ترجمان قومی اسمبلی نے سرکاری خرچ پر پارلیمانی وفد کے عمرے یا حج پر جانے کی خبروں پر وضاحت دے دی۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ سرکاری خرچ پر ایم این ایز کو حج یا عمرے کی کوئی سہولت حاصل نہیں اور نہ ہی سرکاری خرچ پر ایم این ایز کو حج یا عمرے کی سہولت دی جاسکتی ہے۔
ترجمان قومی اسمبلی کے مطابق نومبر 2016 کو منظور قرارداد کے تحت ہر سال ایک وفد 12ربیع الاول کو روزہ رسول ﷺ پر حاضری دیتا ہے، قرارداد کی روشنی میں وفد کے تمام ممبران اپنے اخراجات خود برداشت کرتے ہیں۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ ایس او پیز کے تحت وزارت مذہبی امور صرف انتظامی امور کے لیے سہولت مہیا کرتی ہے، وزارت مذہبی امور کوئی اخراجات برداشت نہیں کرتی۔
ترجمان کے مطابق سرکاری خرچ پر کسی بھی ایسے دورے کی تجویز کسی رکن کی ذاتی رائے ہوسکتی ہے، کسی ایسی تجویز کی کوئی منظوری نہیں دی گئی۔