• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

گزشتہ دنوں سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں عالمی اقتصادی فورم کے اجلاس کے موقع پر ’’غزہ بورڈ آف پیس‘‘ کے مسودے پر دستخط کی تقریب دنیا بھر کی توجہ کا مرکز بنی رہی۔ اس موقع پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین، انڈونیشیا، ترکیہ اور مراکو سمیت 20 ممالک کے سربراہان مملکت نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ہمراہ غزہ بورڈ آف پیس کے چارٹر پر دستخط کئے۔ پاکستان کی جانب سے وزیراعظم شہباز شریف نے بورڈ آف پیس کے مسودے پر دستخط کئے۔ اس موقع پر تقریب میں چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی موجود تھے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چارٹر پر دستخط کرنے والے رہنماؤں بالخصوص وزیراعظم شہباز شریف کا شکریہ ادا کیا اور امن کیلئے اُن کے کردار کو سراہا۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امن کیلئے آج یادگار دن ہے اور اب غزہ کی تعمیر نو کی جائے گی۔

یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ میں قیام امن کیلئے 29 ستمبر 2025ءکو ’’غزہ بورڈ آف پیس‘‘ کے قیام کا اعلان کیا تھا۔ بورڈ کے اہم مقاصد میں اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کی قراردادوں کے مطابق غزہ مسئلے کا مستقل حل، مستقل جنگ بندی، غزہ کی تعمیرنو، پائیدار قیام امن اور فلسطینیوں کے حقوق کا تحفظ شامل ہے۔ اس حوالے سے گزشتہ سال 17نومبر کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے امریکہ کی جانب سے پیش کردہ قرارداد کی منظوری دی تھی جسکے تحت غزہ میں قیام امن کیلئے مختلف ممالک کی افواج پر مشتمل ’’بین الاقوامی امن فورس‘‘ کا قیام بھی شامل ہے۔ بورڈ کے چارٹر کے تحت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ غزہ بورڈ آف پیس کے چیئرمین ہوں گے جبکہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر سمیت دیگر اہم عالمی شخصیات بورڈ کے ارکان میں شامل ہوں گی۔

بورڈ آف پیس کا قیام غزہ میں ہونے والے قتل عام کو روکنے اور فلسطینی عوام کے تحفظ کی جانب ایک اہم پیشرفت ہے۔ بورڈ میں پاکستان کی شمولیت اس کی سفارتی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے جواسے معرکہ حق میں کامیابی اور خطے میں اسٹرٹیجک بالادستی کی بدولت حاصل ہوئی۔ پاکستان اقوام متحدہ، اسلامی تعاون تنظیم (OIC) اور دیگر عالمی فورمز پر فلسطین کے حق میں بھرپور آواز اٹھاتا رہا ہے اور مسئلہ فلسطین پر ایک واضح، اصولی اور غیر مبہم موقف رکھتا ہے۔ یہ موقف محض سیاسی نہیں بلکہ اخلاقی، مذہبی اور انسانی بنیادوں پر استوار ہے۔ پاکستان اُن چند ممالک میں شامل ہے جنہوں نے کبھی اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا اور نہ ہی فلسطین کاز پر کسی قسم کا سمجھوتہ کیا۔

یہی وجہ ہے کہ اگر پاکستان، غزہ بورڈ آف پیس میں ثالثی، سفارش یا پالیسی سازی کا کردار ادا کرتا ہے تو اسے مشکوک نیت یا دوغلے معیار کے الزامات کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا چنانچہ پاکستان میں بعض سیاسی جماعتوں کی جانب سے غزہ بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت پر تنقید اور پاکستان کی شرکت کو مسترد کرنا سمجھ سے بالاتر ہے۔

بورڈ میں جب سعودی عرب، ترکیہ، انڈونیشیا، مراکو اور یو اے ای جیسے اسلامی ممالک شامل ہیں تو پاکستان کیلئے یہ اعزاز کی بات ہے کہ وہ پہلا اسلامی ایٹمی ملک ہے جو بورڈ کا حصہ بنا۔ اگر پاکستان دیگر اہم اسلامی ممالک کے ہمراہ پیس آف بورڈ کا حصہ نہ ہوتا تو اس سے یہ تاثر پیدا ہوتا کہ ان ممالک کے مسلمانوں نے فلسطینی مسلمانوں کو اسرائیل کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے اور پاکستان کی سیاسی و مذہبی جماعتیں حکومت کو طعنہ دیتیں کہ پاکستان کو بورڈ میں شامل نہیں کیا گیا۔ بورڈ آف پیس چارٹر پر دستخط کرنے والے ممالک میں بھارت شامل نہیں جسکی وجہ بھارت کا یہ خوف ہے کہ اگر امریکہ کا بورڈ آف پیس غزہ میں امن قائم کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے تو آنے والے وقت میں کہیں مسئلہ کشمیر کو بھی اسی طرز پر حل کروانے کی کوشش نہ کی جائے۔

غزہ کا سب سے بڑا المیہ صرف اسرائیلی بمباری اور فلسطینیوں نسل کشی نہیں بلکہ مسلم دنیا کی تقسیم بھی ہے۔ پاکستان جو کسی عرب بلاک کا حصہ نہیں، ایک غیر جانبدار اسلامی ریاست کی حیثیت سے دیگر اسلامی ممالک کے درمیان پل کا کردار ادا کرسکتا ہے۔ غزہ بورڈ آف پیس میں پاکستان کی موجودگی اس اتحاد کی علامت بن سکتی ہے جسکی امت مسلمہ کو اشد ضرورت ہے، اس سلسلے میں پاکستان بورڈ آف پیس میں اہم کردار ادا کرتے ہوئے سفارتی سطح پر موثر آواز بن کر ابھرسکتا ہے۔ اس تناظر میں پاکستان غزہ میں مستقل جنگ بندی کیلئے عالمی دباؤ میں اضافہ، فلسطینیوں کی امداد کے محفوظ راستوں کی ضمانت اور اسرائیلی جنگی جرائم کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کرسکتا ہے۔

اسرائیل، جو غزہ پٹی کے نصف سے زائد حصے پر قابض ہے، کا موقف ہے کہ وہ غزہ سے اُسی صورت پیچھے ہٹے گا جب حماس غیر مسلح ہوجائے گی جبکہ حماس کا کہنا ہے کہ وہ خود مختار فلسطینی ریاست کے قیام کے وسیع معاہدے کے تحت ہی غیر مسلح ہوگی۔

ایسے میں بورڈ آف پیس کیلئے ان پیچیدہ اور حساس معاملات کو فریقین کی تسلی کے ساتھ حل کرنا یقیناً ایک بڑا چیلنج ہوگا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا قائم کردہ ’’بورڈ آف پیس‘‘ غزہ میں وہ امن قائم کرپائے گا یا نہیں جو اب تک اقوامِ متحدہ بھی نہ لاسکی، اس کا فیصلہ تو آنے والا وقت ہی کرے گا تاہم بورڈ میں پاکستان سمیت متعدد اہم اسلامی ممالک کی نمایاں موجودگی نے یہ امید ضرور پیدا کی ہے کہ اسرائیل کو پہلے کی طرح فلسطینیوں کے خلاف کھلی جارحیت اور نسل کشی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

تازہ ترین