تیاری تو بہت عرصے سے کی جارہی تھی مگر اب کھچڑی تیار ہے ،بوتل سےجن باہر آنے ہی والا ہے اہل حَکم اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ اگر نئے صوبے نہیں بنتے تویہ ملک چل ہی نہیں سکتا مقتدرہ میں یہ سوچ گزشتہ کئی برسوں کی بحث وتمحیص کے بعد پیدا ہوئی ،نون ابھی ہاں اور ناں دونوں کے درمیان ہے جبکہ پیپلز پارٹی فی الحال اس تجویز کو نقصان دہ سمجھتی ہے۔ اہل حکم نئے صوبےبنانےکو اختیارات کے ارتکاز اور فنڈز کے نیچے تک پہنچنے کیلئے اکسیراعظمPanacca of all illsیعنی فائدہ مند سمجھتے ہیں جبکہ اس کے مخالف نئے صوبوں کی تشکیل کو ملک توڑنے کی پہلی آئینی سیڑھی قرار دیتے ہیں۔
نئے صوبے بنانے کے حامی اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی کا واحد راستہ یہی سمجھتے ہیں اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ صوبے خود اور انکے وزیر اعلیٰ اس منصوبے کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں کیونکہ موجودہ صورتحال میں سارا بجٹ وزیر اعلیٰ کی ذاتی صوابدید پر ہوتا ہے اور سارے اختیارات بھی اسی کے ماتحت ہوتے ہیں یہی وجہ ہے کہ خاندانی وراثتوں اور بڑے خاندانوں کی چاندی ہے مالی وسائل بھی انکے پاس ہیں سیاست بھی انکے گھر کی باندی ہے اور اختیارات بھی ان ہی کے چلتے ہیں مڈل کلاس لیڈر شپ تبھی آسکتی ہے جب اقتدار کے چار بڑے مرکز صوبے تقسیم ہوںاور انکی جگہ ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز صوبے بنائے جائیں ڈویژنل کمشنرچیف سیکرٹری اور ڈی آئی جی ، وہاں کے آئی جی بن جائیں منتخب نمائندہ بطور وزیر اعلیٰ انکا سربراہ ہو۔ اس سے نئی قیادت ابھرے گی لیڈر شپ کو تجربے کا موقع ملے گا اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی ہوگی اور یوں تاریخ میں پہلی بار ملک بھر میں یکساں ترقی ہوسکےگی تخت لاہور یا تخت پشاوراورتخت کراچی کے علاوہ چھوٹے شہروں میں بھی ترقی کے ثمرات پہنچیں گے۔ ریاست اور صوبے کا کنٹرول موثر ہوجائے گا اور سیاست میں قومی سطح پر بھیڑ چال کا خاتمہ ہوگا مقامی مسائل کو حل کرنے پرتوجہ زیادہ ہوگی اور سیاست بازی میں وقت ضائع کرنے سے توجہ ہٹے گی۔ نون میں کچھ لوگ اس آئیڈیا کے حامی ہیں جبکہ باقی متذبذب ہیں کہ پنجاب تقسیم ہوگیا تونون کی سیاسی طاقت ختم ہوجائے گی پیپلز پارٹی پنجاب کی تقسیم کی حامی ہے مگر دیگرصوبوںکی تقسیم کے خلاف ہے مگر پیپلز پارٹی کو سمجھایا گیا ہے کہ نئے صوبے لسانی اور مذہبی شناخت پر نہیں بلکہ انتظامی بنیاد پر تقسیم ہونگے اور پیپلز پارٹی کو اضافی طور پرپنجاب میں دوصوبوں کی وزارت اعلیٰ بھی مل سکتی ہے۔ آخری خبریں آنے تک پیپلز پارٹی کے تحفظات برقرار ہیں۔
نئے صوبے بنانے کے مخالف اس تجویز کو ملک کے لئے زہر قاتل سمجھتے ہیں انکے خیال میں یونانی المیہ نگار سوفوکلیز کے مشہور کردار اڈیپس کی طرح صاف نیت اور اچھے ارادے رکھنے کے باوجود اسکے نتائج ملک کوتوڑنے اور حصے بخرے کرنے پر منتج ہونگے۔ روسی صدر میخائل گورباچوف نے جب سوویت یونین میں گلاسنوٹ( شفافیت) اور پرسیٹاریکا(اصلاحات) شروع کیں تو دنیا بھر میں انہیں سراہا گیا مگر نتیجہ یہ نکلا کہ سوویت یونین جیسی عظیم طاقت ٹوٹ گئی کام تو اصلاح اور شفافیت کاتھا نتیجہ انہدام کی صورت نکلا۔ نئے صوبوں کے مخالف اختیارات اور فنڈز کی نچلی سطح پر منتقلی کے آئیڈیا سے اتفاق کرتے ہوئے نئے صوبے بنائے بغیر اختیارات کو ضلعی سطح پر منتقل کرنے کی دلیل دیتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ پاکستان کی دنیا میں انفرادی حیثیت ہے باقی ریاستوں میں ملکوں نے صوبے بنائے ہیں جبکہ ہمارے ملک کو صوبوں نے ملکر بنایا ہے اور خدا کی طرف سے ایسی تقسیم ہے کہ فیڈریشن میں توازن قائم ہے۔ ان کا نقطہ نظر ہے کہ اگر کراچی ڈویژن کو صوبہ بنادیاجاتا ہے اور کل کلاں کو پھر الطاف حسین کے حامی جناح پور کی سٹی اسٹیٹ بنانے کی کوشش کریں تو انہیں متوازن کرنے والی کوئی طاقت نہیں ہوگی۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ سیاست میں ہارجیت ہوتی رہتی ہے دیہی سندھ میں اگر پیپلز پارٹی ہار گئی اور جئے سندھ جیت گئی تو سندھو دیش بنانا انکے لئے تو مشکل نہ ہوگا۔ صوبے میں اکثریت حاصل کرکے وہ قراردادپاس کرکے ملک آزاد کرسکتے ہیں۔ یہی دلیل بلوچستان کی بلوچ بیلٹ کے لئے دی جاتی ہے کہ وہاں تو پہلے ہی امن وامان بہت خراب ہے انکو نیا صوبہ مل گیا تو آزاد بلوچستان کی راہ ہموار ہوگی۔ پنجاب کی تقسیم پر بھی بالخصوص صوبے کے بائیں بازو اور پنجابی شاؤنزم کے حامیوں کے شدید تحفظات ہیں وہ سندھ اور پنجاب کی تقسیم کو تاریخ اور ثقافت کا قتل قرار دیتے ہیں۔
دومتضاد نقطہ ہائے نظرہیں۔ اہل حکم انتظامی بیماریوں کی دوا یعنی اکسیر اعظم نئے صوبوں کی تشکیل کو سمجھتے ہیں جبکہ دوسری طرف اختلاف کرنے والے نئے صوبوں کو ایک نیا پواڑا یا زہر سمجھتے ہیں جس سے ملک کی بنیادیں کھوکھلی ہوجائیں گی ایک تیسری رائے بھی موجود ہے کہ جنرل مشرف کا بلدیاتی نظام لاکرنئے صوبے بنانے کی بجائے اضلاع کو صوبوں جیسے اختیار دیدیے جائیں جبکہ اس نظام پر اعتراض کرنےوالوں کے نزدیک ضلع چھوٹا یونٹ ہے بہتر ہوگا کہ ڈویژن کو انتظامی تقسیم کی بنیاد بنایا جائے ڈویژن کو ایسے باصلاحیت افسروں، انجینئروں اور معاشی ماہرین کی ضرورت ہوگی جس سے کہیں بھی محرومی نہ ہو اور سارے انتظامی یونٹ مساوی طور پر ترقی کرسکیں۔پیپلز پارٹی کو تیار کیا جارہا ہے کہ اگر ایک طرف وہ کراچی کوکھوتے ہیں تو پنجاب سے دوصوبے انہیں مل سکتے ہیں تاحال پیپلز پارٹی کسی بھی صورت کراچی کو سندھ سے الگ کرنے پرتیار نہیں پیپلز پارٹی این ایف سی پرتو بات چیت کرنے کو تیار ہے سندھ میں نئے صوبے بنانے پر بالکل تیار نہیں۔اہل حکم کے خیال میں کراچی کو الگ سے صوبہ بنانا یا وفاقی علاقہ بنانے سے وہاں رکی ہوئی ترقی کی رفتار تیز ہوگی۔
اہل حکم سے اختلاف کرنے والے متنبہ کرتے ہیں کہ صدیوں کے طے شدہ نظام کو توڑنے سے گورباچوف جیسی تباہی ہوسکتی ہے ان کا کہنا ہے کہ پاکستان ایک تکثیری ملک ہے جہاں مختلف قومیں مذاہب اور لسانی گروپ رہتے ہیں اور اتفاق سے اس وقت انہوں نے ایک دوسرے کو متوازن کررکھا ہے۔ سندھ میں اردو بولنے والوں کو سندھی بولنے والوں نے متوازن کیا ہوا ہے بلوچستان میں بلوچ اور پشتون کا لسانی توازن ہے جس سے ملک مضبوط ہے پختون خوا میں ہزارہ اور پشتون بیلٹ کا توازن ہے پنجاب میں سرائیکی اور پنجابی ایک دوسرے کو متوازن کرتے ہیں اس رائے والے کہتے ہیں کہ اس قدرتی توازن کو چھیڑا گیا تو پاکستان کے حصے بخرے کرنے کی راہ ہموار ہو جائے گی۔
فی الحال پنجاب میں نئے صوبے بنانے کے حوالے سے کوئی بڑا اختلاف نہیں لیکن تقریباً 300سال سے موجود خطہ پنجاب تقسیم ہوا تو اسکے سیاسی، نفسیاتی اور سماجی اثرات ہونگے پنجاب کی طاقت اور بالا دستی دودھاری تلوار ہے اگر بالادستی کی وجہ سےچھوٹے صوبوں کی طرف سے استحصال کا الزام لگتا ہے تو پنجاب کی قوت ہی نے ملک کو یکجا رکھا ہوا ہے پنجاب کے اندر بھی اب ایسی آوازیں اٹھ رہی ہیں جو سندھ کی طرح پنجاب کو بھی ناقابل تقسیم تاریخی اکائی سمجھتی ہیں۔
سب تیار رہیں نئے صوبوں والا معاملہ منظر عام پر آنے والا ہے75سال بعد انتظامی تقسیم میں ردوبدل پر گفتگو تو بہت ہوچکی اس کی حتمی شکل کیا ہوگی یہ توآنے والے دنوں میں ہی معلوم ہوگا۔