محکمہ بورڈز و جامعات کو سیاسی اور سفارشی بنیادوں پر لگائے گئے 2 پرو وائس چانسلر مہنگے پڑ گئے۔
سندھ ہائیکورٹ نے لیاقت میڈیکل یونیورسٹی جامشورو کی ریٹائرڈ پروفیسر اور 34ویں نمبر پر آنے والے جونیئر پروفیسر ریاض احمد راجہ کے خلاف فیصلہ دے دیا ہے۔
عدالت عالیہ کے جج عدنان الکریم میمن کے فیصلے کے مطابق درخواست گزار سابق پرو وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر سیما ناز ریٹائرمنٹ کے بعد اس عہدے پر برقرار رہنے کی قانونی طور پر مجاز نہیں تھیں۔
عدالت نے قرار دیا کہ سندھ یونیورسٹیز لاز (ترمیمی) ایکٹ 2013 کے تحت پرو وائس چانسلر کی تقرری صرف حاضر سروس پروفیسرز تک محدود ہے اور ریٹائرمنٹ کے بعد کسی انتظامی عہدے پر برقرار رہنے کا کوئی قانونی حق باقی نہیں رہتا۔
عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ پرو وائس چانسلر کی مدت چار سال مقرر ہے، تاہم یہ مدت عمر ریٹائرمنٹ کے بعد خود بخود جاری نہیں رہ سکتی۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ریٹائرمنٹ کے ساتھ ہی عہدہ رکھنے کا قانونی جواز ختم ہو جاتا ہے، اس لیے ایسی صورت میں نہ تو شوکاز نوٹس ضروری ہے اور نہ ہی سماعت کا حق پیدا ہوتا ہے۔
فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ ڈاکٹر ارشد حسین ابڑو کی پرو وائس چانسلر کے طور پر تقرری وزیر اعلیٰ سندھ کے آئینی و قانونی اختیارات کے تحت کی گئی، تاہم یہ اختیار مطلق نہیں بلکہ یونیورسٹی قوانین، یونیورسٹی کوڈ اور سینیارٹی کے اصولوں کا پابند ہے۔
عدالت کے مطابق سینیارٹی کو بلا جواز نظرانداز کر کے کسی کم سینئر امیدوار کی تقرری قانونی سوالات کو جنم دے سکتی ہے۔
عدالت نے معاملے کو حتمی طور پر نمٹاتے ہوئے جامعہ کے سنڈیکیٹ کو ہدایت دی کہ وہ سینیارٹی کے اصول کے مطابق اہل، موزوں اور سینئر ترین پروفیسرز کے نام سربمہر لفافے میں مجاز اتھارٹی کو ارسال کرے، تاکہ قانون کے مطابق ازسرِ نو تقرری پر غور کیا جا سکے۔ عدالت نے حکم دیا کہ یہ پورا عمل ایک ماہ کے اندر مکمل کیا جائے اور حتمی فیصلہ میرٹ کی بنیاد پر کیا جائے۔