2026ء شروع ہوتے ہی بین الاقوامی سیاست میں یہ سوال اہمیت اختیار کر گیا کہ’’آخر دُنیا کس طرف جا رہی ہے، کیا یہ عدم استحکام کا دَور ہے، منتقلی کا عارضی دَور ہے یا پھر کوئی بڑی تبدیلی آنے والی ہے؟‘‘ اور اِس ضمن میں امریکی صدر، ڈونلڈ ٹرمپ کا کردار نہایت اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔ جیسا کہ ہم نے پہلے بھی ذکر کیا تھا کہ 2025ء میں جنگیں بھی ہوئیں اور امن معاہدے بھی۔ تاہم، ایک سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ آج دُنیا پہلے سے زیادہ خوش حال ہے یا بدحال؟
گزشتہ برسوں کے دَوران مختلف بُحرانوں، تنازعات اور جنگوں نے پوری دُنیا کو اپنی لپیٹ میں لیے رکھا۔ مثال کے طور پر غزہ میں ایک بڑے انسانی الیمے نے جنم لیا۔ تاہم، بعد ازاں جنگ بندی کے بعد فلسطینی مسلمان اپنے تباہ حال گھروں کی طرف واپس لَوٹنے لگے اور اُن کی خوراک اور دیگر امدادی سرگرمیاں بحال ہوئیں۔
علاوہ ازیں، مختلف ممالک میں جاری احتجاجی سلسلے ختم ہوئے اور سب اِس امر پر متّفق ہیں کہ یہ صرف صدر ٹرمپ کی جارحانہ اور طاقت وَر پالیسی کی وجہ سے ممکن ہوا۔ اب غزہ کے امن منصوبے کے دوسرے مرحلے کی طرف پیش قدمی ہو رہی ہے۔
دوسری جانب، یوکرین میں جنگ جاری ہے اور وہاں 75ہزار سے زائد افراد ہلاک اور لاکھوں زخمی ہو چُکے ہیں، جب کہ شہر کے شہر کھنڈر بن چُکے ہیں۔ علاوہ ازیں، جنگ سے جنم لینے والی منہگائی نے عام آدمی کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ ٹرمپ ٹیرف کے اثرات جاری ہیں، لیکن ٹرمپ اُنہیں زیادہ تر اپنے مطالبات منوانے کے لیے استعمال کرتے ہیں اور اِس میں دوست، دشمن کی کوئی تمیز نہیں۔ نئے سال نے سب سے پہلے امریکی خطّے میں وینزویلا کا بحران دیکھا، جس کے مرکزی کردار، صدر ٹرمپ ہی تھے۔
پھر مشرقِ وسطی میں ایران کے خون ریز ہنگامے سامنے آئے اور ان میں صدر ٹرمپ چھائے رہے کہ’’ اب یہ کرنے والے ہیں، وہ کرنے والے ہیں۔‘‘ صُورتِ حال یہ ہے کہ کئی دنوں سے پورا خطّہ شش و پنج میں ہے کہ’’اب کیا ہوگا؟‘‘ کیوں کہ کسی کو کچھ اندازہ نہیں کہ صدر ٹرمپ کیا کر گزریں۔ اُدھر، گرین لینڈ کا ایشو بھی دنیا پر چھایا ہوا ہے اور یہ بھی صدر ٹرمپ ہی کی وجہ سے عالمی فوکس میں ہے۔ دل چسپ امر یہ ہے کہ اس تنازعے کے فریق امریکا اور یورپ، دیرینہ حلیف ہیں۔
تو کیا واقعی دنیا بدل رہی ہے اور کیا نئی دنیا میں بین الاقوامی ڈپلومیسی یا جنگ کے قواعد بھی ماضی سے مختلف ہوں گے؟ اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے مطابق، طاقت وَر اپنی طاقت کے بَل بوتے پر اپنی بات منوانے پر تُلے ہیں۔ اب قانون کی طاقت کی بجائے، طاقت کے قانون کی بالادستی دکھائی دے رہی ہے۔
ایک دل چسپ حقیقت یہ بھی ہے کہ چین، روس اور یورپ جیسی بڑی طاقتیں صرف ردّعمل دے رہی ہیں، جب کہ ایکشن صرف امریکا کے ٹرمپ کر رہے ہیں۔ اِسی تناظر میں صدر ٹرمپ کی ایک بات تو خاصی چونکا دینے والی ہے۔ اُنھوں نے گزشتہ دِنوں کہا کہ’’مَیں نے اب نوبل امن انعام سے متعلق سوچنا چھوڑ دیا ہے۔‘‘ یعنی’’مین آف پیس‘‘ سے صرف ایک سال ہی میں واپسی کا سفر…!!
