لاہور کی ایک نجی یونیورسٹی میں محض چند دنوں کے فرق سے ایک ہی ڈیپارٹمنٹ کے دو مختلف طلبہ کی خودکشی آخر کیوں؟ سوال یہ بھی ہے کہ پاکستان اور دنیا بھر میں خودکشی کے رجحان میں گزشتہ چند سال میں خطرناک اضافہ کیسے اور کیوں ہوا؟ نئی نسل میں ڈپریشن، انزائٹی، زندگی سے مایوسی اور پھر آخر میں موت کو گلے لگا لینے کی خطرناک روش کا آخر حل کیا ہے؟ اس سے بچاؤ کیسے ہوگا؟کائنات میں انسانی زندگی کا وجود ایک ایسا معجزہ ہے جسکی حرمت پر تمام تہذیبوں اور مذاہب کا اتفاق رہا ہے، لیکن اجل کے بے رحم ہاتھوں سے پہلے خود زندگی کا گلا گھونٹ لینا دورِ حاضر کا وہ المیہ ہے جس نے ہماری بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ حالیہ دنوں میں لاہور کی ایک یونیورسٹی میں پیش آنے والے پے در پے واقعات، جن میں بائیس سالہ محمد اویس کی ہلاکت اور اس کے فوری بعد ایک طالبہ کا اقدامِ خودکشی محض دو نوجوانوں کی کہانی نہیں ۔ یہ اس خاموش پکار کا استعارہ ہے جو ہمارے تعلیمی اداروں کی سرد راہداریوں میں گونج رہی ہے۔ یہ واقعات ہمیں مجبور کرتے ہیں کہ ہم اس نا امیدی، خوف، تکلیف اور ڈپریشن کے نظامِ یاس کا بھرپور تجزیہ کریں جو ہماری نئی نسل کو اس نہج پر لے آیا ہے جہاں اسے موت، زندگی کے مقابلے میں زیادہ نظر آنے لگی ہے پاکستان کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہاں خودکشی کی شرح میں ہونے والا اضافہ جو 2019ء میں 8فی ایک لاکھ سے بڑھ کر 10فی ایک لاکھ ہو چکا ہے۔ یہ اس بات کی گواہی ہے کہ مذہبی رسوخ، پختہ عقائد اور روحانی بنیادوں کے باوجود ہمارا معاشرتی ڈھانچہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوتا چلا جارہا ہے۔ آئے دن خودکشی کے واقعات کا رونما ہونا اور ان میں 71فیصد سے زائد کا 30سال سے کم عمر ہونا یہ ظاہر کرتا ہے کہ ہم ایک ایسی نوجوان نسل کی پرورش کر رہے ہیں جو اندر سے کھوکھلی ہوتی جارہی ہے یا ہو چکی ہے لیکن سوچنے کی بات یا فکر انگیز مرحلہ تو یہ ہے کہ نوبت یہاں تک پہنچی کیسے؟ تو پھر ہمیں سب سے پہلے مختلف پریشرز کو زیر بحث لانا ہوتا ہے۔جیسا کہ اکیڈمک پریشر کی بات کریں کہ تعلیمی مطالبات اور سماجی توقعات کا بوجھ فرد کے پاس موجود نفسیاتی وسائل سے بڑھ جاتا ہے، تو وہ برن آؤٹ کا شکار ہو کر انتہائی قدم اٹھا لیتا ہے۔ محمد اویس کا واقعہ اس کی واضح مثال ہے جہاں حاضری کی کمی اور سمسٹر کے ضیاع کا خوف اس کے اعصاب پر اس قدر سوار ہوا کہ اسے چوتھی منزل سے چھلانگ لگانا، سماجی رسوائی سے بہتر محسوس ہوا۔ اس بحران کا سب سے بھیانک پہلو خودکشی کی گلیمرائزیشن ہے۔ دورِ حاضر میں سوشل میڈیا نے ذہنی تکلیف کو ایک جمالیاتی رنگ دے دیا ہے جسے بیوٹی فل سفرنگ بھی کہا جا سکتا ہے، ٹک ٹاک اور انسٹاگرام پر گردش کرتی اداس موسیقی کے ساتھ بننے والی ویڈیوز جن میں بالخصوص ثروت کا شعر زبان زد عام ہو کہ’’ موت کے درندے میں اک کشش تو ہے ثروت..........
