کراچی میں بحری مشق سی گارڈ 2026ء کا آغاز ہو گیا، مشقیں 2 فروری سے 9 فروری تک جاری رہیں گی۔
کمانڈر جے ایم آئی سی سی کیپٹن عاطف نے مشقوں پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ جے ایم آئی سی سی گہرے پانیوں میں کسی کی مدد پر رسپانس دیتی ہے، ہر سال 3 سے 4 فیصد سمندری تجارت میں اضافہ ہو رہا ہے۔
کمانڈر جے ایم آئی سی سی کیپٹن عاطف نے بتایا کہ پاکستان اہم بحری خطے میں موجود ہے، سمندر سے تیل و گیس کو بھی نکالا جا رہا ہے، ایران اسرائیل تنازع کے نتیجے میں بحری تجارت میں تشویش دیکھی گئی۔
کیپٹن عاطف کا کہنا ہے کہ سمندر منشیات کی ترسیل کا بھی بڑا ذریعہ ہے، جے ایم آئی سی سی نے 259 اطلاعات پر 14 خفیہ آپریشن کیے، ریسکیو آپریشن میں بھارت کے ماہی گیروں کو بھی بچایا گیا، جے ایم آئی آئی سی سب میرین کیبل کی حفاظت بھی کرتی ہے۔
سی گارڈ تقریب کے مہمانِ خصوصی وائس ایڈمرل محمد فیصل امین نے کہا کہ ایران امریکا کشیدگی میں سمندری راستوں کی حفاظت کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے، کسی بھی ناخوشگوار صورت کے پیش نظر پاک بحریہ ہمہ وقت تیار ہے۔
ڈائریکٹر سب میرین کیبل پی ٹی سی ایل محمد حسن نے تقریب سے خطاب میں کہا کہ سب میرین کیبلز کی حفاظت بہت ضروری ہے، جے ایم آئی سی سی کی مدد سے سب میرین کیبل کی حفاظت کرتے ہیں، سب میرین کیبلز کو بحری جہاز کے لنگر سے سب سے بڑا خطرہ ہوتا ہے۔