیں۔ وہ سارا دن پنجروں میں پڑے چڑیا گھر آنے والے لوگوں کی تفریح کا سامان بنتے رہتے ہیں، گویا دن بھر ان کی نِجی زندگی میں مداخلت ہوتی رہتی ہے اور انہیں آرام اور سکون کا موقع نہیں ملتا۔ یہ قید، یہ اکلاپا اور اوپر سے ہر وقت کی مداخلت ان کے ذہنی عوارض کو اور بھی بڑھا دیتی ہے۔ کاون ہاتھی اور رانو ریچھ کے معاملات تو آپ تک میڈیا کی وساطت سے پہنچے ہوں گے۔ وہ تو خوش قسمت تھے کہ ان کی خبر نکل گئی ورنہ پاکستان کے طول و عرض میں قید ہر چھوٹے بڑے جانور کی یہی بِپتا ہے۔‘‘وہ روانی سے بولے چلے جا رہے تھے،’’ ہونا تو یہ چاہیے کہ چڑیا گھر بند کر کے وائلڈ لائف پارک بنائے جائیں جہاں ان جانوروں کو قدرتی ماحول میں پنپنے کا موقع دیا جائے۔ ہاں مشاہدے اور سیکھنے کی غرض سے کڑی شرائط کے ساتھ انسانوں کو بھی محدود رسائی دی جا سکتی ہے۔ جب تک ایسا انتظام نہیں ہو جاتا کم از کم یہ تو کیا جا سکتا ہے نا کہ ہفتے میں ایک دو روز چڑیا گھر بند کیے جائیں تاکہ ان جانوروں کو بھی سکون کا سانس نصیب ہو اور ان کی صحت کسی حد تک بحال ہو سکے۔ اس کے برعکس اب فیصلہ یہ ہوا ہے کہ لوگوں کی تفریح کے لیے چڑیا گھر رات کو بھی کھلا کرے گا۔ مہنگے ٹکٹ کے عوض وہ نہ صرف مصنوعی روشنیوں میں جانوروں کا مشاہدہ کر سکیں گے بلکہ موسیقی اور کھانے پینے سے بھی محظوظ ہو سکیں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جانور رات کو بھی آرام نہیں کر سکیں گے۔‘‘

وہ خبر میری نظر سے بھی گزری ہے، اس کی تفصیل میں لیکن اس بات کا ذکر بھی تھا کہ یہ معاملہ صرف رات کو جاگنے اور سرگرم ہونے والے جانوروں تک محدود ہوگا۔ میں نے انہیں تسلی دینے کی کوشش کی۔

’’یار آپ کمال کرتے ہیں، آپ رات کے اوقات میں ہونے والے شور شرابے کو صرف چند جانوروں اور پنجروں تک کس طرح محدود کر سکتے ہیں؟ باقی جانور کیا رات کو بھی آرام نہ کریں؟ اور جہاں تک آپ کا یہ کہنا ہے کہ یہ اسکیم محض رات کے جانوروں تک محدود ہوگی، مجھے یہ بتا دیں کہ رات کے جانوروں کو اپنی سرگرمیوں اور جبلی تقاضوں کے لیے چکا چوند روشنی چاہیے ہوگی یا اندھیرا؟ اور آپ یہ کیسے یقینی بنائیں گے کہ دن میں جب چڑیا گھر لوگوں سے بھرا ہوا ہوتا ہے، رات کے جانور آرام کر سکیں؟‘‘ اضطراب کی شدت سے مہمان کے ہاتھ کانپنے لگ گئے۔ وہ اپنی نشست سے اٹھ کھڑے ہوئے اور یہ کہتے ہوئے کمرے سے نکل گئے کہ آپ کی تفریح اور آمدن کا بندوبست ہونا چاہیے، جانوروں کی زندگی چاہے جہنم بن جائے، کمزور جو ٹھہرے!

تازہ ترین