’’ ہر تعمیر نیچے سے اوپر کی جانب ہوتی ہے جبکہ اوپر سے نیچے صرف گڑھا کھودا جاسکتا ہے ‘‘ 1979 کے بلدیاتی انتخابات سے پہلے یہ بات ایک غیرملکی جریدے کو انٹرویو دیتے ہوئے جنرل ضیاء الحق نے کہی تھی۔فوجی انقلاب کے ڈھائی سال بعد انہوں نے ملک میں پارلیمانی انتخابات کے بجائے بلدیاتی انتخابات کرانے کا فیصلہ جس وجہ سے کیا وہ ریکارڈ پر موجود حقائق کی رُو سے یہ تھی کہ جب نوے دن کے وعدے کے مطابق مارشل لا حکومت نے انتخابات کی تیاری شروع کی تو بھٹو حکومت کے خلاف تحریک چلانے والے نوجماعتی سیاسی اتحاد کی کئی اہم جماعتوں نے فوجی حکمراں سے درخواست کی کہ پہلے سابق حکمراں کے ساڑھے پانچ سالہ دور کی کارکردگی کا احتساب کیا جائے جس کے بعد وائٹ پیپرز کی تیاری کا سلسلہ شروع ہوا۔ بظاہر پی این اے رہنماؤں کے اس مطالبۂ احتساب کے پیچھے فوج کے زیر انتظام انتخابات میں بھی سابق حکمراں جماعت کی کامیابی کا خوف تھا۔بالآخر اس خدشے کا ازالہ قتل کے ایک مقدمے میں سابق وزیر اعظم کی پھانسی کی شکل میں ہوگیا ۔ اس کے بعد جنرل ضیاء نے پارلیمانی انتخابات کرانے کا اعلان اس شرط کے ساتھ کیا کہ سیاسی جماعتوں کی رجسٹریشن لازمی ہو گی اور انہیں اپنے مالیاتی ذرائع بھی بتانا ہوں گے۔ اس پر بیشتر سیاسی جماعتوں نے الیکشن میں حصہ لینے سے انکار کردیا جس کے بعدٹی وی پر اپنے طویل خطاب میں انہوں نے عام انتخابات کے بجائے بلدیاتی انتخابات کرانے کا اعلان اس دلیل کے ساتھ کیا کہ ہر تعمیرنیچے سے اوپر کی جانب ہوتی ہے۔
فوجی حکمراںکے بہت سے فیصلے غلط تھے جن کے منفی نتائج سامنے آئے تاہم با اختیار بلدیاتی نظام کے حق میں ان کی یہ دلیل حقیقت کے عین مطابق تھی۔تمام ترقی یافتہ ملکوں میں مقامی حکومتوں کے اسی نظام کے تحت وسائل اور اختیارات نچلی سطح تک منتقل کیے گئے ہیں۔پاکستان میں بھی آمرانہ ادوار میں مقامی حکومتوں کا تجربہ کامیابی سے کیا جاتا رہا ہے ۔ ممکن ہے اس کا بنیادی سبب آمرانِ وقت کا اپنے لیے سیاسی اور عوامی حمایت کا حصول ہو لیکن اس کے نتیجے میں بہرحال اختیارات گلی محلوں کی سطح تک منتقل ہوئے ۔ گلیوں کی صفائی، پانی کی فراہمی، سیوریج کا نظام، بلدیاتی اسپتال، تعلیم گاہیں اور دیگر ادارے حقیقی عوامی نمائندوں کے زیر انتظام آگئے۔ ضیاء دور میں بلدیہ عظمیٰ کراچی کے میئر عبدالستار افغانی منتخب ہوئے ، مشرف حکومت میں یہ منصب نعمت اللہ خان اور مصطفی کمال کو ملا اور ان سبھی ادوار میں شہر کی تعمیر و ترقی کے بڑے منصوبے مکمل ہوئے اور شہریوں کو زندگی کی بہتر سہولتیں میسر آئیں۔ یونین کونسلوں کی شکل میں لوگوں کو اپنے ہی محلے میں رہنے والے کونسلر اور یوسی چیئرمین تک رسائی کے آسان مواقع ملے۔تاہم سیاسی حکومتیں تقریباً ہمیشہ ہی فعال و با اختیار بلدیاتی نظام کو اپنے اثر و رسوخ میں کمی کا سبب سمجھتے ہوئے اس کی راہ میں روڑے اٹکاتی رہی ہیں۔ اس حقیقت کا اعتراف حال ہی میں وزیر دفاع نے بھی ببانگ دہل کیا ہے۔ اسلام آباد اور پنجاب میں بلدیاتی انتخابات مسلسل ملتوی کیے جارہے ہیں جبکہ کراچی میں بلدیاتی نظام موجود تو ہے مگر اختیارات نچلی سطح تک منتقل نہیں کیے گئے ہیں۔ ملک میں جمہوریت کے غیر مستحکم ہونے کا ایک بڑا سبب بھی یہی ہے کیونکہ اس کی وجہ سے عوامی قیادت کا ابھرنا ممکن نہیں لہٰذا صوبوں اور مرکز میںاقتدار پر عشروں سے چند خاندانوں کی اجارہ داری قائم ہے۔ اس کے مقابلے میں وہ ممالک جن میں مقامی حکومتیں ضروری وسائل اور اختیارات کی حامل ہوتی ہیں، ان میں عوام کے اندر سے قومی سطح کی قیادتیں ابھرتی ہیں۔ اس کی متعدد مثالیں ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان، بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی، ایران کے سابق صدر احمدی نژاد، امریکہ کے سابق صدر بارک اوباما وغیرہ کی شکل میں ہمارے سامنے ہیں، یہ سب مقامی حکومتوں کی میئرشپ سے اپنے ملکوں کی قیادت کے مناصب تک پہنچے۔اسی وجہ سے ان کے ملکوں میں جمہوریت کو استحکام حاصل ہوا جبکہ ہمارے ہاں انتخابی عمل وفاق اور صوبوں تک محدود رکھ کر جمہوری عمارت اوپر سے نیچے کی جانب تعمیر کرنے کی کوشش کی جاتی رہی، نتیجہ یہ کہ ہم جمہوریت کے نام پر گڑھا ہی کھود سکے ہیں۔مشکلات اور مسائل کاحل نہ ہونا، سیاسی عمل سے عوام کی بیزاری اور لاتعلقی کو بڑھا تے ہوئے انہیں احساس بے بسی میں مبتلا کررہا ہے۔اس کیفیت میں مثبت تبدیلی اسی صورت میں آسکتی ہے کہ مقامی حکومتوں کے فعال نظام کے ذریعے شہریوں کو اپنے روزمرہ مسائل خود حل کرنے کا اختیار ملے۔ اسی طرح ملک کونچلی سطح سے اعلیٰ قیادت تک پہنچنے والی وہ قیادت میسر آسکتی ہے جو عوام کے شب و روز کی تلخیوں سے آگاہ بھی ہواور انہیں دور کرنے کا سچا جذبہ اور اہلیت بھی رکھتی ہو۔
عوام کا حال زار بہتر بنانے کیلئے دو ڈھائی درجن نئے صوبے بنانے کی تجویز بھی ان دنوں زیر بحث ہے اور متعدد ملکوں میں اس کے بڑے مفید نتائج رونما ہوئے بھی ہیں لیکن ہمارے ہاں اس تجویز کو عملی جامہ پہنانا کئی وجوہ سے نہایت مشکل ہے۔ کسی بھی صوبے کے عوام اسے خوشی سے قبول نہیں کریں گے اور جبراً مسلط کیے گئے فیصلے قومی یگانگت کے بجائے افتراق و انتشار کا سبب بنتے ہیں جو ہمارے ہاں پہلے ہی بہت ہے۔ لہٰذا نئے صوبوں کے خلاف اسی طرح سخت مزاحمت یقینی ہے جیسی کالا باغ ڈیم کے معاملے میں دیکھی جاچکی ہے اورجس کی بنا پر آمرانہ ادوار میں بھی اس منصوبے کو آگے نہیں بڑھایا جاسکا جبکہ منتخب بلدیاتی نظام ہمارے آئین کا لازمی تقاضا ہے چنانچہ کسی کے پاس اس سے اختلاف کا کوئی جواز نہیں۔ لہٰذا مستحکم جمہوری معاشرے کی منزل کی جانب پیش رفت اور عوام کی زندگی کو آسان بنانے کی خاطر ضروری ہے کہ جمہوریت کی عمارت جڑ بنیاد سے تعمیر کی جائے ، دنیا بھر میں جس کا آزمودہ طریقہ مقامی حکومتوں کا با اختیار اور مستحکم و مؤثر نظام ہے ۔