• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایران جنگ کے دوران نیتن یاہو کے خفیہ دورۂ یو اے ای کا انکشاف

نیتن یاہو - فوٹو: فائل
نیتن یاہو - فوٹو: فائل

اسرائیلی وزیراعظم نے انکشاف کیا ہے کہ ایران جنگ کے دوران انہوں نے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کا خفیہ دورے کیا تھا۔ 

اسرائیلی وزیراعظم آفس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ دوران جنگ نیتن یاہو نے یو اے ای کا دورہ کیا اور اماراتی صدر سے ملاقات کی۔

اسرائیلی وزیراعظم آفس کے مطابق نیتن یاہو کے دورے کے نتیجے میں یو اے ای اور اسرائیل تعلقات میں تاریخی پیش رفت بھی ہوئی۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق امریکی حکام نے اس ہفتے تصدیق کی تھی کہ اسرائیل نے جنگ کے دوران یو اے ای کو ایک آئرن ڈوم بیٹری اور اسے چلانے کے لیے فوجی بھیجے تھے۔

وال اسٹریٹ جرنل نے رپورٹ کیا تھا کہ موساد کے سربراہ ڈیوڈ بارنیا نے بھی جنگ کے دوران کم از کم دو بار یو اے ای کا دورہ کیا تھا۔

خیال رہے کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے پڑوسی خلیجی ریاستوں بشمول یو اے ای میں امریکی اہداف کو نشانہ بنایا تھا۔ 

البتہ یو اے ای خود بھی ایرانی حملوں کو کامیابی سے روکنے کے دعوے کرتا رہا ہے، تاہم چند روز قبل برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ اسرائیل نے یو اے ای کو ایرانی میزائلوں اور ڈرون حملوں سے نمٹنے کے لیے جدید اسلحہ اور دفاعی نظام فراہم کیے ہیں جن میں جن میں ایک جدید لیزر دفاعی نظام بھی شامل ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ اسرائیل نے ’اسپیکٹرو‘ نامی ایک جدید سرویلنس سسٹم یو اے ای کو فراہم کیا، جو تقریباً 20 کلومیٹر کے فاصلے تک آنے والے ڈرونز، خصوصاً ایرانی ساختہ شاہد ڈرونز کا سراغ لگانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اس کے علاوہ اسرائیل نے اپنا جدید لیزر بیسڈ دفاعی نظام آئرن بیم بھی تعینات کیا ہے، جو قلیل فاصلے کے راکٹوں اور بغیر پائلٹ طیاروں کو فضا میں ہی تباہ کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ان دونوں دفاعی نظاموں کے ساتھ اسرائیل نے اپنا ’آئرن ڈوم‘ فضائی دفاعی نظام بھی یو اے ای بھیجا جبکہ ان سسٹمز کو چلانے کے لیے درجنوں اسرائیلی فوجی اہلکار بھی تعینات کیے گئے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید