• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سیاسی اتحاد ون پوائنٹ ایجنڈے پربنتے ہیں۔ ایجنڈا سیاسی ہوتا ہے۔ اتحادی جماعتوں کا متفقہ سربراہ اس ون پوائنٹ ایجنڈے کو ڈسپلن میں رکھتا ہے۔ اتحاد میں شامل جماعتیں اپنی سیاسی سرگرمیوں کو مدہم کرتی ہوئی اسی ایک نکاتی ایجنڈے کے گرد اکٹھی ہونے لگتی ہیں۔مقصد یہ ہوتاہے کہ اپنی تمام تر توانائیوں کو یکجا کرکے حریف پریکبارگی حملہ کیا جائے۔ ایسے اتحاد تب تحلیل ہوتے ہیں جب مقصدحاصل ہوجاتاہے اور بندربانٹ کا مرحلہ آجاتا ہے۔ جو اتحادی مقدر کاسکندرہوتاہے وہ اپنا حصہ وصول کرلیتاہے۔جو سستی کا شکار ہوجاتا ہے وہ کچھ دن یہاں وہاں شکوے شکایتیں کرتا نظر آتا ہے۔ پھر صبر شکر کیساتھ بھاگتے چور کی لنگوٹ پر راضی ہوجاتا ہے۔

محمود خان اچکزئی تحفظ آئین پاکستان نامی ایک اتحاد کےسربراہ ہیں۔ اس اتحاد کاایک نکاتی ایجنڈا نام سے واضح ہے مگر یہ بس نام سے ہی واضح ہے۔پی ٹی آئی کو ایسے کسی ایجنڈے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ اچکزئی صاحب سیاسی مزاحمت چاہتے ہیں اور پی ٹی آئی انقلاب چاہتی ہے۔ انقلاب سے مراد اس وقت صرف خان صاحب کی رہائی ہے۔ مولانا فضل الرحمن نے اس اتحاد کی قیادت اپنے سرلینے سے اسی لیے گریز کیا تھا کہ یہاں ڈسپلن کی کمی ہے۔پی ٹی آئی دس دھڑوں میں تقسیم ہے۔ ایک دھڑا انقلابی ہے، ایک سیر انقلابی ہے اور ایک سوا سیرانقلابی۔ ایک دھڑا بہنوں والا ہے، ایک زوجہ والاہے، ایک پختونخوا والا اور ایک پنجاب والا۔ مفاداتی ٹولے اور سمندر پار دھڑے اسکے علاوہ ہیں۔ ایک دھڑا اس میں سیاسی بھی ہے۔ مولانا فضل الرحمن اسی سیاسی دھڑے سے معاملہ کرنا چاہتے ہیں مگر اس دھڑے کی کارکنوں کی نظر میں وقعت نہیں ہے۔ انقلابی دھڑا حاوی ہے۔ یہ دھڑا گالم گفتار، سطحیت اور جذباتیت سے پاک قیادت کو کمپرومائزڈ سمجھتا ہے۔ جب تک آواز اونچی نہ ہو،بات غیر معقول نہ ہو، دعوی ماورائی نہ ہو، نعرہ بے سمت نہ ہویہ دھڑا کسی کو عزت اورقیادت کا اہل ہی نہیں سمجھتا۔ وزارت اعلیٰ کیلئے امین گنڈاپور کی نامزدگی پر انقلابی اسی لئے خوش تھے کہ انکا آہنگ بلند تھا۔اسی کوالیفکیشن پر انہوں نے شیر افضل مروت کوچے گویرا قرار دیا ہوا تھا۔ جنید اکبر کو بھی فیدل کاسترو کادرجہ دیا مگر وہ بھی سیاسی قبیلے کے آدمی نکلے۔ اب سہیل آفریدی کو عمران خان کے بعد دوسرا بڑا درجہ اسلئے دے رکھا ہے کہ وہ شاہد آفریدی کی طرح جارحانہ اننگ کھیل رہے ہیں۔ وہ جارحانہ اننگ کھیلنے کے ہی پابند ہیں چاہے تیسری بال پہ آؤٹ ہو جائیں۔ سہیل یہ بات جانتے ہیں کہ میرے پاس ویل لیفٹ کی گنجائش بھی نہیں ہے۔ تماشائیوں کو میری ففٹی اور سنچری میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ ہارجیت کو بھی وہ خاطر میں نہیں لاتے۔ انہیں ہر بار مجھ سے ایک چھکا ایک چوکا چاہیے ہوتا ہے، وہ میں نے دیتے رہنا ہے۔ اگر میں نے ذرا سا بھی تحمل اور تدبر سے کام لیا تو ٹیم سے نکال دیا جاؤں گا۔

