• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

لندن: لیبر پارٹی میں اپنے ہی وزیراعظم کو ہٹانے کیلئے کشمکش

لندن: برسرِ اقتدار جماعت لیبر پارٹی میں اپنے ہی وزیراعظم کو ہٹانے کے لیے جہاں کشمکش جاری ہے، ایسے حالات میں بادشاہ چارلس نے نئے پارلیمانی برس کی ابتدائی تقریب میں نئے مجوزہ قوانین کی تفصیل پیش کردی۔

تفصیلات کے مطابق روس یوکرین جنگ کے بعد امریکہ ایران کشیدگی کے باعث بڑھتی مہنگائی، لارڈ مینڈلسن کی بطور سفیر امریکہ میں تعیناتی کے متنازع فیصلے اور حالیہ الیکشن میں لیبر پارٹی کی عبرتناک شکست کے بعد عوام کا پیمانہ لبریز ہوتا نظر آ رہا ہے، اسی سبب عام انتخابات میں پانچ برس کا مینڈیٹ لے کر آنے والے وزیراعظم سر کیر اسٹارمر سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ زور پکڑ گیا ہے۔

تازہ اطلاعات کے مطابق سر کیر اسٹارمر سے استعفیٰ کا مطالبہ کرنے والے لیبر ارکان کی تعداد 87 تک جا پہنچی ہے جبکہ ان کے حامیوں کے مقابلے میں 110 اراکین بھی میدان میں آ گئے ہیں۔

چار وزرا کے استعفوں کے باوجود اب تک کوئی بھی رہنما پارٹی قیادت کو چیلنج کرنے کے لیے باضابطہ طور پر سامنے نہیں آیا، تاہم ہیلتھ سیکریٹری ویس اسٹریٹنگ کے حامیوں نے امید ظاہر کی کہ وہ کل تک وزیراعظم کو چیلنج کرنے کا اعلان کر سکتے ہیں، ویس اسٹریٹنگ نے آج وزیراعظم سے ڈاؤننگ اسٹریٹ میں مختصر ملاقات بھی کی، جس کے بعد انہوں نے ایکس پر این ایچ ایس کی کامیابیوں کا ذکر کیا۔

قیادت کے دیگر ممکنہ امیدواروں میں اینجلا رینر کا نام بھی لیا جا رہا ہے، جبکہ سابق پارٹی لیڈر ایڈ ملی بینڈ نے مقابلے میں شرکت کی تردید کی ہے، مقابلے میں حصہ لینے والے امیدوار کو 81 اراکین کی حمایت درکار ہوگی۔

دوسری جانب لیبر پارٹی کو فنڈز فراہم کرنے والی 11 یونینز واضح طور پر کہہ چکی ہیں کہ وزیراعظم سر کیر اسٹارمر آئندہ انتخابات میں پارٹی قیادت نہیں کریں گے۔

بادشاہ چارلس نے جن 35 نئے مجوزہ قوانین کا اعلان کیا ان میں کہا گیا کہ پولیس، این ایچ ایس اور کریمنل جسٹس سسٹم میں اصلاحات کی جائیں گی، اقتصادی ترقی کا انحصار ملک کے ہر حصے میں معیارِ زندگی کو بلند کرنا قرار دیا گیا۔

انہوں نے یورپ کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے، ڈیجیٹل آئی ڈی سسٹم کو آگے بڑھانے، مشرقِ وسطیٰ میں امن کے قیام، اور اسرائیل فلسطین کے دو ریاستی حل کی حمایت کا اعادہ بھی کیا۔

شاہ چارلس نے اپنی تقریر کا آغاز دنیا کو 'خطرناک اور غیر مستحکم' قرار دیتے ہوئے کیا اور خاص طور پر مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ نئی قانون سازی سے امیگریشن اور پناہ گزینوں کے نظام پر اعتماد بحال ہوگا اور جدید ریلوے نظام بھی قائم کیا جائے گا۔

برطانیہ و یورپ سے مزید