پنجاب میں نئی نہروں کے منصوبے پر پیدا ہونیوالے تنازعے کے بعد حکومتِ پنجاب ایک نیا متبادل پراجیکٹ تشکیل دینے جا رہی ہے، جس کے تحت میونسپل ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ کو اپنایا جائے گا اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے، میونسپل اداروں کی شمولیت سے اس پر عملدرآمد کرایا جائے گا۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد یہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ سندھ کے عوام کو یہ خدشہ نہ رہے کہ دریائے سندھ کے پانی میں کسی قسم کی کمی واقع ہوگی۔یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ کچھ عرصہ قبل سندھ کے عوام کے شدید تحفظات اور احتجاج کے نتیجے میں وفاقی اور پنجاب حکومت کو چولستان وتھل کی نہروں پر مشتمل بڑے آبپاشی منصوبے کو روکنا پڑا تھا۔ اب انہی منصوبوں کو ایک نئے نام اور متبادل انتظامات کیساتھ دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اسی تناظر میں وزیراعظم آفس میں قائم اسپیشل انویسٹمنٹ فیسلی ٹیشن کونسل (SIFC) کی جانب سے ایریگیشن چولستان کے عنوان سے ایک کانسیپٹ بریف مختلف اداروں کو رائے کیلئے بھجوایا گیا ہے۔مناسب ہوگا کہ اس موقع پر ایک کثیرالمقاصد اور نسبتاً سادہ تجویز کو بھی غور و فکر میں شامل کیا جائے، جو میں نے اسی منصوبے پر پیدا ہونیوالے سابقہ تنازعے کے دوران پیش کی تھی۔ پاکستان تقریباً ہر دو تین سال بعد شدید بارشوں اور سیلابوں کی زد میں آتا ہے، جنکے نتیجے میں قیمتی انسانی جانیں، مویشی اور اربوں روپے کا انفراسٹرکچر تباہ ہو جاتا ہے۔ رخصت ہوتے سال میں بھی پنجاب کو بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ صرف 2025ء میں متاثرہ عوام کی بحالی کیلئے حکومتِ پنجاب کو 100 ارب روپے خرچ کرنا پڑے۔ اگر یہی سرمایہ بارش اور سیلابی پانی کو ذخیرہ کرنے کے ایک خودکار نظام پر صرف کیا جاتا تو یہ نہ صرف مستقل حل ثابت ہوتا بلکہ آنیوالے برسوں کیلئے تحفظ بھی فراہم کرتا۔اس نوعیت کے منصوبوں پر عمل درآمد کا موزوں وقت دسمبر سے جون کے درمیان ہوتا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی کے باعث سیلابوں کی بنیادی وجوہات واضح ہیں۔گلیشیرز کا غیر معمولی پگھلاؤ اور غیر متوقع و شدید بارشیں۔اسکے تدارک کیلئے پہاڑی علاقوں میں چھوٹے اور درمیانے ڈیمز، جبکہ میدانی علاقوں میں دریاؤں اور برساتی ندی نالوں کے قریب نشینی مقامات پر تالاب، جھیلیں اور انڈر گراؤنڈ واٹر ریچارج ٹیوب ویلز قائم کیے جا سکتے ہیں۔ چونکہ یہ نظام قدرتی کششِ ثقل کے اصول پر کام کرے گا، اس لیے توانائی کے اخراجات بھی نہایت کم ہونگے۔اگر حکومتِ پنجاب زیادہ بارش والے شناخت شدہ علاقوں میں اس تصور کو بتدریج نافذ کرے تو فاضل نہری اور بارشی پانی کو استعمال میں لا کر چولستان اور تھل کی تقریباً ایک کروڑ ایکڑ بنجر زمین کو سیراب کیا جا سکتا ہے، اور وہ بھی بغیر سندھ کے حصے کے پانی کو متاثر کیے۔یہ محض ایک نظری خیال نہیں۔ آزاد کشمیر کے سماجی کارکن عثمان ٹیچر اپنی مدد آپ کے تحت بارش کے پانی کو اپر گراؤنڈ تالابوں اور انڈر گراؤنڈ ریچارج سسٹمز میں محفوظ کرنے کا کامیاب عملی ماڈل پیش کر چکے ہیں، جسے حکومتِ پنجاب بآسانی وسعت دے سکتی ہے۔ذرا تصور کیجیے، اگر یہ نظام گزشتہ مون سون سے قبل نافذ کر لیا جاتا تو آج پنجاب بھر میں زیرِ زمین پانی کی سطح 10 سے 15 فٹ بلند ہو چکی ہوتی۔ اگر یہی سوچ سندھ طاس معاہدے کے وقت اختیار کر لی جاتی تو آج پاکستان پانی کی قلت کے بجائے پانی کی خود کفالت کی مثال ہوتا۔ پاکستان کی کئی کروڑ ایکڑ بنجر زمین زیرِ کاشت آ چکی ہوتی اور صوبہ پنجاب بلکہ پاکستان حقیقی معنوں میں فوڈ باسکٹ بن چکے ہوتے۔
(کالم نگار پاکستان پیپلز پارٹی شہید بھٹو کے وائس چیئرمین ہیں)