• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

قائداعظم سے بطور گورنر جنرل حلف سندھ ہائیکورٹ کے جج جسٹس حطیم طیب جی نے لینا تھا مگر لاہور سے جسٹس عبدالرشید کو بلوا کر حلف کیوں لینا پڑا؟ جسٹس حطیم نے بیرسٹر عزیزاللہ شیخ کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکیوں کہ نوجوان!اس بات کا ہمیشہ خیال رکھو ،کہ دغابازی کا آغاز پاکستان بننےسے پہلے ہی ہو چکا تھا؟آج تاریخ کی ورق گردانی کرتے ہوئے ہم انہی سوالات کے جواب تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

تقسیم ہند سے پہلے اعلیٰ عدالتیں چیف کورٹ ،ہائی کورٹ اور فیڈرل کورٹ کہلاتی تھیں ۔1866ء میں درہ خیبر سے دہلی کے لال قلعہ اور ہزارہ سے ملتان تک کے علاقے کو انصاف فراہم کرنے کی غرض سے لاہور میں چیف کورٹ کا قیام عمل میں لایا گیا اور پھر 21مارچ1919ء کو اسے ہائیکورٹ کا درجہ دیا گیا تو جسٹس Henry Rattiganپہلے چیف جسٹس مقرر ہوئے۔

رائے بہادر شادی لال کو لاہور ہائیکورٹ کے پہلے ہندوستانی چیف جسٹس کا اعزاز حاصل ہوا ۔جب رائے بہادر شادی لال سبکدوش ہوئے تو 1946ء میںلاہور کے علاقے باغبانپورہ کی میاں فیملی سے تعلق رکھنے والے جسٹس سر عبدالرشید لاہور ہائیکورٹ کے پہلے مسلمان چیف جسٹس بن گئے۔لاہور کے میاں خاندان سےہی تعلق رکھنے والے جسٹس شاہ دین کوپہلا مسلمان وکیل اور جج بننے کا اعزاز حاصل ہوا ۔

تقسیم ہندوستان کے وقت فیڈرل کورٹ دہلی میں تھی،اس کے علاوہ کلکتہ ،ممبئی ،مدراس ،الہٰ آباد ،پٹنہ،ناگ پور اور رنگون میں ہائیکورٹس کام کر رہی تھیں ۔لاہور میں ہائیکورٹ جبکہ سندھ میں چیف کورٹ موجود تھی مگر مشرقی پاکستان میں کوئی اعلیٰ عدالت موجود نہ تھی اس لئے وہاں نئے سرے سے ہائیکورٹ قائم کرنا پڑی۔

قیام پاکستان کے موقع پر پہلے گورنر جنرل قائداعظم محمد علی جناح کی تقریب حلف برداری ہوئی تو لاہورہائیکورٹ کے چیف جسٹس سرعبدالرشید نے ان سے حلف لیا ۔جسٹس عبدالرشید کی اصول پسندی کا یہ عالم تھا کہ جب تک قائداعظم نے حلف نہ لے لیا ،جسٹس عبدالرشید نے انہیں گورنر جنرل کی نشست پر بیٹھنے کی اجازت نہ دی۔معروف قانون دان بیرسٹر عزیزاللہ شیخ نے اپنی کتاب story untoldمیں ایک منفرد کہانی بیان کی ہے ان کا دعویٰ ہے کہ قائداعظم سے دھوکہ ہوا یا جانے کیا مگر ان سے گورنر جنرل کا حلف سندھ ہائیکورٹ کے جج جسٹس حطیم بدرالدین طیب جی نے لینا تھا ۔جسٹس حطیم کے والد بدرالدین طیب جی ہندوستان کے معروف قانون دان تھے اورکانگریس کے پہلے مسلمان صدر بھی بنے ۔ان سے متعلق یہ انکشاف کرتے ہوئے بیرسٹر عزیز اللہ شیخ اپنی کتاب story untoldکے صفحہ نمبر 124پر لکھتے ہیں کہ قائداعظم نے جسٹس حطیم طیب جی سے کہا کہ میری حلف برداری کراچی میں تم کرو گے ۔میں نے جواباً کہا کہ یہ میرے لئے اعزاز کی بات ہوگی۔اس تقریب کیلئے خصوصی لباس جو لندن سے سلوایا جاتا تھا اس کیلئے جسٹس حطیم طیب جی کا ناپ بھی لیا گیا مگر پھر کوئی اطلاع نہ ملی ۔رجسٹرار جے ڈیسا نے بتایا کہ لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سر عبدالرشید گورنر جنرل سے حلف لیں گے اور پھر یہ بھی بتایا کہ اگر آپ حلف برداری کی تصاویر غور سے دیکھو تومعلوم ہوگا کہ جو گاؤن جسٹس عبدالرشید نے پہنا ہوا ہے وہ آپ کے ناپ کا ہے ۔اس کیساتھ ہی جسٹس حطیم نے بیرسٹر عزیزاللہ شیخ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ نوجوان!اس بات کا ہمیشہ خیال رکھو ،کہ دغابازی کا آغاز پاکستان بننے سے پہلے ہی ہو چکا تھا۔

