گرین لینڈ کے ہمسائے اور امریکہ کے نشانے ،ڈنمارک سے خبر آئی ہے کہ ڈنمارک ہی کے ایک سپوت ڈاکٹر lanay westergard نے اپنے ساتھی سائنس دانوں کے ساتھ مل کر آئن اسٹائن کی تھیوری condensation کی مدد سے سورج کی روشنی کی رفتار کو کم کرنے میں کامیابی حاصل کر لی ہے ڈاکٹر لینی(lanay )نے اپنی اس تھیوری کا نام بھارتی سائنسدان شندر ناتھ بوس اور آئن اسٹائن کے نام پر رکھا ہے ان دونوں سائنس دانوں نے اپنے مطالعے کی بنیاد پر کہا تھا کہ سورج کی روشنی کی رفتار کو کم کیا جا سکتا ہے اور یہ بات طے ہے کہ ابھی دنیا میں روشنی کی رفتار سے زیادہ رفتار کسی چیز کی نہیں ہے سائنس دانوں نے ایک خاص پروسیس کے ذریعے روشنی کی رفتار 71 کلو میٹر فی گھنٹہ کر دی ہے ۔
دیکھنے والی بات یہ ہے کہ انسانی جسم کے سب سے اونچے اور اوپر والے حصے میں موجود ایک چھوٹا سا دماغ کیسی کیسی چیزوں کو اپنے بس میں کر لیتا ہے اور اس سے کیا کیا استفادہ کرتا ہے یہی دماغ کبھی چاند اور مریخ پر پہنچنے کی بات کرتا ہے تو کبھی ایک چھوٹے سے کمرے میں بیٹھ کر انٹرنیٹ کے ذریعے ساری دنیا کی خبر لے لیتا ہے کبھی اپنے مقام پر بیٹھے بٹھائے لاکھوں میل دور اپنے دشمن پر وار کر دیتا ہے۔
یہ دماغ ہی کا کمال ہے کہ کل تک جو سفر مہینوں میں طے ہوتے تھے وہ آج گھنٹوں اور منٹوں میں طے ہو رہے ہیں یہ سائنس ہی کا کمال ہے کہ سورج جو کہ ایک سیارہ ہے اور سائنسی نظریے کے مطابق ہزاروں سیاروں میں سے ایک سیارہ ہے ان دنوں نئی کھوج اور ریسرچ کی بدولت سورج اور دوسرے سیاروں کے متعلق نئی نئی باتیں اور معلومات سامنے آ رہی ہیں جیسا کہ ثابت ہو چکا ہے کہ کچھ سیارے ایسے بھی ہیں جن کی روشنی کو سطح زمین تک پہنچنے میں کئی ہزار سال کا عرصہ درکار ہے۔
ایک خیال لگ بھگ تین سو برس سے انسان کے ذہن پر مسلط ہے کہ مادہ اور توانائی دو الگ الگ چیزیں ہیں البتہ ان دو اشیا کے درمیان ایک رشتہ یا تعلق ضرور ہے آج کے ایٹمی دور میں سائنس نے اس خیال کو ایک دم بدل دیا ہے اور یہ ماننے پر مجبور کر دیا ہے کہ مادہ و توانائی ایک ہی شے کے دو مختلف روپ ہیں آج کل یہ خیال بھی خیالِ خام ثابت ہو گیا ہے کہ مادہ صرف قدرت ہی کی دین ہے آج مادہ کو ریڈیائی شعاع سے پیدا کیا جا سکتا ہے اور آئن اسٹائن نے نظریہ اضافت دے کر ہر ایک کو حیرت کدہ میں گم کر دیا ہے کہ کائنات میں ہر شے اضافی ہے یعنی آپ کسی شے کو دیکھ کر یہ دعویٰ نہیں کر سکتے کہ آپ جو کچھ دیکھ یا سمجھ رہے ہیں وہی درست یا حرف آخر ہے وہ شاید اس سے مختلف بھی ہو سکتی ہے جو کچھ آپ کو نظر آرہی ہے یہی وجہ ہے کہ سائنس پرانی تھیوریوں اور فارمولا کی جگہ نئی اور ٹھوس حقیقتوں کو جگہ دیتی آئی ہے اور دیتی رہے گی اور لطف کی بات یہ ہے کہ سائنس سب کچھ منطق اور ناپ تول سے دیتی ہے چنانچہ اب لوگوں کے سوچنے کا انداز بدل گیا ہے یعنی سائنسی ہو گیا ہے۔