گرین لینڈ سے متعلق ایک دل چسپ بات یہ ہے کہ وہاں کچھ بھی گرین نہیں ہے، بلکہ ہر طرف برف ہی برف ہے، بالکل ایسے ہی جیسے آئس لینڈ میں کہیں آئس نہیں۔ پھر بھی ٹرمپ، گرین لینڈ میں جس قدر دل چسپی لے رہے ہیں، اُس سے یہ سوال ذہنوں میں ضرور پیدا ہوتا ہے کہ آخر گرین لینڈ اِتنا اہم کیوں ہے؟ دراصل، گرین لینڈ کی اسٹریٹیجک پوزیشن بہت اہمیت کی حامل ہے۔
وہ یوریشیا، شمالی امریکا، آرکٹک زون یعنی یورپی یونین، ڈنمارک، نیٹو، روس اور امریکا، سب ہی کے لیے بہت اہم ہے۔ گرین لینڈ، ڈنمارک کا ایک خُود مختار علاقہ ہے اور وہاں کے شہری ڈنمارک اور یورپی یونین، دونوں کے شہری ہیں، اِسی لیے یورپ نے ٹرمپ کی ٹیک اوور کی دھمکیوں کے بعد اپنے فوجی دستے وہاں بھیجے۔ لیکن یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ کیا وہ فوجی امریکا سے لڑیں گے، جو خود نیٹو کا رُکن ہے اور دوسری عالمی جنگ کے بعد یورپ کی سیکیوریٹی کا ضامن رہا۔
گرین لینڈ دنیا کا سب سے بڑا جزیرہ ہے، جو اٹلانٹک اور آرکٹک سمندروں کے درمیان واقع ہے۔نوک(Nuuk) اس کا دارالحکومت اور اس کی آبادی57 ہزار نفوس پر مشتمل ہے، جن کی اکثریت عیسائیت کی پیروکار ہے۔ جغرافیائی طور پر گرین لینڈ، شمالی امریکا کا حصّہ ہے، لیکن نو آبادیاتی نظام کے تحت یہ پہلے ناروے کا حصّہ بنا اور پھر ڈنمارک کے قبضے میں چلا گیا۔ اس کا فاصلہ امریکا، کینیڈا، روس اور ڈنمارک سے تقریباً برابر ہی ہے۔
یہاں کی آبادی نارتھ امریکن اور نارویجن نسل سے تعلق رکھتی ہے۔یہی شمالی امریکا سے گرین لینڈ کا تعلق ہے، جس کی وجہ سے ٹرمپ اسے امریکی برّ ِاعظم کا حصّہ بتاتے ہیں۔ 2006 ء میں ڈنمارک نے اسے خودمختار حیثیت دی، لیکن اپنا حصّہ برقرار رکھا۔ آج گرین لینڈ کی تجارتی اور ٹیکنالوجی لحاظ سے غیر معمولی اہمیت ہے۔ گلوبل وارمنگ کی وجہ سے برف پگھل رہی ہے اور وہاں کی زیرِ زمین معدنیات اِن تمام ممالک کے لیے غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہیں۔
صدر ٹرمپ کے بار بار گرین لینڈ کو امریکی برّ ِاعظم کا حصّہ بنانے کی بات اِس پس منظر میں سمجھی جاسکتی ہے۔ امریکا کو یہ خطرہ ہے کہ یورپ کسی صُورت پیوٹن جیسے سخت گیر حُکم ران کا مقابلہ نہیں کر سکے گا۔ ٹرمپ، الاسکا ملاقات میں پیوٹن کے تیور دیکھ چُکے ہیں اور روس کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے یوکرین جنگ بند نہیں ہو رہی۔ روس کسی کے دباؤ میں آنے کو تیار نہیں۔
