• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکی پولیس کے ہاتھوں شہری ہلاک: عینی شاہد نے آنکھوں دیکھا حال بتادیا

--کولاج بشکریہ بین الاقوامی میڈیا
--کولاج بشکریہ بین الاقوامی میڈیا 

امریکی شہر منی ایپولس میں امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) کے اہلکاروں کی فائرنگ سے 37 سالہ امریکی شہری نرس الیکس پریٹی ہلاک ہوگیا۔

واقعے کے عینی شاہد ڈاکٹر (ماہر اطفال) نے میڈیا سے گفتگو کے دوران بتایا کہ انہوں نے زخمی شخص کو بچانے کی کوشش کی مگر اہلکاروں نے ابتداء میں اجازت دینے میں ہچکچاہٹ اور تاخیر سے کام لیا۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈاکٹر نے بتایا کہ اُنہوں نے اہلکاروں کو الیکس پریٹی کو زمین پر دھکیلتے اور پھر کئی گولیاں چلاتے دیکھا۔ فائرنگ کے بعد ڈاکٹر باہر آئے اور خود کو معالج بتاتے ہوئے زخمی کو طبی امداد دینے کی اجازت مانگی تاہم اہلکاروں نے پہلے ان سے میڈیکل لائسنس طلب کیا اور تلاشی لی۔

ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ انہوں نے ’پیشہ ورانہ اور اخلاقی ذمہ داری‘ سمجھتے ہوئے اصرار کیا کیونکہ کوئی اہلکار زخمی کی مدد نہیں کر رہا تھا۔ 

عینی شاہد ڈاکٹر کا بتانا تھا کہ اجازت ملنے پر اُنہوں نے زخمی شخص کی نبض چیک کی اور سی پی آر شروع کی۔ کچھ ہی لمحوں بعد ایمبولینس کا عملہ پہنچ گیا تھا۔

عینی شاہد ڈاکٹر نے بتایا کہ وہ واقعے کے بعد شدید صدمے میں تھے اور احتجاج شروع ہونے پر حفاظتی خدشات کے باعث اپنا اپارٹمنٹ چھوڑ کر دوست کے گھر چلے گئے تھے۔

ویڈیوز میں دکھایا گیا کہ الیکس پریٹی، جو منی ایپولس وی اے میڈیکل سینٹر میں آئی سی یو کے نرس تھے، ایک خاتون کی مدد کر رہے تھے جنہیں ایک اہلکار نے زمین پر دھکیل دیا تھا۔ اسی دوران اہلکاروں نے آنسو گیس کا استعمال کیا، پریٹی کو گھسیٹ کر نیچے گرایا اور ایک اہلکار نے ان سے اسلحہ چھین کر فائرنگ کردی۔

محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے مطابق اِن کے اہلکار نے فائرنگ ’خود کے دفاع‘ میں کی کیونکہ الیکس پریٹی نے مبینہ طور پر مزاحمت کی تھی۔

دوسری جانب امریکی شہری الیکس پریٹی کے اہلِ خانہ نے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ اِن کا بیٹا ایک خاتون کی حفاظت کی کوشش کر رہا تھا، اس واقعے کے بعد امریکی شہر میں آئی سی ای کے اہلکاروں کے خلاف شدید احتجاج کیا جا رہا ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید