• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

برطانوی استعمار سے آزادی کے بعد مشرقی پاکستان چوبیس سال تک پاکستان کا اکثریتی بازو رہا لیکن پھر اپنوں کے غلط رویوں اور غیروں کی عیارانہ سازشوں کے نتیجے میں بھاری کشت و خون کے بعد دسمبر انیس سو اکہتر میں بنگلہ دیش بن گیا۔ فیض نے ان ہی پرآشوب دنوں میں ڈھاکہ سے واپس آتے ہوئے کہا تھا ’’کب نظرمیں آئے گی بے داغ سبزے کی بہار…خون کے دھبے دھلیں گے کتنی برساتوں کے بعد؟‘‘ اور فیض کی یہ آرزو باون برس بعد پانچ اگست بیس سو چوبیس کو بنگلہ دیش کی نئی نسل نے پوری کردی۔ بنگلہ دیش کے بانی شیخ مجیب الرحمن کی بیٹی حسینہ واجد کی جابر و سفاک حکومت کے خلاف کوٹا سسٹم کے مسئلے پر شروع ہونے والا نوجوان طالب علموں کا ملک گیر احتجاج رنگ لے آیا حالانکہ اسے کچلنے کیلئے بے دریغ قتل عام کیا گیا۔ تاہم فوج کے سربراہ کا اس خوں ریزی میں حکومت کا ساتھ نہ دینے کا فیصلہ شیخ حسینہ کے ڈیڑھ عشروں پر محیط اقتدار کے خاتمے کا سبب بن گیا۔شیخ حسینہ کو متعصب مسلم دشمن مودی حکومت کے دامن کے سوا کہیں پناہ نہ ملی ۔ دوسری جانب جس ملک پر انہوں نے عشروں حکومت کی وہاں عوام نے اُن کے والد اور بانی بنگلہ دیش شیخ مجیب کے مجسمے مسمار کردیے ، ملک بھر میں پاکستان کے پرچم لہرائے گئے اور بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح سے محبت کا برملا اظہار عام ہوا۔ انقلاب لانے والی طالب علم قیادت نے عبوری حکومت کی سربراہی کیلئے نوبل انعام یافتہ ماہر معاشیات ڈاکٹر محمد یونس سے درخواست کی جسے انہوں نے منظور کرلیا ۔ بنگلہ دیش نے اس نئے دور میں مفاد پرستی پر مبنی بھارتی تسلط سے نجات حاصل کرکے پاکستان سے معیشت، دفاع اور تعلیم سمیت متعدد شعبوں میں خوشگوار برادرانہ تعلقات استوار کیے اور اس سمت میں پیش رفت مسلسل جاری ہے ۔چین سے مستحکم روابط بھی اب بنگلہ دیش کی خارجہ حکمت عملی میں کلیدی اہمیت رکھتے ہیں۔

اس نئے بنگلہ دیش میں ڈیڑھ سالہ عبوری حکومت کے بعد اب منتخب عوامی حکومت کے قیام کی تیاری ہے۔ تین ہفتے بعد فروری کی بارہ تاریخ کو عام انتخابات ہونے والے ہیں۔یہ انتخابات جس بنا پر پاکستان اور پوری دنیا کی خصوصی دلچسپی کے حامل ہیں وہ بنگلہ دیش کی نئی سیاسی صورت حال ہے جو پچھلے ساڑھے پانچ عشروں سے یکسر مختلف ہے۔ بنگلہ دیش بنانے والی عوامی لیگ عوام کے آئینی حقوق غصب کرنے، سیاسی مخالفین سے جینے کا حق چھین لینے ، جمہوریت کے پردے میں ملک پر سفاکانہ شخصی آمریت مسلط کرنے اور اپنے حامیوں کو کرپشن کی کھلی چھوٹ دینے کی پاداش میں غیرقانونی قرار پانے کے بعد انتخابی اکھاڑے سے باہر ہے۔ اس کی قیادت کرنے والی شیخ حسینہ کو طالب علموں کے احتجاج کے دوران ہزاروں مظاہرین کے قتل عام کے جرم میں اُسی ٹریبونل نے موت کی سزا سنا رکھی ہے جو ان کے دور میں سیاسی مخالفین کو ٹھکانے لگانے کیلئے استعمال ہوتا رہا۔ شیخ حسینہ کی سب سے بڑی سیاسی حریف اور دوبار وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز رہنے والی، بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی(بی این پی) کی چیئرپرسن ، مجیب حکومت کے خلاف فوجی انقلاب لانے اور ملک کی سربراہی کرنے والے جنرل ضیاء الرحمن کی بیوہ خالدہ ضیاء سترہ سال تک قید و بند کی آزمائش سے دوچار رہ کر سال نو کے آغاز سے دو دن پہلے طویل بیماری کے بعد ڈھاکہ کے ایک اسپتال میں انتقال کرچکی ہیں۔ ان کے بعد ان کی پارٹی کی قیادت ان کے ساٹھ سالہ بیٹے طارق رحمن نے سنبھالی ہے جو شیخ حسینہ کے مظالم سے بچنے کی خاطر طویل مدت سے بیرون ملک تھے۔

