امریکی ریاست منی سوٹا کے چیف وفاقی جج پیٹرک جے شلٹس نے امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کے قائم مقام ڈائریکٹر ٹوڈ لیونز کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔ جج نے یہ اقدام حراست میں لیے گئے تارکینِ وطن کو ضمانت کی سماعت کی سہویت فراہم نہ کرنے پر اٹھایا ہے۔
عرب میڈیا کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ منی سوٹا عدالت کے حکم کے مطابق ٹوڈ لیونز کو آئندہ جمعے کے روز عدالت میں پیش ہو کر وضاحت دینا ہوگی۔
جج شلٹس نے اپنےریمارکس میں کہا ہے کہ عدالت نے کافی صبر سے کام لیا ہے مگر آئی سی ای نے ہزاروں اہلکار منی سوٹا بھیج دیے اور اس کے نتیجے میں دائر ہونے والی سیکڑوں قانونی درخواستوں سے نمٹنے کا کوئی انتظام نہیں کیا۔
جج شلٹس نے کہا ہے کہ اگر درخواست گزار کو رہا کر دیا گیا تو آئی سی ای کے سربراہ کی عدالت میں پیشی منسوخ کر دی جائے گی۔
یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے کہ جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سخت امیگریشن پالیسی کے خلاف منی سوٹا میں احتجاج جاری ہے۔
حال ہی میں امیگریشن اہلکاروں کے ہاتھوں دو امریکی شہریوں کی ہلاکت کے بعد صدر ٹرمپ نے امیگریشن کارروائی کی نگرانی وائٹ ہاؤس کے ’بارڈر زار‘ ٹام ہومن کے سپرد کر دی ہے۔
عدالتی حکم ایک ایکواڈور کے شہری، خوان ٹی آر، کے کیس سے متعلق ہے جسے عدالت نے 7 دن میں ضمانت کی سماعت دینے کا حکم دیا تھا مگر وہ تاحال حراست میں ہے۔