• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

قومی ترانے کے خالق جناب ابو الاثرحفیظ جالندھری نے ایک نظم آج سے کئی برس پہلے لکھی تھی جس کو 40 برس قبل ملکہ پکھراج اور طاہرہ سید دونوں ماں بیٹی نے مل کے گایا تھا لو پھر بسنت آئی پھولوں پہ رنگ لائی۔ یہ بڑی مشہور ہوئی اور یہ گانا کئی مرتبہ پی ٹی وی سے ٹیلی کاسٹ ہوا ۔دوسرا گانا محمد رفیع نے بہت سال پہلے گایا تھا چلی چلی رے پتنگ میری چلی رے چلی ،ڈور پر سوار ہو کے ساری دنیا دیکھ چلی چلی ہے۔ لاہور یے محمد رفیق کا یہ گانا اپنے مکانوں کی چھتوں پر گرامو فون جو کہ چابی والا باجا ہوتا ہے پر لگایا کرتے تھے اور اس کے آگے مائیک رکھتے تھے جس سے اس کی آواز دور تک جاتی تھی۔ یہ بڑا مقبول گانا ہے اور آج بھی لوگ سنتے ہیں ۔آج کی نوجوان نسل کو یہ نہیں پتہ کہ گراموفون کیا ہوتا تھا ،ریڈیو گرام کیا تھا، ریکارڈ چینجر کیا تھا، ریکارڈ پلیئر کیا تھا ۔

یہ بڑی خوبصورت چیزیں تھیں اور ان کی وائس کوالٹی کیا کمال تھی۔ بہرحال یہ ماضی کی باتیں ہیں پھر کبھی بتاؤں گا ۔ہم نے اپنے بچپن سے اور بسنت پر پابندی لگنے تک اس کا پورا عروج دیکھا ہے ۔لوگوں نے اپنے گھر کی چھتوں پرمجرے کرانے بھی شروع کر دیے جو ایک بڑی غلط روایت پڑ گئی پھر فائرنگ بھی ہونے لگی چنانچہ اس میں پھر جوا بھی شامل ہو گیا اور پتنگ شرطیں لگا کے اڑائی جاتیں اور جس کی کٹ جاتی اس سے شرط کے پیسے لیے جاتے ۔پھر ڈور ایسی بننی شروع ہو گئی جس سے کئی لوگوں کی جان گئی۔ ہمارے لوگوں نے خود ہی بسنت کی روایات کو خراب کرنا شروع کر دیا اور پھر یہاں تک ہوا کہ حکومت کو مجبوراََ اس پر پابندی لگانی پڑ ی۔

لاہور میں جنگ گروپ نےوکٹوریا ہائی اسکول حویلی نو نہال سنگھ میں بسنت کرائی۔یہ بڑی زبردست بسنت تھی پورے لاہور نے بڑا انجوائے کیا اس کے بعد ہم نے دو اوربسنت حویلی دھیان سنگھ یہاں پہ گورنمنٹ کالج ٹونا منڈی ہے برائے خواتین وہاں پہ کی اسے بھی لوگوں نے بڑا انجوائے کیا۔ جنگ گروپ کے زیر اہتمام ایک یادگار بسنت دریائے راوی کی بارہ دری پر رات کے وقت کروائی اور نصرت فتح علی خان نے اس میں پرفارم کیا۔ یہ ان کا آخری لائیو پروگرام تھا ۔ اس کے بعد وہ بیمار ہو گئے اور اللّٰہ کو پیارے ہو گئے۔ ہم نے اس موقع پر نصرت فتح علی خان سے ملاقات بھی کی اور اسٹیج پہ جا کے اپنی پسند کی قوالی کی درخواست بھی کی جو کہ انہوں نے سنا دی۔ لوگ کشتیوں پہ بیٹھ کر یہ بسنت دیکھنے آئے کشتیوں پر دئیے بھی لگائے گئے تھے۔