لوگ کچھ بھی کہتے ہوں خودکشی کے بارے میں‘‘ اور پھر سیڈنس کا کلچر ڈپریشن کو ایک اسٹیٹس سمبل بنا دے تو ذہنی میلان ضرور بڑھتا ہے کہ اس موت کے درندے میں آخر ایسی کیا کشش ہے؟ جب نوجوان نسل اس ڈیجیٹل سراب میں گم ہوتی ہے، تو وہ خودکشی کو بزدلی کی بجائے ایک خوبصورت احتجاج یا بہادرانہ اقدام سمجھنے لگتی ہے۔ اب یہ بھی اہم بات ہے کہ خودکشی کی خواہش اور خودکشی کی ہمت دو الگ چیزیں ہیں۔ جو لوگ موت کو بہادری قرار دیتے ہیں، وہ دراصل نوجوانوں کے اندر سے موت کا وہ فطری خوف ختم کر رہے ہوتے ہیں جو انسان کو زندہ رکھنے کے لیے ضروری ہے۔ سوشل میڈیا کے ایکو چیمبرز میں جب مسلسل منفی خیالات کی توثیق ہوتی ہے، تو فرد کے اندر درد سہنے کی صلاحیت پیدا ہو جاتی ہے، جو اسے موت کے قریب لے جاتی ہے۔ یہاں بطور مذہبی نمائندے، ہمیں، ہمارے علماء کو اپنے روایتی انداز پر بھی نظرِ ثانی کی ضرورت ہے۔ اسلام نے خودکشی کو حرام اور جہنم کا راستہ قرار دے کر اسے روکنے کی کوشش کی، جو ایک دینی حقیقت ہے، لیکن ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ یہ بات اس نوجوان کے لیے بے اثر ہو جاتی ہے جو کلینیکل ڈپریشن کے اس مرحلے پر ہو جہاں اس کے دماغ کے کیمیائی توازن بگڑ چکے ہوں۔ مذہب نے جان بچانے کو کل کائنات کی بقا قرار دیا ہے، لیکن نبویﷺ تعلیمات اور شریعت کا یہ بھی تقاضا ہے کہ ہم اسلام کا حکم سنا دینے سے آگے بڑھ کر شفا کی بات کریں۔معاشرے کو یہ بات سمجھائی جائے کہ توقعات کا پہاڑ کھڑا کرنے کے ساتھ ساتھ، مسائل کے انبار کو بھی دیکھا جائے، اگر کوئی ڈپریشن یا ایسے کسی مسئلے میں مبتلا ملے تو نفسیاتی علاج کو اسلامی اصولوں کے ساتھ جوڑ کر پیش کیا جائے۔ نبی کریمﷺ نے رنج و ملال اور اداسی کے لیے دعائیں اور علاج تجویز فرمائے، جو اس بات کی دلیل ہے کہ ذہنی اذیت ایک بیماری ہے جس کا علاج ہمدردی سے ہونا چاہیے، نہ کہ ملامت سے۔ خودکشی کسی مسئلے کا حل نہیں ہے، بلکہ یہ تمام ممکنہ حلوں کا خاتمہ ہے۔ہمیں اس مایوسی کے نظام کو ختم کرنا ہوگا جو طالب علموں کو محض گریڈز اور حاضری کے ترازو میں تولتا ہے۔ ہمیں اپنے نوجوانوں کو یہ سکھانا ہے کہ اصل بہادری جان دے دینا نہیں بلکہ نامساعد حالات کے باوجود جینے کا حوصلہ پیدا کرنا ہے۔ نئی نسل کو یہ باور کروانا ضروری ہے کہ وہ ڈیجیٹل دنیا کے جس جمالیاتی درد سے متاثر ہو ہی ہے، وہ ایک زہریلا جال ہے جو انہیں ان کی اپنی حقیقت سے دور کر رہا ہے۔ یہ ذمہ داری ہم سب کی ہے۔