اب سوچنے کا ڈھنگ زیادہ تر اس بات پر منحصر ہے کہ انسان کیا دیکھ سکتا ہے کیا محسوس کر سکتا ہے اور کیا مشاہدہ کر سکتا ہے اس رویےکو سائنس ہی نے جنم دیا ہے اور اس کا مطلب ہے کہ انسان کا دنیا کو ایک خاص نظر سے دیکھنا۔
سائنس کی ایک اہمیت اور بھی ہے اس اہمیت کا دارومدار اس پر ہے کہ سائنس کس حد تک ایک عام آدمی کی عقل اور سوجھ بوجھ کے دریچے کھولتی ہے یا نئے رشتے قائم کرنے میں کہاں تک معاون بنتی ہے ان نئے نئے پیدا کیے گئے رشتوں سے ایک نئی قوت کا احساس ہوتا ہے عام طور پر یہ تسلیم کیا جاتا ہے کہ سائنس کا مقصد ہماری سوجھ بوجھ اور علم میں اضافہ کرنا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہمیں ایک نئی قوت کا احساس بھی ہوتا ہے کہ جو جذبہ انسان کو بھرپور عمل کے لیے تیار کرتا ہے وہ سائنس سے پیدا ہوتا ہے اس اعتبار سے جو لوگ زندگی میں عملی زندگی پر زور دیتے ہیں وہ صحیح معنو ں میں سائنس دان کہے جا سکتے ہیں۔ سائنس ہماری مالی اقتصادی اور سماجی ترقی میں بڑا ہاتھ بٹا سکتی ہے ویسے بھی کتنے موضوعات ایسے ہیں جو دراصل ہماری روز مرہ زندگی کے موضوعات ہیں ایسی زندگی جس میں ہم روزانہ نشونما پاتے ہیں زندہ رہتے ہیں سانس لیتے ہیں ایسے موضوعات ہماری زندگی سے الگ تصور نہیں کیے جا سکتے چنانچہ ہمارے ارد گرد جس زاویے میں ڈھنگ سے سائنس کا عمل یا اس کا رشتہ ہماری سماجی یا گھریلو زندگی سے جڑتا ہے اس کا علم ہمارے لیے از حد ضروری ہے ۔
پرانے زمانے میں سائنسی عمل کو شخصی ملکیت سمجھا جاتا تھا آجکل اس کے معنی خاصے بدل چکے ہیں آج ہر سائنسی ریسرچ سائنسی عمل اور ہر سائنسی معلومات ہر انسان کا حق بن چکی ہیں سائنس صرف سائنس ہوتی ہے ، مذہبی نہیں۔ آج کی سائنس کسی ایک حکومت یا کسی ایک ادارے کی جاگیر نہیں رہی یہ تو علم کا بہتا دریا ہے جو چاہے دو گھونٹ بھر لے ۔ ہر عقل رکھنے والا انسان اس سے اپنی پیاس بجھا سکتا ہے ہر آدمی جو عمل کو زندگی کا حصہ اور اصول بنانے کا قائل ہو وہ اپنی سوجھ بوجھ اور کھوج کے ایسے چشمے تلاش کر سکتا ہے جو اس کے شوق کی پیاس بجھا سکیں۔یہ سائنس ہی کا کمال ہے کہ امریکہ کے وائٹ ہاؤس میں بیٹھا ایک شخص پوری دنیا پر حکومت کرنے کا خواب دیکھ رہا ہے ۔