• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

شہنشاہ ابو الفتح جلال الدین محمد اکبر سلطان الاسلام پادشاہ غازی نے کبھی اپنے اثاثے ڈیکلئر نہیں کئے تھے، نہ ان کی رعایا نے کبھی ان سے یہ فرمائش کی، نہ انہیں کبھی خود اس کی ضرورت محسوس ہوئی۔ ان کی سلطنت میں کوئی نہیں جانتا تھا کہ ان کے اثاثوں میں کتنے ہاتھی گھوڑے، کتنے زر و جواہر، کتنی عمارتیں اور کتنے پلاٹ شامل تھے، اور نہ کسی کو یہ معلوم تھا کہ تختِ طاؤس پر بیٹھنے کے بعد ان کے اثاثوں میں کس رفتار سے اضافہ ہوا۔ یہ معاملہ صرف شہنشاہ اکبر سے مخصوص نہیں تھا، قیصر و قصریٰ سے چنگیز خان تک، کسی بادشاہ نے بھی اپنے ایسٹ ڈیکلئر نہیں کئے۔

جب سیلِ زمانہ بادشاہتیں بہا لے گیا، باج گزار ’’شہری‘‘ کے منصب پر سرفراز ہوئے،آزادی اور مساوات، ’نو ٹیکسیشن ود آؤٹ ریپری زینٹیشن‘ جیسے نعرے فضا میں گونجنے لگے، ’’مفادات کا ٹکراؤ‘‘ جیسی اصطلاحات عام ہوئیں، اس سب کے بعد حکم رانوں کی جواب دہی کے لیے نظام وجود میں آئے، جو اس سے پہلے فقط مذہبی اور اخلاقی مثالوں تک محدود تھے۔ "مساوات" سے مراد تھی قانون کی حکم رانی یعنی قانون کی نظر میں حاکم و محکوم، شاہ و گدا سب برابر ہوں گے۔ شہری کہہ رہے تھے ہم ٹیکس اس شرط پر دیں گے کہ وہ ہماری منشا اور رضا سے خرچے جائیں گے۔ اور حاکمین کو بتا دیا گیا کہ آپ کسی ایسے حکومتی فیصلے کا حصہ نہیں بنیں گے جس سے آپ کو ذاتی فائدہ پہنچے گا، یا پہنچنے کی توقع ہو گی، یعنی جہاں آپ کے فرائضِ منصبی اور ذاتی مفادات کا ٹکراؤ ہو گا، آپ فیصلہ سازی سے پیچھے ہٹ جائیں گے۔مفادات کے ٹکراؤ کی سیدھی سادی مثالیں دیکھیں، ایک وزیر ہے جس کی اپنی شوگر مل ہے، یا اُس کے لاڈلے بچوں کی شوگر ملیں ہیں، اور وہ فیصلہ سازی میں شامل ہے، یعنی عوام کے لیے چینی کی قیمت طے کر رہا ہے، شوگر سیکٹر کو سب سڈیز بانٹنے کا ملی فریضہ ادا کر رہا ہے، اور ’’قوم‘‘ کے بہترین مفاد میں چینی کی درآمد و برامد کے فیصلوں کا حصہ ہے۔ کوئی حاکم ہے جس کے عزیز و اقارب بجلی گھر چلاتے ہیں، اور حاکم بجلی کی قیمت و شرائط طے کر رہا ہے، اور 'بچوں کی خوشی" کا اہتمام کر رہا ہے۔ ایک حاکم ہے جس کے عزیز نئی کالونیاں آباد کرتے ہیں، اور حکومت اس کالونی کے گرد سڑکوں کا جال پیشگی بچھا کر پلاٹوں کی قیمتیں بڑھانے میں "نادانستہ" معاونت کر رہی ہے۔ اسی لیے جواب دہ نظاموں میں "کانفلکٹ آف انٹرسٹ" کے اصول کو اہمیت دی جاتی رہی ہے۔ ہم الزام نہیں لگا رہے کہ اس صورتِ حال میں حکم ران ہمیشہ عوام کے خلاف ہی فیصلہ کرتے ہیں، ہم فقط یہ کہہ رہے ہیں کہ یہ تہمت کی جگہ ہے اور اس سے بہرحال بچنا چاہیے۔ یہ صورتِ حال شکوک کو جنم دیتی ہے، اور اس شک سے حکم رانوں پر رہا سہا بھروسہ بھی ٹوٹتا ہے، اور اگر اعتماد ختم ہو جائے تو شہری اور ریاست میں کیا تعلق باقی رہتا ہے؟ بد اعتمادی حکومت سے لجٹی میسی چھین لیتی ہے۔ یہ جو آپ سنتے ہیں کہ سال ہا سال کی کوشش کے باوجود ٹیکس گزاروں کی تعداد میں اضافہ نہیں ہو سکا، اس کی ایک بنیادی وجہ یہی بداعتمادی ہی تو ہے۔ ’’حکومت ہمارا پیسا اپنے اللے تللوں پر اُڑا دیتی ہے…آج تک ہم نے جو ٹیکس دیا ہے وہ کہاں لگا ہے…ہمارے نام پر حکومت نے جو اربوں ڈالر کا قرض لیا ہے وہ کہاں گیا؟‘‘ یہ فقرے تو چوکوں چوپالوں میں ہم سب نے سن رکھے ہیں۔

