• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

یہ شہر کبھی جاگتا تھا۔ روشنیوں میں نہایا ہوا، سانس لیتا ہوا، ہنستا ہوا۔ آج یہ شہر کراہتا ہے۔ کراچی ساڑھے تین کروڑ انسانوں کا مسکن،جس کے بازوؤں میں ملک کی معیشت کی نبض دھڑکتی ہے، آج خود زندگی کی بھیک مانگ رہا ہے۔ اس کے زخم پر مرہم نہیں، صرف وعدوں کی پٹیاں ہیںاور وہ بھی بار بار اتر جاتی ہیں۔یہاں کھلے مین ہول منہ کھولے ہوئے ہیںجو معصوم بچوں کو نگل جاتے ہیں۔ ماؤں کی چیخیں گلیوں میں گونجتی ہیں، مگر شہر کے کان بہرے ہیں۔ کہیں ڈاکوؤں کے ہاتھوں لٹتی عزتیں ہیں، کہیں سڑک پر پڑی لاشیں۔ کہیں گل پلازہ کی آگ ہے، جو سینکڑوں زندگیاں جلا کر راکھ کر دیتی ہے۔ کہیں ڈیفنس کے گھروں میں پانی کی ایک ایک بوند کو ترستی آنکھیں۔ کہیں شہر بھر میں ٹوٹی سڑکیں، جن پر چلتے ہوئے گاڑیاں نہیں، امیدیں ٹوٹتی ہیں۔ یہ سب وہ تصویریں ہیں جو کراچی کی تقدیر میں ثبت کر دی گئی ہیںاور یہ سب ایک ہی شہر میں، ایک ہی وقت میں، ایک ہی بے بسی کے ساتھ۔یہی شہر ملک کے ستر فیصد ریونیو کا بوجھ اٹھاتا ہے۔ اسی کے کارخانے، اسی کی بندرگاہیں، اسی کے دفاتر، اسی کے تاجر، اسی کے مزدور پورے پاکستان کا نظام چلاتے ہیں۔ اسی ریونیو سے سارا سندھ ترقی کرتا ہے، اسی سے پنجاب کی شاہراہیں بنتی ہیں، اسی سے ملک کا پہیہ گھومتا ہے۔ مگر کراچی بدنصیب تڑپتا رہ جاتا ہے۔ اس کے حصے میں صرف دھواں، گرد، لاشیں اور سناٹے آتے ہیں۔اب بلاول بھٹو زرداری بھی اس حقیقت کو سمجھ چکے ہیں کہ وفاق کی سیاست کا دروازہ کراچی سے ہو کر گزرتا ہے۔ یہ شہر نظرانداز رہا تو کوئی بھی خواب پورا نہیں ہو سکتا۔ بلاول یہ بھی جانتے ہیں کہ اگر انہیں وفاق میں اعلیٰ ترین منصب تک پہنچنا ہے تو کراچی کو زندہ کرنا ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ حالیہ عرصے میں کراچی کیلئے احکامات جاری ہوئے۔ وزیرِ بلدیات ناصر شاہ کو ہدایات ملیں، وزیراعلیٰ کو پیغام دیا گیا، کوئر ٹیم کو کہا گیا کہ سڑکیں بننی چاہئیں، مین ہول بند ہونے چاہئیں، پانی، بجلی اور گیس بلا تعطل ملنے چاہئیں، اور شہریوں کی جان و مال کا تحفظ یقینی ہونا چاہیے۔نیت پر شک نہیں۔ خواہش پر بھی نہیں۔ بلاول واقعی چاہتے ہیں کہ کراچی بدلے۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ یہ شہر اتنا برباد ہو چکا ہے کہ اسے بدلنے کیلئے وقت بھی چاہیے، اور بے انتہا وسائل بھی۔ اور اسی دوران بدقسمتی دیکھئےحادثے رکنے کا نام نہیں لیتے۔ کہیں پھر کوئی مین ہول کھل جاتا ہے، کہیں پھر آگ بھڑک اٹھتی ہے، کہیں پھر کوئی پلازا قبرستان بن جاتا ہے۔ یہ کراچی کیلئے بھی بدقسمتی ہے، اور بلاو ل کیلئے بھی کہ جب وہ شہر کو بدلنا چاہتے ہیں، شہر ان کی آنکھوں کے سامنے جل رہا ہے۔کراچی کے دکھ کی ایک وجہ اس کی سیاست بھی ہے۔ تین دہائیوں سے کراچی ایسی جماعتوں کو ووٹ دیتا آیا ہے جنہیں صوبے بھر میں اکثریت نہیں ملتی۔ نتیجہ یہ کہ حکومت اندرونِ سندھ سے بنتی ہے، اور کراچی کی آواز اپوزیشن میں بیٹھ جاتی ہے۔ وسائل اندرونِ سندھ چلے جاتے ہیں، اور کراچی پھر خالی ہاتھ رہ جاتا ہے۔ یہاں بلدیاتی نظام کاغذوں میں ہے۔ میئر کے پاس اختیار نہیں، وسائل نہیں، طاقت نہیں۔ وہ چاہے بھی تو پورے شہر کا بوجھ اکیلا نہیں اٹھا سکتا۔یہاں مسئلہ صرف نیت کا نہیں، نظام کا ہے۔ اختیار اور وسائل کی تقسیم کا ہے۔ کراچی کو چلانے کیلئے کراچی کو طاقت دینا ہوگی۔ اسے خیرات نہیں، حق چاہیے۔ وہ حق جو اسکے خون پسینے سے بنتا ہے، جو اس کے ریونیو سے جنم لیتا ہے۔بلاول بھٹو زرداری کو اس وقت ایسی ٹیم کی ضرورت ہے جو ان کے ساتھ مخلص ہو۔ جو انکے مقصد کو سمجھے۔ جو یہ جانتی ہو کہ کراچی کو بدلے بغیر وفاق کی سیاست ایک سراب ہے۔ جو احکامات پر عمل کر سکے، فائلوں میں نہیں، سڑکوں پر۔ جو کیمرے کے سامنے نہیں، گٹر کے کنارے کھڑے ہو کر فیصلے کرے۔ جو مین ہول بند کرے، نہ کہ پریس کانفرنس۔کراچی کے عوام مظلوم ترین ہیں۔ یہ شہر ملک کی شناخت ہے، مگر اسکے باسی لاوارث۔ بلاول بھٹو زرداری کیلئے یہ لمحہ فیصلہ کن ہے۔ اگر انہوں نے کراچی کو بنایا، اسکی ضروریات پوری کیں، اسکی تکلیف کو اپنی تکلیف بنایا، تو کراچی بھی انہیں سینے سے لگا لے گا۔ اور اگر یہ موقع بھی گنوا دیا گیا تو نہ کراچی بدلے گا، نہ وفاق کا خواب پورا ہوگا۔ کراچی کو بنائیں۔ اسے جینے دیں۔ اسے وہ عزت دیں جسکا یہ حقدار ہے۔ کیونکہ اگر کراچی کھڑا ہو گیا، تو پاکستان کی شناخت پوری دنیا میں سر اٹھا کر کھڑی ہو جائیگی۔

تازہ ترین