• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پارلیمنٹ کے مُشترکہ اجلاس میں عورتوں ، مردوں ، ٹرانس جینڈر ، بچوں اور کمزور افراد کو گھریلو تشدد سے بچائو ، دادرسی اور بحالی کے لئے The Domestic Violence (Prevention and Protection) Act 2026 منظور کر لیا گیا ہے ۔ اِسکا اِطلاق اسلام آباد کے وفاقی علاقے میں ہو گا جبکہ اِس قانون کا اختیار فیملی کورٹ کو دیا گیا ہے ۔ Domestic Violenceکی تعریف دفعہ 3میں دی گئی ہے جبکہ دفعہ 3(c)میں نفسیاتی اور زبانی تشد د کو بیان کیا گیا ہے ۔ قانون کی دفعہ 4کے مطابق اگر جرم تعزیراتِ پاکستان مجریہ 1860کے زُمرے میں نہ آتا ہو تو گھریلو تشددکی زیادہ سے زیادہ سزا 3سال قید (سادہ) اور کم از کم سزا چھ ماہ ہو گی جبکہ جرمانہ کی شرح زیادہ سے زیادہ ایک لاکھ روپے اور کم از کم بیس ہزار روپے رکھی گئی ہے جوکہ متاثرہ فرد کو ادا کیا جائے گا۔ دفعہ 5کے مطابق متاثرہ فرد کی جانب سے درخواست دئیے جانے پر عدالت الزام علیہ کو شوکاز جاری کرے گی کہ کیوں نہ اسکے خلاف پروٹیکشن آرڈر جاری کر دیا جائے جبکہ درخواست کا فیصلہ 90دن کے اندر کیا جائے گا۔ دفعہ 6کے مطابق متاثرہ فرد کو shared house-hold میں رہنے کا اختیار دیا گیا ہے چاہے اِسکی گھر میں ملکیت ہو یا نہ ہو۔ دفعہ 7کے مطابق عدالت عبوری حکم جاری کر سکتی ہے ۔ دفعہ 8کے تحت عدالت مسئول علیہ کو متاثرہ فردسے کسی بھی قسم کا رابطہ کرنے سے منع کر سکتی ہے اور اُس سے دُور رہنے کا بھی حکم صادر کر سکتی ہے ۔

اس قانون کی دفعہ 15کے تحت ایک پروٹیکشن کمیٹی متعارف کرائی گئی ہے جسکا کام متاثرہ فرد کو اُسکے حقوق سے آگاہ کرنا ہو گا۔ یہ کمیٹی متاثرہ فرد کا میڈیکل بھی کرائے گی اور محفوظ مقام ڈھونڈ نے میں اُسکی مدد بھی کرے گی اور اگر ضرورت ہو تو قانونی کاروائی کے لئے بھی مدد فراہم کرے گی۔ بادی النظر میں اِس قانون کو بنانے کی ضرورت اِس لیے پیش آئی تاکہ خانگی زندگی کو تحفظ دیا جا سکے۔ بڑا اہم سوال یہ ہے کہ کیا اِس طرح کا قانون کسی خاندان کو حقیقی تحفظ ، سکون ، آرام اور رشتوں کی مضبوطی فراہم کر سکتا ہے ؟ کیا یہ قانون گھر کے ہر فرد کو بِلا تمیزِ عمر و رشتہ ایک دوسرے کے مقابلے پر لا کھڑا تو نہیں کر دے گا۔ انتہائی سنجیدگی سے سوچنے کی بات ہے کہ کیا اِس قانون میں اتنی سکت ہے کہ یہ گھر کے افراد کے دلوں کو جوڑ سکے اور ایک دوسرے کے بارے میں کدورتوں کو ختم کر سکے۔

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ قانون بناتے وقت اسلا م کے راہنما اصولوں اور احکامات سے استفادہ کرنے کی کوشش نہیں کی گئی۔ سورۃالنساء میں اللہ تعالیٰ کے فرمان کا مفہوم ہے کہ اگر تم کسی خاندان میں ناچاقی دیکھو تو دونوں فریقوں کے خاندان سے ایک ایک ثالث مقرر کرو۔ بِلاشبہ گھر کے بڑے بزرگ تو یقینا خیر خواہ ہوں گے اُن کو رشتوں کا کوئی پاس اور احترام ہو گا مگر غیر متعلقہ افراد سے کیا توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ کسی خاندان کو بچائیں گے۔ رشتوں کا درد، خون کا پاس اور ہمدردی رشتہ داروں (خواہ کیسے ہی کیوں نہ ہوں ) کو ہوا کرتی ہے۔ پرانے وقتوں میں خاندان بَابوں اور مَائیوں کی وجہ سے جُڑے رہتے تھے۔ ہزار نا چاقیوںکے باوجود نوبت طلاق یا علیحدگی تک نہیں پہنچتی تھی۔

