چین کی معیشت کو دو لفظوں میں بیان کیا جا سکتا ہے استقامت اور ڈائنامک استقامت اس لئے کہ چین نے شدید معاشی جھٹکوں کے باوجود ترقی کا سفر جاری رکھا۔ اس نے ایک ایسے وقت میں امریکہ کی تجارتی جنگ کا پرسکون انداز میں مقابلہ کیا جب وہ چینی معیشت کو کمزور کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رہا تھا۔ یورپ کے کئی تجارتی اور کاروباری شراکت داروں نے بھی رکاوٹیں کھڑی کرتے ہوئے تجارت محدود کرنے اور چین میں سرمایہ کاری سے گریز کی پالیسی اپنائی۔ یورپی یونین خاص طور پر چینی مصنوعات، بالخصوص الیکٹرک گاڑیوں کو یورپی منڈی میں داخل ہونے کی اجازت دینے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کرتی رہی۔ایک طرف امریکہ تجارتی جنگ کے ذریعے چینی معیشت کو دبانے کی کوششوں میں تھا اور عالمی سپلائی چین متاثر ہو رہی تھی دوسری طرف یورپ کے کئی ممالک تجارتی رکاوٹیں کھڑی کر رہے تھے اس وقت چین نے جذبات کے بجائے حکمت کو ترجیح دی۔ یورپی یونین نے خاص طور پر الیکٹرک گاڑیوں سمیت کئی چینی مصنوعات کے لئے اپنی منڈی کے دروازے نیم وا رکھے مگر چین نے اپنی برآمدی حکمتِ عملی کو ازسرِنو ترتیب دے کر نئے راستے تلاش کئے۔
ان تمام چیلنجز کے باوجود چینی معیشت نے مثبت شرحِ نمو برقرار رکھی۔ اعداد و شمار کے مطابق مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں سالانہ بنیادوں پر 5 فیصد اضافہ ہوا اور اس کی مجموعی مالیت 20.18 کھرب امریکی ڈالر تک پہنچ گئی۔ تاہم یہ ترقی سال کی مختلف سہ ماہیوں میں یکساں نہ رہی۔ پہلی سہ ماہی میں شرحِ نمو 5.4 فیصد، دوسری میں 5.2 فیصد، تیسری میں 4.8 فیصد اور چوتھی سہ ماہی میں 4.5 فیصد رہی۔ مزید تفصیل سے جائزہ لیا جائے تو صنعتی قدرِ افزودہ اور مجموعی صنعتی پیداوار میں 5.9 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ داخلی کھپت جسے 2025 اور اس کے بعد کی معاشی ترقی کا بنیادی محرک قرار دیا جا رہا ہے، میں 3.7 فیصد اضافہ ہوا۔
بین الاقوامی تجارت کے محاذ پر کارکردگی پالیسی سازوں کےلئے مزید اطمینان بخش رہی۔ چینی تاریخ میں پہلی مرتبہ تجارتی سرپلس 1.2 کھرب امریکی ڈالر تک جا پہنچا۔ برآمدات میں 6.1 فیصد اضافہ ہوا جبکہ درآمدات میں 0.5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ یہ اعداد و شمار اس حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں کہ دنیا کی معیشت اب محض امریکہ تک محدود نہیں اور عالمی منڈی کہیں زیادہ وسیع اور متنوع ہے۔ امریکی تجارتی جنگ اور عالمی سپلائی چین میں رکاوٹوں کے باوجود یہ ایک غیر معمولی کامیابی تھی۔تجارت کی Diversification نے بھی اس مسلسل پیش رفت میں اہم کردار ادا کیا۔ مثال کے طور پر چین نے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (BRI) سے وابستہ ممالک کے ساتھ اپنے تجارتی روابط کو مزید مضبوط بنایا۔ اس کے ساتھ ساتھ چین نے ٹیکنالوجی مصنوعات اور جدید مشینری کی برآمدات میں بھی اپنی پوزیشن مستحکم کی۔ ہائی ٹیک مصنوعات کی برآمدات میں 13.2 فیصد اضافہ ہواجو اس حکمتِ عملی کی واضح مثال ہے۔ ان پالیسیوں اور اقدامات نے امریکہ کے ساتھ تجارتی جنگ کے جھٹکوں کو کم کرنے میں مدد دی اور چین کو مستحکم تجارتی ترقی کی راہ پر گامزن رکھا۔
معیشت کو ڈانامک اس لئے کہا گیا کہ اس نے روایتی ترقیاتی پیمانوں سے نکل کر نئے اور اعلیٰ معیار کے ترقیاتی اشاریوں کی جانب مسلسل پیش قدمی کی اور نئی، معیاری پیداواری قوتیں مرکزی کردار ادا کرنے لگیں۔ اعداد و شمار سے واضح ہوتا ہے کہ منڈیوں میں اعلیٰ درجے کی مصنوعات اور جدید ٹیکنالوجی کی طلب میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔ مثال کے طور پر شہری استعمال کے ڈرون اور صنعتی روبوٹ کے شعبوں میں بالترتیب 37.3 فیصد اور 28 فیصد ترقی ریکارڈ کی گئی جس کی بڑی وجہ لو آلٹی ٹیود (کم بلندی) معیشت کی توسیع ہے۔صنعتی اداروں کے تناظر میں آلات سازی کا حصہ مجموعی قدرِ افزودہ میں 36.8 فیصد جبکہ ہائی ٹیک مینوفیکچرنگ کا حصہ 17.1 فیصد رہا۔ اسی طرح مصنوعی ذہانت