لاہور ہائیکورٹ میں قیام پاکستان کے وقت چیف جسٹس عبدالرشید کے علاوہ 15جج صاحبان تعینات تھے۔جسٹس عبدالرشید سمیت پانچ مسلمان جج بدستور کام کرتے رہے ،جن میں جسٹس منیر،جسٹس عبدالرحمان ،جسٹس محمد شریف ،جسٹس عطامحمد جان اور جسٹس ڈاکٹر شیخ عبدالرحمان شامل تھے ۔ایک مسیحی جج جسٹس اے آر کارنیلئس نے ہائیکورٹ کے جج کے طور پر کام کرنے پر آمادگی ظاہر کی ۔یوں لاہور ہائیکورٹ نے چیف جسٹس سمیت سات ججوں کیساتھ اپنے نئے عدالتی سفر کا آغاز کیا۔سندھ چیف کورٹ جسے بعد ازاں ہائیکورٹ کا درجہ دیدیا گیا ،وہاں انگریز جج جسٹس Godfrey Davisچیف جسٹس تھے اور انہوں نے برطانیہ واپس جانے کا فیصلہ کیا ۔یوں جسٹس حطیم بدرالدین طیب جی کو چیف جسٹس بنا دیا گیا جبکہ انکے علاوہ وہاں جسٹس Deniss O Sullivan,Justice George Constantine,Justice TV Thanani ,Justice Hassan ali agha and Justice MR Mehar نے بھی حسب سابق کام جاری رکھنے پر آمادگی ظاہر کی۔

قیام پاکستان کے فوراً بعد 13ستمبر کو مشرقی بنگال ہائیکورٹ کے قیام کا اعلان کیا گیا ۔جسٹس نورالعظیم خندکر جو کلکتہ ہائیکورٹ کے سینئر موسٹ جج تھے ،وہ پاکستان آئے تو انہیں چیف جسٹس مشرقی بنگال ہائیکورٹ بنا دیا گیا ۔کچھ عرصہ بعد ہی وہ فوت ہوگئے تو جسٹس اے ایس ایم اکرم چیف جسٹس بن گئے جبکہ کلکتہ ہائیکورٹ کے انگریز جج جسٹس Hobart Eillsجو سنیارٹی کے اعتبار سے17ویں نمبر پر تھے ،انہوں نے بھی بھارت کے بجائے پاکستان منتقل ہونے کا فیصلہ کیا تو مشرقی پاکستان کے جج تعینات ہوئے ۔جسٹس محمد شہاب الدین جو مدراس ہائیکور ٹ کے جج تھے وہ بھارت چھوڑ کو پاکستان آئے تو انہیں بھی مشرقی پاکستان ہائیکورٹ بھجوا دیا گیا۔

تقسیم ہند کے وقت قابل افراد کی اشد ضرورت تھی اس لئے انگریز افسروں اور وکلا کی مانگ بہت زیادہ بڑھ گئی ۔قائد اعظم نے لارڈ ماؤنٹ بیٹن سے درخواست کی کہ وہ بیوروکریسی میں سے ایسے قابل اور فرض شناس انگریز افسرتجویز کریںجو پاکستان کے نئے شعبہ جات کو مستحکم کر سکیں ۔اسی طرح نیا آئین تیار کرنے میں مدد کرنےکیلئے بھی قانونی ماہرین کی درخواست کی گئی۔پاکستان کی بری افواج ،بحریہ اور فضائیہ کیلئےانگریز افسروں کا انتخاب ہو چکا ،پنجاب اور خیبر پختونخوا میں گورنر کے عہدےکیلئے بھی گوروں کا انتخاب کیا گیا تو لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے چیف جسٹس کے عہدے کیلئے بھی ایک انگریز جج کا نام تجویز کیا مگر قائداعظم نے یہ سفارش ماننے سے انکار کردیا ۔اس انگریز جج نے کئی بار کوشش کی مگر قائداعظم نہ مانے۔ یہ جج کون تھے اور قائداعظم کیوں نہ مانے ،یہ گتھی پھر کسی کالم میں سلجھانے کی کوشش کریں گے۔

تازہ ترین