تاریخ میں اس نے ہمیشہ ممالک پر قبضہ کیا ہے۔ وسط ایشیا کی بارہ مسلم ریاستوں کو اُس وقت اپنا غلام بنایا، جب اس نے تُرک عثمانی سلطنت کو شکست دی۔ افغانستان پر سوشلسٹ راج رکھا اور اُس پر جنگ مسلّط کی۔ وہ اُس وقت تک سُپر پاور رہا، جب تک گزشتہ صدی کے آخر میں اپنی کم زور معیشت اور مغربی طاقت کے آگے جُھکنے پر مجبور نہ ہوا۔
پیوٹن جیسے روسی قوم پرست کہتے ہیں کہ’’روس نہیں، تو دنیا رہے، نہ رہے، ہمیں فرق نہیں پڑتا۔‘‘ گرین لینڈ آج بھی آزاد نہیں کہ وہ ڈنمارک کا حصّہ ہے اور اس کی حیثیت کا تعیّن اُسی وقت ہوسکتا ہے، جب اسے مکمل آزادی مل جائے، لیکن کیا وہ تھوڑی سی آبادی کے ساتھ ایک خود مختار مُلک رہ سکے گا، اِس پس منظر میں بھی گرین لینڈ تنازعے کا تجزیہ ضروری ہے۔
گزشتہ ہفتے ایک اہم پیش رفت غزہ امن منصوبے کی صُورت سامنے آئی، جہاں بیس نکاتی امریکی امن منصوبے کا دوسرا مرحلہ شروع ہوچُکا ہے۔ بورڈ آف پیس کی تشکیل ہوئی، جس کے سربراہ صدر ٹرمپ ہیں۔ اُنہوں نے پاکستان سمیت 60ممالک کے سربراہان کو اس بورڈ میں شمولیت کی دعوت دی، جس پر پاکستان اس بورڈ کا باقاعدہ رُکن بن گیا، جب کہ تُرکیہ، امارات، قطر، انڈونیشیا، اردن، مصر، ازبکستان اور آزربائیجان جیسے اہم مسلم ممالک نے بھی اس میں شمولیت اختیار کی۔
پاکستان اور کچھ دیگر مسلم ممالک میں یہ بحث تاحال ہو رہی ہے کہ کیا غزہ امن بورڈ کا حصّہ بننا چاہیے یا نہیں؟ خاص طور پر وہاں تعینّات ہونے والی امن فوج کے لیے اپنے دستے بھجوانے کا معاملہ بہت زیادہ زیرِ بحث ہے۔ اِس سوال کا بنیادی محرّک ایرن اور عرب دنیا کی کشمکش سے تعلق رکھتا ہے۔ حماس، ایران کی پراکسی ہے، اِسی لیے مسلم ممالک امن بورڈ کا حصّہ نہیں بننا چاہتے کہ اِس طرح ایران کے ساتھ ٹکراؤ کی کیفیت پیدا ہوجائے گی۔
پھر یہ بھی کہ مسلم حُکم رانوں کی ساکھ کا مسئلہ بھی ہے، کیوں کہ اِن ممالک میں امریکا یا اسرائیل سے تعلقات کو نفرت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور عوام مسئلۂ فلسطین کے حل میں امریکا کو بڑی رکاوٹ سمجھتے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل، امریکا کا سب سے اہم حلیف ہے۔ ٹرمپ نے ایران، اسرائیل جنگ میں تل ابیب کا ساتھ دیتے ہوئے ایران پر بم باری کی۔ وہ ہر حال میں اس کی حفاظت اور طاقت کا ساتھ دیتا ہے۔
تقریباً یہی حال یورپی ممالک کا ہے۔ پاکستان، تُرکیہ، انڈونیشیا، سعوی عرب اور یو اے ای سمیت12 مسلم ممالک نے شرم الشیخ(مصر) میں صدر ٹرمپ سے غزہ سیز فائر کے معاملات طے کیے تھے۔ سمجھ نہیں آتا کہ اب پیچھے ہٹنے کی کیا ضرورت ہے یا ان ممالک پر کس نوعیت کا دباؤ ہے۔ جہاں تک مسلم دنیا کے عوام کا تعلق ہے، تو انہیں بھی اپنے گریبانوں میں جھانک کر دیکھ لینا چاہیے کہ اُنھوں نے ابھی تک ایسا کون سا ٹھوس کام کیا ہے، جس سے فلسطین یا غزہ کے عوام کو کوئی فائدہ پہنچا ہو۔