(آرٹیفیشل انٹیلی جنس) نے مختلف صنعتوں میں اپنی بنیادیں مزید مضبوط کیں جبکہ صنعتی انٹرنیٹ کے اطلاق کا دائرہ 41 بڑے صنعتی شعبوں تک پھیل گیا۔خدمات کے شعبے نے 5.4 فیصد کی شرح سے ترقی کی جو مجموعی معیشت کی اوسط شرحِ نمو سے زیادہ تھی۔ تفصیلی جائزہ سے معلوم ہوتاہے کہ انفارمیشن ٹرانسفارمیشن، سافٹ ویئر اور آئی ٹی خدمات میں 11.1 فیصد اضافہ ہوا اس کے بعد لیزنگ اور بزنس سروسز میں 10.3 فیصد، ٹرانسپورٹ، گوداموں اور ڈاک کے شعبے میں 5.2 فیصد جبکہ تھوک اور پرچون تجارت میں 5 فیصد ترقی ریکارڈ کی گئی۔ یہ رجحان نہ صرف معیشت بلکہ مستقبل کےلئے بھی خوش آئند ہے کیونکہ اس سے خدمات کی درآمدی لاگت کم ہونے میں مدد ملے گی۔
اسی دوران، چین نے خود کو ماحول دوست معیشت اور ماحولیاتی تبدیلی ( Green Transition ) کے رہنما کے طور پر مضبوط کرنے کا سفر جاری رکھا۔ ماحول دوست توانائی کی پیداوار میں 8.8 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جو شمسی اور ہوائی توانائی کے منصوبوں میں مسلسل توسیع کی بدولت ایک بڑا قدم تھا۔ شمسی توانائی کی تنصیبات نے 2025 میں عالمی ریکارڈ قائم کرتے ہوئے 1,000 گیگاواٹ کی حد عبور کر لی۔ماحول دوست توانائی سے چلنے والی گاڑیوں (New Energy Vehicles) کی پیداوار اور فروخت بھی مضبوط رہی اور چین نے 2025 میں 16 ملین سے زیادہ الیکٹرک گاڑیاں تیار اور فروخت کیں۔ صنعت توانائی کے زیادہ موثر ٹیکنالوجیز کی طرف بڑھ رہی ہے تاکہ گرین ہاوس گیسز (GHG) کے اخراج کو کم کیا جا سکے۔ یہ اقدامات چین کو معاشی ترقی کے اہداف اور دوہری کاربن مقاصد (2030 تک کاربن کے اخراج کی بلند ترین سطح اور 2060 تک کاربن نیوٹرلٹی) کے درمیان توازن قائم کرنے میں بھی مدد دے رہے ہیں۔
چین نے نئی ٹیکنالوجیز میں بھی غیر معمولی کامیابیاں حاصل کیں۔ جدت (Innovation) کے عالمی رینکنگ میں اپنی پوزیشن مستحکم کی اور تحقیق و ترقی (R&D) میں وسیع سرمایہ کاری کے ذریعے سبز انقلاب کو فروغ دیا۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق چین نے 2025 میں اپنی مجموعی قومی پیداوار (GDP) کا تقریباً 2.8 فیصد تحقیق و ترقی پر خرچ کیا جو 3.93 کھرب یوآن یعنی تقریباً 550 ارب امریکی ڈالر کے برابر ہے۔تحقیق و ترقی میں سرمایہ کاری کے لحاظ سے امریکہ کے بعدچین دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے اور یہ او ای سی ڈی ممالک کی اوسط سرمایہ کاری سے بھی زیادہ ہے۔ اس سرمایہ کاری کے نتیجے میں چین کی جدت کی عالمی درجہ بندی میں بہتری آئی اور وہ دنیا کے ٹاپ دس اختراعی ممالک میں شامل ہو گیا۔
تاہم چین نے صرف ترقی یا اعداد و شمار پر توجہ نہیں دی بلکہ یہ بھی یقینی بنایا کہ ترقی کے ثمرات عوام تک پہنچیں۔ نتیجتاً فی کس قابلِ تصرف آمدنی 5 فیصد بڑھ کر 43377 یوآن (تقریباً 6070 امریکی ڈالر) ہو گئی جس سے عوام کی قوتِ خرید مضبوط ہوئی۔ اس سے فی کس اخراجات میں بھی 4.4 فیصد اضافہ ہوا۔ یہ رجحان پالیسی سازوں کے لیے خوش آئند ہے کیونکہ توقع کی جا رہی ہے کہ اس سے داخلی کھپت میں مزید اضافہ ہوگا۔ مزید یہ کہ شہری اور دیہی علاقوں کے درمیان آمدنی کا فرق بھی کم ہو رہا ہے جہاں دیہی آمدنی میں 5.8 فیصد جبکہ شہری آمدنی میں 4.3 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ تاہم شہری اور دیہی آمدنی میں فرق اب بھی واضح طور پر موجود ہے۔
چین کا معاشی استحکام اور ترقی کی موجودگی رفتار کسی معجزے کا نتیجہ نہیں بلکہ منظم منصوبہ بندی، عوام دوست حکمرانی اور طویل المدتی وژن کا حاصل ہے۔ حکومت نے نعروں کے بجائے عملی نتائج کو ترجیح دی، نئی منڈیوں کی تلاش جاری رکھی، تجارت کو متنوع بنایا اور ترقی کے نئے محرکات پیدا کئے۔ تحقیق، جدت اور جدید ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری نے معیشت کو ایک نئی سمت دی۔ یہی عوامل ہیں جنہوں نے 2025 میں چین کو ایک ایسی معیشت میں ڈھال دیا جونا صرف مضبوط ہے بلکہ مستقبل کی طرف اعتماد کے ساتھ بڑھ رہی ہے۔