میاں نواز شریف، مریم نواز شریف، وقار احمد اور ہم نے بسنت کے حوالے سے کئی میٹنگوں میں شرکت کی ۔میاں نواز شریف جس باریکی کے ساتھ ہر چیز کا جائزہ لیتے ہیں ایسا میں نے کسی کو نہیں دیکھا ۔ہم سمجھتے ہیں کہ نواز شریف اور مریم نواز شریف نے لاہور میں دوبارہ بسنت شروع کر کے لاہوریوں کو ایک بہت بڑی تفریح فراہم کی ہے ۔اس وقت اندرون لاہور کے 14دروازوں کے اندر جو مکانات موجود ہیں تقریبا 70سے 80 فیصد مکانات کی چھتیں فروخت ہو چکی ہیں چلیں اس طرح ان مکانوں کے مالکان کو بھی ایک کاروبار مل گیا اور ان کو بھی اچھے خاصے پیسے مل گئے ۔ ہم نے سروے کیا ہے کہ بعض مکانوں کی چھتیں 10 دس لاکھ روپے کی بھی بکی ہیں ،سننے میں آیا ہے کہ ایک چھت شاید اس سے بھی زیادہ کروڑ تک بھی بکی ہے۔ بہرحال بسنت منائیں ضرور لیکن اس میں وہ خرافات مت شامل کریں جس سے پھر حکومت کو اس پر پابندی لگانی پڑ جائے۔ مریم نواز کے اس اقدام سے لاہور یے بڑے خوش ہیں بلکہ ہم تو بڑے میاں صاحب سے کہیں گے کہ ہر ہفتے اتوار کو بھی پتنگ بازی کی اجازت ہونی چاہیے یہ اسی صورت میں ممکن ہے کہ اگر بسنت کے ان تین دنوں میں کوئی ایسا واقعہ عوام کی طرف سے نہ ہو جائے اگرچہ حکومت نے سارے اقدامات کیے ہوئے ہیں ۔ اس بسنت کو محفوظ بنانے میں لاہور کی کمشنر مریم خان اور ڈی آئی جی آپریشن محمد فیصل کامران نے بہت اقدامات اٹھائے ہیں اور امید ہے کہ اس سے بسنت محفوظ رہے گی ۔ آج کل لاہور میں بسنت کا بڑا زور ہے کون سی گلی یابازار، کون سامحلہ یا کٹری اور ا حاطہ ایسا نہیں جہاں پر بڑے بوڑھے سب پتنگیں وگڈیاں تیار نہ کر رہے ہوں۔ خیر بسنت تو 20 سال کی پابندی کے بعد شروع ہو رہی ہے اب پتہ نہیں اُس زمانے کے پتنگ بنانے والے استاد اب دنیا میں ہیں یا نہیں البتہ ایک استاد پدی جوا کیساسی سال کے ہیں آج بھی حیات ہیں اور بقول ان کے کہ وہ نواز شریف صاحب کے ساتھ کئی دفعہ پتنگ بازی کر چکے ہیں۔ منٹو پارک میں بسنت پر پابندی لگنےسے پہلے ایک طویل عرصے تک باقاعدہ دو گروپوں میں پتنگ بازی کے مقابلے ہوا کرتے تھے جو ہم نے بھی دیکھے ہیں اور ہم اس میں شریک بھی ہوتے تھے۔ کیا خوبصورت زمانہ تھا ہم گورنمنٹ سینٹر ل ماڈل اسکول میں زیر تعلیم تھے تو مال روڈ کے صدر سہیل محمود بٹ راڈو والے کے چچا کے گھر ٹیوشن پڑھنے جاتے تھے ۔انکے گھر کے بالکل سامنے پاپا گڈی فروش تھا ۔وہ اپنے کے دور کا سب سے مشہور گڈی فروش تھا اور وہاں پہ اس طرح رش ہوتا تھا جیسے مفت مل رہی ہو ہم بھی کبھی کبھی اپنے استاد کا نام لیکر گڈیاں لے جاتے تھے۔بہرحال بسنت کا یہ ایونٹ بہت اچھا ہے سننے میں آ رہا ہے کہ لاہور کے فائیو اسٹار ہوٹلز کے کمرے کا کرایہ ڈیڑھ لاکھ تک پہنچ چکا ہے اور لاہور کے کسی ہوٹل میں کمرہ نہیں مل رہا ۔ لوگ دوسرے شہروں سے لاہور اس طرح آرہے ہیں جیسے کسی بارات میں شامل ہونا ہو بعض خواتین نے بسنتی کپڑے بھی سلائے ہوئے ہیں مہاراجہ رنجیت سنگھ کے زمانے میں بسنت بڑے جوش و خروش سے منائی جاتی تھی شاہی قلعے سے شالامار باغ تک سرسوں کے کھیتوں کے درمیان مہاراجہ اور انکے ساتھی پیلے لباس میں ہاتھی اور گھوڑوں پہ سوار ہو کے شالامارآتے تھے اور ان کے ساتھ انگریز بھی ہوا کرتے تھے ۔اس بسنت کا کسی آئندہ کالم میں ذکر کروں گا۔

تازہ ترین