جذباتی ہونا، ریلیاں نکالنا اور احتجاج کرنا الگ بات ہے، لیکن اصل کام تو فلسطینی عوام کی ٹھوس مدد ہے۔ غزہ پر دو سال تک آگ برستی رہی، مگر سوال یہ ہے کہ مسلم دنیا نے کیا، کیا؟ ایران نے بھی، جو سب سے زیادہ جارحانہ بیانات دیتا ہے یا اپنے مسلّح گروہوں کے ذریعے کارروائیاں کرتا ہے،کیا کرلیا؟ بلکہ خود ایران اور اُس کی پراکسیز غیر مؤثر ہوچُکی ہیں۔ ایران کی معیشت تباہ ہوگئی۔
حکومت اور سپریم لیڈر اعتراف کرتے ہیں کہ وہاں ہونے والے مظاہروں کے شرکاء کے معیشت سے متعلق مطالبات جائز ہیں۔ پاکستان سمیت زیادہ تر مسلم ممالک کی معیشت قرضوں اور امداد پر چل رہی ہے، ایسے میں وہ غزہ یا فلسطینی عوام کی نعروں، ریلیوں اور بیانات کے سِوا کیا مدد کرسکتے ہیں۔ اگر غور کیا جائے، تو ٹرمپ کا بیس نکاتی امن پروگرام کم ازکم کسی حل کی اُمید تو روشن کرتا ہے۔
مسلم ممالک کی افواج کو’’امن فوج‘‘ میں شمولیت اختیار کر کے بہت سے زمینی حقائق سے آگاہی حاصل ہوگی۔ ان کے حُکم ران’’ بورڈ آف پیس‘‘ میں شمولیت اختیار کرکے وہاں کی بحالی اور سیاسی صُورتِ حال سے واقف ہوسکیں گے۔ اگر مسلم عوام اپنے اندرونی جھگڑوں سے نجات اور ترقّی کے لیے محنت کرنے کو تیار ہوں، تو اُن کے سامنے فلسطینیوں کی مدد کے بہت سے راستے ہیں۔ اوّل، انہیں اپنے ممالک کی معیشت مضبوط کرنی چاہیے تاکہ وہ غزہ اور فلسطینیوں کی ٹھوس معاشی مدد کر سکیں۔
دوم، اُنہیں اب ریلیاں نکالنے کی بجائے، فلسطینیوں کے لیے فنڈز اکھٹے کرنے پر توجّہ مرکوز کرنی چاہیے۔ خاص طور پر بیرونِ مُلک رہنے والوں کو اپنے غزہ کے بھائیوں کی بحالی کے لیے چھے کی بجائے دس گھنٹے کام کرکے اضافی رقم اُن کے لیے قائم فنڈز میں دینی چاہیے۔ پھر مسلم ممالک کے ہنر مندوں کو وہاں جاکر تعمیرِ نو کے کاموں میں بلامعاوضہ حصّہ لینا چاہیے۔
نیز، فلسطینی طلبہ کے لیے اپنے ممالک کی درس گاہوں کے دروازے کھولنے چاہئیں۔ سڑکوں پر احتجاج کا زمانہ گزر چُکا، اب غزہ میں سڑکیں اور مکانات تعمیر کرنے کا وقت ہے۔ اِس ضمن میں مذہبی علماء کو خاص طور پر سامنے آنا چاہیے تاکہ عوام کو فلسطینی بھائیوں، بہنوں کی عملی مدد کے لیے تیار کیا جاسکے۔
2026 ء کے آغاز ہی سے ٹرمپ نے طاقت اور ڈپلومیسی کا بخوبی استعمال کیا۔ اُنہوں نے اپنے علاقے میں وینزویلا کے صدر کو ایک فوجی کارروائی کے ذریعے گرفتار کر کے ٹیسٹ کیا کہ دنیا، خاص طور پر روس اور چین کا کیا ردّ ِعمل ہوتا ہے۔ روس جیسا نظریاتی مُلک اپنے حلیف، وینزویلا کی صرف بیانات کی حد تک ہی مدد کرسکا، جب کہ یہی حال چین کا رہا۔
