• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ذیابطیس ایک موذی اور زندگی بَھر ساتھ چلنے والا مرض ہے، جب کہ یہ جان لیوا بھی ثابت ہوسکتا ہے کہ متاثرہ فرد کو اندر ہی اندر دیمک کی طرح چاٹ کر کھوکھلا کردیتا ہے۔ اچھے خاصے پہلوان جیسی قابلِ رشک صحت رکھنے والے افراد دیکھتے ہی دیکھتے گُھل کر ہڈیوں کا ڈھانچا بن جاتے ہیں۔ ذیابطیس سے جس طرح جسم کے دوسرے اعضاء اور اُن کے افعال متاثر ہوتے ہیں، اُسی طرح منہ اور دانتوں پر بھی اِس مرض کے نہایت سنگین اثرات مرتّب ہوتے ہیں۔

عام لوگوں کے مقابلے میں ذیابطیس کے مریضوں میں دانتوں اور مسوڑھوں کے امراض میں مُبتلا ہونے کے زیادہ امکانات اِس لیے بھی ہوتے ہیں کہ ذیابطیس میں جِسم کے سارے خُلیاتی مائعات اور دورانِ خون میں شَکر کی زیادتی کی وجہ سے جراثیم کو تیزی سے پرورش پانے اور نمو پذیر ہونے کا مؤثر ماحول میسّر آ جاتا ہے، جس کی وجہ سے دانت میں کیڑا لگنے اور مسوڑھوں کے گلنے، یعنی پائیریا، کا مرض لاحق ہوسکتا ہے۔

ذیابطیس میں کسی بھی مرحلے پر کم زوری اور قوّتِ مدافعت میں کمی کی وجہ سے مسوڑھوں کا شدید انفیکشن، پائیریا یا شید پیروڈونٹائِٹس (Severe Periodontitis) ہوجاتا ہے، جس سے مسوڑھے سُرخ ہوکر سُوج جاتے ہیں۔ اُن میں سے پیپ آنے لگتی ہے اور دانت ہلنے لگتے ہیں۔

پرانی ذیابطیس کے مریضوں میں لعابِ دھن پیدا کرنے والے غدود سُوج جاتے ہیں اور لعابِ دھن کا اخراج گھٹ جاتا ہے، جس کی وجہ سے مریض منہ کی خُشکی کا شکار ہوجاتا ہے اور اُسے بار بار پیاس لگتی ہے۔ مُنہ کی اِس مستقل خُشکی کی وجہ سے دانتوں میں کیڑا لگنے کا عمل بھی تیز ہوجاتا ہے، جو بالآخر دانت کے اخراج پر منتج ہوسکتا ہے۔

ذیابطیس میں خون کی رگیں تنگ اور موٹی ہوجاتی ہیں، جن کے سبب جسم کے دوسرے حصّوں کی طرح منہ اور چہرے کی طرف بھی خون کی فراہمی میں خلل پڑ سکتا ہے۔ نتیجتاً پٹّھے اور اعصاب متاثر ہوتے ہیں اور منہ میں جلن محسوس ہوتی ہے۔ منہ اور چہرے پر سوئیاں چبھنے جیسا درد اور بعض اوقات سُن سا محسوس ہونا عام ہے۔

ذیابطیس کے مریض اپنی مجموعی صحت کے ساتھ منہ اور دانتوں کی صحت بحال رکھنے کے لیے خون میں شَکر کنٹرول کریں۔ خواہ خوراک سے یا دوا سے، مگر جو بھی طرزِ عمل اختیار کریں، ڈاکٹر کے مشورے ہی سے کریں۔ اس کے ساتھ حِفظانِ صحت کے اصولوں پر عمل کرتے ہوئے اپنے منہ اور دانتوں کی صفائی کا خُوب اہتمام کرنا چاہیے۔ دانتوں کو دن میں دو مرتبہ اچھی طرح برش سے صاف کریں، کسی اچھے جراثیم کُش ماؤتھ واش سے کُلّیاں اور غرارے کریں تاکہ منہ میں جراثیم بڑھنے نہ پائیں۔

سال میں دو بار باقاعدگی سے دانتوں کے ڈاکٹر سے اپنا معائنہ کروائیں اور اُس کی ہدایات پر عمل بھی کریں۔ اگر کبھی دانتوں کا کسی قسم کا علاج درکار ہو، یعنی دانتوں کی صفائی، دانت نکلوانا پڑے یا منہ میں کسی قسم کی سرجری کی ضرورت ہو، تو اِس ضمن میں بہت احتیاط کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹر کا مشورہ اور ذیابطیس کا کنٹرول ہونا بہت ضروری ہے، بصورتِ دیگر زخم خطرناک بھی ہوسکتا ہے۔ (مضمون نگار، لیاقت یونی ورسٹی اسپتال، حیدرآباد سے بطور چیف ڈینٹل سرجن منسلک رہے ہیں)

سنڈے میگزین سے مزید
صحت سے مزید