ہائر ایجوکیشن کمیشن آف پاکستان (ایچ ای سی) کے سوشل میڈیا پر وائرل ایک نوٹیفکیشن نے پنجاب کے طلباء کو الجھن میں ڈال دیا۔
سوشل میڈیا پر وائرل اس نوٹیفکیشن میں دعویٰ کیا گیا کہ پنجاب کے سرکاری اور نجی کالجز اور یونیورسٹیز کے طلباء کو امتحان میں بیٹھنے کی اجازت دینے کے لیے حاضری کی شرط ختم کر دی ہے۔
سوشل میڈیا پر وائرل نوٹیفکیشن کا دعویٰ
نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ تعلیمی ادارے طلباء کو حاضری میں کمی کی بنیاد پر امتحانات میں بیٹھنے سے نہ روکیں۔
نوٹیفکیشن میں تعلیمی اداروں کو طلباء پر حاضری سے منسلک جرمانے عائد کرنے سے بھی روک دیا گیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق ہدایات پر عمل نہ کرنے والے تعلیمی اداروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی اور نوٹیفکیشن پر سیکشن افسر بابر خان گوندل کا نام اور دستخط بھی موجود ہیں۔
حقیقت کیا ہے؟
ہائر ایجوکیشن کمیشن آف پاکستان (ایچ ای سی) نے اپنے بیان میں سوشل میڈیا پر وائرل اس نوٹیفکیشن کو جعلی قرار دے دیا ہے۔
بیان میں خبردار کیا گیا کہ سوشل میڈیا پر جو نوٹیفکیشن وائرل ہے وہ ایجوکیشن کمیشن نے جاری نہیں کیا اس لیے محتاط رہیں اور ایسی غیر تصدیق شدہ معلومات کو آگے شیئر کرنے سے گریز کریں۔
ایچ ای سی نے تمام متعلقہ فریقوں کو مشورہ دیا کہ وہ اعلیٰ تعلیمی پالیسیوں اور ضوابط سے متعلق اپ ڈیٹس کے لیے صرف آفیشل ویب سائٹس اور اس کے تصدیق شدہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر انحصار کریں۔