اُدھر، ایران میں ریال کی گراوٹ نے ٹرمپ کو ڈپلومیسی کا موقع فراہم کردیا۔ گزشتہ دنوں ایران، انقلاب کے بعد سب سے شدید احتجاجی مظاہروں کی لپیٹ میں رہا۔ ٹرمپ نے جنگ کی دھمکیوں سے لے کر ایرانی عوام کی مدد تک کی پیش کشیں کیں۔ یوں دنیا کی توجّہ ایران کی طرف مبذول ہوگئی۔ روس، چین، یورپ اور مسلم دنیا ٹرمپ سے جنگ نہ کرنے کی درخواستیں کرنے لگے۔
اِسی دَوران ٹرمپ نے غزہ امن منصوبے کے دوسرے مرحلے کا آغاز کردیا۔ اور ساری دنیا کو، جو غزہ کے معاملے میں بہت جذباتی ہو رہی تھی، امن بورڈ میں شرکت کی دعوت دے دی اور پھر یہی دن، رات کی بحث کا موضوع بن گیا۔ اِس کے ساتھ ہی ٹرمپ نے گرین لینڈ معاملے کو پِھر گرم کر دیا۔ ٹرمپ کا یہ اقدام بظاہر یورپ کے خلاف لگتا ہے، لیکن درحقیقت اس کے ذریعے یورپ اور نیٹو کی فوجیں گرین لینڈ میں اخل ہوگئیں اور اب صدر پیوٹن کے لیے گرین لینڈ میں دخل اندازی ناممکن ہوگئی۔
یورپ اور امریکا کبھی بھی آمنے سامنے نہیں آئیں گے۔ ڈنمارک بھی ایک حد سے آگے نہیں بڑھے گا۔ ویسے بھی گرین لینڈ اُس کا زمینی حصّہ تو ہے نہیں اور نہ ہی وہاں کی آبادی ڈنمارک والوں کی ہم وطن ہے، پھر کس برتے پر وہ اُسے اپنی جانب کھینچے گا۔ آخر اُس کا گرین لینڈ ایشو پر امریکا سے کوئی معاہدہ ہو ہی جائے گا۔ ٹرمپ، یورپ پر ٹیرف تو لگاتے ہیں، لیکن درحقیقت اُن کی اصل پابندیاں روس اور ایران کے خلاف ہیں، جن کی معیشتیں آہستہ آہستہ گر رہی ہیں۔
ہمیں نہیں لگتا کہ پیوٹن2026 ء میں یوکرین جنگ جاری رکھ سکیں گے۔ ٹرمپ کی دھمکیوں یا طاقت کے مظاہرے میں یورپ کے لیے کوئی خطرہ نہیں، جب کہ مسلم دنیا کے اہم ممالک بھی اُن کے ساتھ ہیں۔ ٹرمپ، امریکا کو عظیم اور امیر بنانے کے مشن پر ہیں، جس کے لیے وہ نوآبادیات اور قبضے کی بجائے تیز رفتار فوجی قوّت کے استعمال کی ملٹری حکمتِ عملی پر کاربند ہیں۔
ایران میں بم گرادیئے، وینزویلا سے صدر کو اُٹھا لیا اور ایرنی احتجاج کے دَوران دھمکیوں سے اپنا کام نکال لیا۔ اصل میں اُن کی نظریں قدرتی وسائل پر ہیں، جن کے ذریعے وہ امریکا کو معاشی طور پر مضبوط بنانا چاہتے ہیں۔ روس تو یوکرین میں پھنس چُکا ہے، لہٰذا ٹرمپ قدرتی وسائل کے میدان میں چین کی برتری روکنا چاہتے ہیں یا پھر اسے معاونت پر رضامند کرنے کے خواہش مند ہیں۔ دیکھتے ہیں، آنے والے دِنوں میں یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