انقلابیوں کے اس ہاف کک اسٹارٹ ہجوم نے محمود خان اچکزئی کو بھی خوب متاثر کیا۔ وہ بھی ایک دن اس بات پر مجبور ہو ہی گئے کہ عمران خان کی تصویر اٹھاکر احتجاج پر نکل جائیں۔ ایک بار تو یہ بھی کہہ دیاکہ ہم سیڑھی لگا کر اڈیالہ جیل میں اتر جائینگے اور عمران خان کو نکال کر لے جائیں گے۔ ایسے مافوق البڑھک ڈائیلاگ کی توقع اچکزئی صاحب سے نہیں کی جاسکتی تھی لیکن اچکزئی صاحب کے پاس اسکے علاوہ آپشن بھی کوئی نہیں تھا۔ اب اچکزئی صاحب اپوزیشن لیڈرمنتخب ہوچکے ہیں۔ یہ ایک مناسب انتخاب ہے۔پی ٹی آئی کے تمام دھڑوں کی ضرورت وہ پوری کرتے ہیں۔غیر عوامی مراکز کی مخالفت وہ شدومد سے کرتے ہیں، اس لیے وہ پارلیمنٹ میں موجود انقلابیوں کو بھاتے ہیں۔ پھر وہ سیاسی قائدین کا احترام کرتے ہیں،اس لیے وہ سیاسی دھڑے کیلئے بھی قابل احترام ہوجاتے ہیں۔بطور اپوزیشن لیڈر اپنی پہلی تقریر میں انہوں نے دونوں دھڑوں کو مطمئن کرنے کی کامیاب کوشش کی۔ انہوں نے پارلیمان کی بالادستی اور عمران خان کی رہائی کی بات کی۔ یہاں تک بات پوری پی ٹی آئی کو پسندآئی۔پھر انہوں نے سیاسی لوگوں سے بات چیت اور مشاورت کی بات کردی۔یہ والی بات بیرسٹر گوہر کے علاوہ کسی کو سمجھ نہیں آئی۔اچکزئی صاحب کہہ رہے ہیں،آپ لوگ اپنی نیت ٹھیک کرو میں عمران خان سے بات کروں گا، وہ بات چیت کریگا۔ سچی؟ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا۔

خان صاحب اب چاہ بھی لیں توبات نہیں کرسکتے۔ انقلابی جماعت کو ایک وقت کے بعد کارکن لیڈ کرتاہے۔معاملات خود قیادت کے ہاتھ سے نکل جاتے ہیں۔ایک پاپولر سوچ جماعت کی گاڑی کو چلا رہی ہوتی ہے۔ اسی پاپولر نقطہ نظرکو نظریہ کہنے پر پوری جماعت مجبورہوتی ہے۔ جو اس نظریے سے ہٹتا ہے وہ راندہ درگاہ ہوجاتا ہے۔وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے ترجمان شفیع اللّٰہ جان نے کہا’جو پی ٹی آئی کے نظریے سے مخلص نہ ہو اللّٰہ اسکو ذلیل کر دیتا ہے‘۔اللّٰہ اکبر!! ایک صحافی دوست نے پوچھا، پی ٹی آئی کا نظریہ ویسے ہے کیا؟ادب سےعرض کیا،عمران خان نے سیاستدانوں کے متعلق چور ڈاکو والا جو آموختہ دس برس دہرایا ہے،وہی اب نظریہ کہلاتا ہے۔ یہ نظریہ پی ٹی آئی کے اندر باہمی جڑت کی بنیاد ہے۔جو پی ٹی آئی کا مخالف ہے وہ چور ہے یا چور کا ساتھی ہے۔ اس کے کوائف تب ہی درست ہونگے جب پورے کا پورا پی ٹی آئی میں داخل ہوگا۔ مولانا فضل الرحمن کے چالیس فیصد گناہ اس بات پر دھل گئے ہیں پی ٹی آئی کے کچھ قائدین کو انہوں نے اپنے گھر میں داخل کرلیا ہے۔باقی بھی دھل سکتے ہیں اگر وہ پی ٹی آئی میں داخل ہو جائیں۔ محمود خان اچکزئی کا معاملہ بھی یہی ہے۔پی ٹی آئی میں داخل تو ہوگئے ہیں مگرچادر اور چشمہ پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ اسی لیے وہ سہیل آفریدی والا مقام حاصل نہیں کرپا رہے۔عمران خان کی تصویر سینے سے لگا کر انہوں نے کارکنوں کواپنی وفاداری کا یقین تودلایا، مگر سیاستدانوں سے مذاکرات کی بات کرکے انہوں نے تیس نمبرمزید کٹوا لئے ہیں۔ اب ان کا احترام سیاسی لوگوں کی نظرمیں بہت ہے، مگر سیاسی لوگوں کا احترام کارکنوں کی نظرمیں کچھ بھی نہیں ہے۔اب انہیں دو میں سے ایک راستے کا انتخاب کرنا ہے۔ چپ چاپ انقلابیوں کے پیچھےچلنا شروع کردیں یا پھر انقلابیوں کو اپنے پیچھے لگو ا لیں ۔ پہلاراستہ اچکزئی صاحب لیں گے نہیں اور دوسرے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے۔انقلابیوں نے احتیاطاً گالیاں زبان پر لوڈ کر دی ہیں۔ دیکھئے کب مسلم باغ پر بجلیاں گرتی ہیں۔

تازہ ترین