تاہم ملک کے سیاسی منظر نامے میں ان سب سے نمایاں اور حیرت انگیز تبدیلی شیخ حسینہ کے دوسرے دور اقتدارمیں جو 2009سے 2024 کے نصف تک چلا،سب سے زیادہ معتوب رہنے والی دینی سیاسی پارٹی جماعت اسلامی بنگلہ دیش کا انتہائی مؤثر سیاسی قوت کی حیثیت سے ابھر کرسامنے آنا ہے۔ انیس سو اکہتر میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی تحریک کی مخالفت کرنے اور پاکستان کی حکومت اور فوج کا ساتھ دینے کی پاداش میں جماعت پر پابندی لگائی گئی، اس کے سرکردہ رہنماؤں کو پھانسی دی گئی یا جیل میں ڈال دیا گیا اور اس کے ہزاروں ارکان کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا یا دوران حراست قتل کر دیا گیا۔تاہم نوجوان طلباء کے ہاتھوں برپا ہونے والے انقلاب کے بعد جماعت اسلامی کی بحالی عمل میں آئی تو انتخابی میدان میں وہ ایک نہایت مؤثر سیاسی قوت کی حیثیت سے اتری ہے۔ملک کی گیارہ سیاسی جماعتوں نے جماعت اسلامی کی قیادت میں انتخابی اتحاد تشکیل دیا ہے جس میں شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کا سبب بننے والے نوجوانوں کی نیشنل سٹیزن پارٹی بھی شامل ہے۔ جماعت اسلامی کی فکر سے ہم آہنگ اسلامی چھاترو شبر ملک بھر کی یونیورسٹیوں کی طلبا یونینوں کے حالیہ انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئی ہے جسے جماعت کی عوامی مقبولیت کی واضح علامت قرار دیا جارہا ہے ۔ پارلیمانی الیکشن کے معرکے میں جماعت کے انتخابی اتحاد کا مقابلہ مرحومہ خالدہ ضیاء کی بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی سے ہوگا جس کی مخلوط حکومت میں جماعت شامل رہ چکی ہے ۔ ملک کے مختلف اداروں کے ایک تازہ مشترکہ سروے کے مطابق بی این پی اور جماعت اسلامی کی عوامی مقبولیت تقریباً مساوی یعنی34.7 کے مقابلے میں33.6 فی صد ہے جبکہ انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ امریکہ کے دسمبر میں کیے گئے سروے میں جماعت اسلامی کو سب سے زیادہ پسند کی جانے والی سیاسی پارٹی قرار دیا جا چکا ہے، اس لیے قوی امکان ہے کہ بنگلہ دیش کی آئندہ حکومت جماعت اسلامی کی قیادت میں بنے۔ جماعت کی اس عوامی مقبولیت کا سبب ڈھاکہ میں ناریل کا پانی فروخت کرنے والے چالیس سالہ محمد جلال نے ایک ممتاز بین الاقوامی میڈیا ادارے کے نمائندے کے سوال پر یوں بیان کیا ’’ہمیں کچھ نیا چاہیے، اور نیا آپشن جماعت اسلامی ہے،یہ صاف ستھرے لوگ ہیں اور ملک کیلئے کام کرتے ہیں۔‘‘

تازہ ترین