اسی مہینے ہماری قومی اسمبلی نے ایک الیکشن ترمیمی بل منظور کیا ہے جو پارلے مان کے ممبران کو یہ حق دیتا ہے کہ وہ اپنے اثاثے "عارضی" طور پر چھپا سکتے ہیں۔ شاعر نے کہا تھا "اُس کے رخسار دیکھ جیتا ہوں۔۔۔عارضی میری زندگانی ہے۔" یہ بھی کچھ ایسا ہی معاملہ لگ رہا ہے۔ میرے پیارے سیاست دانو یہ آپ کو کیا سوجھی؟ کیا عوام کی فلاح کے لیے تمام قانون سازی ہو چکی تھی کہ آخرش آپ کو اپنا اور اپنے بال بچوں کا خیال آ گیا؟ دماغ پر بہت زور دیا کہ آخر اس قانون کی کیا ’’معقول‘‘ وجہ ہو سکتی ہے؟ کچھ سمجھ نہیں آئی۔ پھر قانون غور سے پڑھا، لکھا تھا یہ اثتثنا قانون سازوں اور ان کے خاندانوں کے تحفظ کے لیے ہے۔ آپ کو اس سے کیا سمجھ آئی؟ سیاست دانوں کو کیوں یہ خطرہ محسوس ہو رہا ہے کہ اگر ان کے اثاثے مشتہر کر دیے گئے تو عوام انہیں ‘’کوٹے" ماریں گے؟ آپ ایسی حرکتیں کیوں کرتے ہیں کہ آپ کو سنگ سار کیا جائے؟ عوام تو پہلے ہی اس نظام کو مشکوک نظروں سے دیکھ رہے ہیں، ہر نیا سروے جمہوریت سے توقعات باندھنے والوں کی تعداد میں کمی کا اعلان کرتا ہے، آپ کہہ رہے ہیں ہم اپنے اثاثے چھپانا چاہتے ہیں۔ پانی ڈھلان کی طرف بہتا ہے، یہ موجِ دیدہ دلیری بھی اوپر سے نیچے کی طرف بہہ رہی ہے۔ آنسو بہائیں یا دیوانہ وار قہقہے، کچھ سمجھ نہیں آتا۔

ابھی یہ لطیفہ تمام نہیں ہوا، آگے سنیے۔ سوموار کو قومی اسمبلی کی مذہبی امور پر سٹینڈنگ کمیٹی نے تجویز دی ہے کہ سپیکر ایاز صادق ہر سال اسمبلی اراکان کے ایک دس رکنی وفد کی قیادت فرمائیں جو ’’پاکستانی عوام کی طرف سے‘‘ عمرہ کی سعادت حاصل کرے، اور ’’عوام کی طرف سے‘‘ نوافل ادا کرے، اور ’’عوام کی طرف سے‘‘ دعائیں مانگے۔ کمیٹی کی چیئرپرسن شگفتہ جمانی نے اصرار کیا کہ سرکاری وفد کا خرچ عوام کے ٹیکس سے ادا کیا جائے، ورنہ اپنے خرچ پر تو ہم انفرادی طور پر جب چاہیں جا ہی سکتے ہیں۔ اب اس پر کیا تبصرہ کریں، دل سے جو فوری آواز اٹھی ہے یہ باوقار اخبار شاید اُس کا متحمل نہ ہو سکے۔

تازہ ترین