• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

روبینہ یوسف

پتا نہیں، کیا بات تھی کہ لان میں بہت سارے درختوں کے ساتھ لگا ایک درخت سوکھتا جا رہا تھا، جب کہ باقی سرسبز و شاداب تھے۔ اجالا پہلے کی طرح باغ کی دیکھ بھال کرتی۔ آغا جان کا تو شوق ہی باغ بانی تھا۔ اظہر کو کاروبار کے بکھیڑوں ہی سے فرصت نہ تھی۔ رہ گیا آغا عدن، فیضان عالم کا واحد پوتا، وہ تتلیوں کے پیچھے بھاگتا، موتیا اور چنبیلی کے پھول توڑتا۔ کبھی آغا جان کے ساتھ مل کر پودوں کو پانی دیتا اور پھر دیر تک کوئل کی کُو کُو سنتا۔

یعنی دیکھا جائے تو اظہر کے سوا سب اپنے چھوٹے سے باغ کو حتی المقدور وقت دیتے۔ ’’سچ ہے کہ انسانی زندگی کی مثال بھی باغ جیسی ہی ہے۔‘‘ عدن آغا جان کی باتیں بہت غور اور دل چسپی سے سُنا کرتا۔ اجالا کی تربیت اور آغا جان کی شفقت کا کمال تھا کہ وہ موبائل کی آلائشوں سے بچا ہوا تھا۔ چھوٹا سا تھا، جب اپنے دادا کے ساتھ مختلف نرسریوں میں گھومتا، پودے اکٹھے کرتا، گھر آ کر اُن کو پوری توجّہ سے سنوارتا، نکھارتا۔

یہی نفاست اس کی زندگی میں بھی رچ بس گئی تھی۔ صرف نو سال کی عُمر میں بےمثال ذہانت کا مالک تھا۔ اظہر اگرچہ کاروبار کے بکھیڑوں میں گھر کو سوائے ہفتہ واری چُھٹی کے وقت نہ دے پاتا، مگر اپنے آغا جان کی دُوراندیشی، اجالا کی توجّہ اورنگہ داشت کی بدولت ایک پُرسُکون، خوشیوں بَھرے گہوارے کا مالک ہونے پر خوشی سے پھولا نہ سماتا۔

عدن، پیپل کے درخت کے پاس متفکر سا کھڑا تھا۔وجہ یہ تھی کہ پچھلے کچھ دِنوں سے درخت بہت پتّے گرانے لگا تھا، حالاں کہ بہار کا موسم تھا۔ آغا جان کچھ فاصلے پر پودوں کی تراش خراش میں مصروف تھے۔ اجالا شام کی چائے تیار کر رہی تھی۔ ’’دادا جان! آج بہت تیز ہوا بھی نہیں، مگر دیکھیں یہ درخت کیسے اِدھر اُدھر لہرارہا ہے۔ لگتا ہے، اِس کی جڑیں کم زور ہوگئی ہیں۔‘‘ عدن معصومانہ تدبّر میں ڈوبا دادا سے سوال وجواب کررہا تھا۔ آغا جان مُسکرا رہے تھے۔ 

اُنہوں نے اپنے ہاتھ جھاڑتے ہوئے عدن کو دیکھا، جو اُن کے جواب کا منتظر تھا۔ ’’دادا کی جان! قدرت کے کچھ اصول ہوتے ہیں۔ اب دیکھو، اِس دنیا میں ہم سے پہلے بہت سے لوگ رہتے تھے۔ جب تک اُنھیں رہنا نصیب تھا، اُنہوں نے زمین کو آباد کیے رکھا اور جب اُن کا وقت پورا ہوگیا تو وہ چلے گئے۔ یہی حال ان درختوں بلکہ کائنات کی ہر شے کا ہے۔‘‘

اور اُس صُبح تو غضب ہی ہوگیا۔ رات گرج چمک کے ساتھ بادل خُوب کھل کربرسے۔ عدن اسکول جانے کے لیےاظہر کے ساتھ گاڑی میں بیٹھنے لگا، تو اُس کی نظر جا بجا بکھرے پتّوں اور اُسی سوکھے درخت پر پڑی، جو زمین بوس ہو کر کئی ٹکڑوں میں بٹ چکا تھا۔ عدن سسکیاں لے لے کر رونے لگا۔ 

آغا جان کے پچکارنے، اظہر کے دلاسا دینے نے اُسے قدرے پُرسکون تو کر دیا، مگر وہ اداس نظروں سے پلٹ پلٹ کر درخت کو دیکھتا رہا۔ اور پھر شام کو دونوں دادا، پوتے نے خشک اور مضبوط جھاڑیوں کی باڑھ بنا کر،کچھ پتھروں کا سہارا دے کر درخت کو کھڑا تو کر دیا، مگر عدن کا دُکھ کم نہیں ہو رہا تھا۔

بارش کے بعد، کڑکتی دھوپ نکلی ہوئی تھی۔ اجالا عدن کو ڈھونڈ رہی تھی تاکہ اُسے ہوم ورک کروا دے۔ سارا گھر دیکھ لیا، مگر وہ کہیں نظر نہ آیا۔ آغا جان اپنی چھوٹی سی لائبریری میں تھے، جو کہ باغ بانی کی کتابوں سے بَھری ہوئی تھی۔ وہ سمجھ گئے کہ عدن اِس وقت کہاں ہو سکتا ہے اور اُن کا خیال درست نکلا۔ 