بڑے ابا جی (دادا ،نانا ) اور بڑی امی جی (دادی ، نانی ) کے ہوتے ہوئے کِس کی مَجال تھی کہ کوئی اونچی آواز میں بات بھی کر جائے۔ وہی بابے رشتے بناتے، نبھاتے اور نبھواتے تھے ۔ یہی بزرگ گھروں کی رونق اور خیروبرکت کے باعث تھے ۔ فیصلہ سازی اُنہی کے ہاتھ میں تھی اِس لیے یہ بزرگ اپنے فیصلوں کا مکمل وزن اور ذمہ بھی اُٹھاتے تھے جب سے یہ بَابے ہمارے گھروں میں غیر متعلق، لا تعلق اور بے اختیا ر ہوئے ہیں تب سے گھریلو معاملات مسائل کے شکار ہیں ۔ گھروں میں چھوٹی موٹی اونچ نیچ اور کمی بیشی ایک عام معمول کی بات ہے ۔ کسی بڑے یا بزرگ کا کسی چھوٹے کو ڈانٹ ڈپٹ کرنا اصلاح کی خاطر تلقین اور نصیحت ہی کے زُمرے میں آتا ہے لیکن اگر اِس پر تعزیر لگ گئی تو پھر ہر گھر کے ہر فرد کے ایک دوسرے کے خلاف مقدمات عدالتوں کی زینت بنیں گے ۔ گھریلوتشددکی جو تعریف اِ س قانون میں دی گئی ہے اس کے تحت نہ صرف مقدمہ بازی کو فروغ ملے گا بلکہ گھروں کا امن تباہ ہو جانے کا احتمال بھی ضرور ہے۔ راقم کی تین دہائیوں کی وکالت کا تجربہ اور مُشاہدہ ہے کہ وہ بد قسمت خاندان جن کے معاملات عدالتوں میں پہنچ جاتے ہیں اُن کا شیرازہ بِکھر جاتا ہے۔ گھروں کے مفاد میں یہی ہو تا ہے کہ اُن کی بات گھر سے باہر نہ نکلے۔ مگر جہاں درخواست بازی شروع ہو جائے اور عدالتوں میں بُلاوے اور پُکارے کسے جانے لگیں وہ خاندان اُجڑنے لگتے ہیں ۔ فیملی کو تحفظ دینے کے لئےضروری ہے کہ دونوں خاندانوں کے بڑوں پر مشتمل مصالحتی کمیٹی کی تشکیل کو یقینی بنایا جائے جو انتہائی با اختیار بھی ہو۔ نانا، نانی ، دادا، دادی ، بڑا بھائی ،بڑی بہن کائنات میں سب سے اہم ترین موثر ، مقدم اور محترم رشتے ہیں ۔ اِن کی خیر خواہی اور نیک نیتی پر شک نہیں کیا جا سکتا ۔

کیا ہی اچھا ہو کہ کسی نا چاقی کی صورت میں سب سے پہلے مندرجہ بالارشتہ داروں کے دروازے پر دستک دی جائے اور اگر معاملہ حل نہ ہو سکے تو پھر عدالت کا دروازہ دیکھا جائے ۔ اِس حوالے سے مسلم فیملی لا آرڈیننس 1961ء میں مناسب ترمیم کی جاسکتی ہے ۔ اسکول اور کالج کے نصاب میں صبر ، شکر ، درگزر، تحمل اور معاف کر دینے کی اہمیت کے متعلق مواد کو شامل کیا جانا چاہیے۔ رسُول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو حق پر ہونے کے باوجود اللہ کی رضا کے لیے جھگڑا چھوڑ دے میں اُسکو جنت کی ضمانت دیتا ہوں۔ گھروں میں ہونے والی چھوٹی موٹی ناچاقی پر درگزر اور صبر سے کام لے کر ہم اپنی دنیا اور آخرت دونوں سنوار سکتے ہیں۔

تازہ ترین