عدن سوکھے درخت کے پاس تھا۔ اور پھر یہ دیکھ کر تو بہو اور سُسر کا منہ تعجب سے کُھلے کا کُھلا رہ گیا کہ عدن اپنے قریب آغا جان کی شوگر، بلڈ پریشر کی گولیاں، اجالا کے ملٹی وٹامن سپلیمنٹس اور کیلشیم ٹیبلیٹس کاڈھیر رکھے بیٹھا تھا۔ اور پوری تن دہی سے اُنھیں درخت کی بے جان جڑوں میں انڈیل رہا تھا۔ اجالا نے اپنا سر پکڑ لیا، جب کہ آغا جان کا بھرپور قہقہہ عدن کو چونکنے پر مجبور کرگیا۔ اُس کی دانست میں درخت کو علاج اور طاقت کی دواؤں کی ضرورت تھی۔

عدن کی اُس سوکھے درخت سے شدید محبت اور لگن دیکھتے ہوئےآغا جان نے اُسے زندگی دینے کا ایک انوکھا حل نکالا۔ وہ بازار سے بہت سارے رنگین ربنز خرید لائے، ساتھ رنگا رنگ چمک دار کاغذ اورسبز رنگ کے چھوٹے چھوٹے پتھر اور اجالا اپنے پرانے دوپٹوں کے کنارے لگی لیسز کاٹ لائی۔ اب سب مل کر تن من دھن سے مُردہ درخت کو سجانے سنوارنے، اُسے زندگی کے نغموں سے جگانے میں جُت گئے۔ ایسا لگ رہا تھا، جیسے کائنات ایک نئی کروٹ لےرہی ہے۔ 

سارا گھر ایکاایکی روشنیوں سے منوّر ہوگیا۔ گویا زندگی کی حرارتوں سے محروم کسی وجود کو مصنوعی سہاروں ہی سے سہی، پیروں پر کھڑا کرنا خوشیوں کا استعارہ ہے۔ دو ہی دن کی محنتِ شاقہ کے بعد درخت جی اُٹھاتھا۔ عدن نے اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے اُن پھولوں میں رنگ بھرا، جنہیں اجالا نے تراشا تھا۔ پھر گوند اور ٹیپ کی مدد سے اُنہیں درخت پر جا بجا چپکایا گیا۔ ایک درخت، پورا گلستان بن چُکا تھا۔

جس میں صرف رنگ اور پھول ہی نہیں، تنوّع کی خوب صورتی بھی نمایاں تھی۔ آغا جان نےایک کام اورکیا۔ مختلف سائزز کے چھوٹے چھوٹے کارڈز لے آئے۔ ایک پر لکھا۔ ’’جیسے پودوں کوپانی، دھوپ اور کھاد کی ضرورت ہوتی ہے، ویسے ہی رشتوں کو وقت، محبّت اور خلوص کی ضرورت ہوتی ہے۔‘‘ دوسرے پر لکھا۔ ’’پودوں کی شاخیں کاٹنا پڑتی ہیں تاکہ وہ بہترانداز میں بڑھ سکیں۔ انسانی رشتوں کی پائےداری کے لیے بھی چھوٹی چھوٹی غلط فہمیوں، بدگمانیوں کی تراش خراش ضروری ہے۔‘‘

اِسی طرح کے کئی خُوب صورت، سبق آموز جملوں سے مزیّن کارڈز درخت کی شاخوں سے بندھے لہرا رہے تھے۔ اب توعدن جیسے ایک مغرور موربن کر پورے باغ میں خوشی سے لہراتا پھر رہا تھا۔ ماما کے سیل فون سے درخت کے پاس جا کر مختلف اسٹائلز کی سیلفیاں لے کر سوشل میڈیا پر پوسٹ کیں، جن پر بےشمار لائیکس، خوشیوں، اُمیدوں بھرے رنگارنگ کمنٹس آئے۔ اظہر نے بھی بے پناہ خوشی کا اظہار کیا۔ یہاں تک کہ عدن کے دوستوں کو درخت کی نئی زندگی کی خوشی میں ایک چھوٹی سی دعوت ہی دے ڈالی گئی۔

آغا فیضان عالم کافی مہینوں بعد کُھل کر قہقہے لگاتے، اپنے آئیڈیے پرخُوب تعریفیں سمیٹ رہے تھے۔ اندرونی تسکین اُن کے چہرے پر خوشی بن کر دوڑ رہی تھی۔ وہ اتنے خوش تھے کہ چار دن سے اپنی دوائیں تک نہیں کھارہے تھے۔ بلکہ شادابی کی لہر نے تو پورے گھر ہی کو اپنی لپیٹ میں لےرکھا تھا۔ اگلے روز سیاہ بادل آئے، تو عدن اُنہیں انگوٹھا دِکھا کر چڑا رہا تھا کہ اب درخت بہت مضبوط اور پہلے سے کئی گنا خُوب صورت ہوچُکا ہے، اب وہ نہیں گر سکتا۔

چند دن بعد پھر ایک بہت زبردست طوفان آیا۔ عدن صُبح ہوتے ہی بھاگ کر باغ کی طرف گیا۔ درخت توموجود تھا، مگر… دادا جان کہیں نہیں تھے۔ رات کا خوف ناک طوفان، اپنے ساتھ عدن کا سب ہی کچھ بہا لے گیا تھا۔ اُسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کرے۔ کب روتے روتے ما ما کی گود ہی میں گہری نیند سو گیا، پتا ہی نہیں چلا۔

آج عدن، اظہر کے ساتھ آغا جان کی قبر پر کھڑا تھا اوراُس کا ننھا سا ذہن بس ایک ہی بات سوچے جارہا تھا کہ ’’وہ درخت تو واقعی سوکھ گیا تھا، لیکن اصل میں میرے دادا جان ہرے تھے۔‘‘

سنڈے میگزین سے مزید