• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کوئٹہ بلدیاتی انتخابات و حلقہ بندیوں سے متعلق کیس کا فیصلہ محفوظ

—فائل فوٹو
—فائل فوٹو

وفاقی آئینی عدالت نے کوئٹہ بلدیاتی انتخابات و حلقہ بندیوں سے متعلق کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا۔

جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے کوئٹہ بلدیاتی انتخابات و حلقہ بندیوں سے متعلق کیس کی سماعت کی۔

دوران سماعت جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ فیصلے میں بلدیاتی انتخابات کے لیے ٹائم لائن دیں گے۔

ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ 2022ء میں قانون میں تبدیلی کر کے کوئٹہ کو میٹروپولیٹن سٹی قرار دیا گیا۔

جسٹس روزی خان نے ریمارکس دیے کہ کوئٹہ 10 کلومیٹر کا شہر ہے، اتنے بڑے آفس کے باوجود الیکشن کمیشن 10کلومیٹر علاقے کی حلقہ بندیاں نہیں کر سکتا، کوئٹہ کی حلقہ بندیاں تو 2 ہفتوں میں بھی ہو سکتی ہیں۔

جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ الیکشن کمیشن رضامندی دے تو اپریل میں کوئٹہ کے بلدیاتی انتخابات کرادیں؟ اب 5 سال تو اس مقدمے کو زیرِ التوا نہیں رکھیں گے۔

الیکشن کمیشن کے ڈی جی لاء نے کہا کہ ابھی تو پنجاب اور اسلام آباد میں بھی کام کر رہے ہیں۔

جس پر جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کا وعدہ بھی الیکشن کمیشن نے وفا نہیں کیا، الیکشن کمیشن تو نہ کرنے والی باتیں کر رہا ہے، اسلام آباد میں الیکشن کروانے کا وعدہ تھا، میں ہائی کورٹ سے سپریم کورٹ کا جج بنا اور پھر آئینی عدالت کا، لیکن الیکشن نہ ہوئے۔

الیکشن کمیشن کے نمائندے نے کہا کہ حکومت کی جانب سے قانون تبدیل کر دیا جاتا ہے۔ جس پر جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ خدارا ایسے نہ کریں۔

الیکشن کمیشن کے ڈی جی نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو صرف کوئٹہ حلقہ بندیوں کے لیے 90 روز درکار ہوں گے۔

ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان نے کہا کہ مجھے حکومت سے ہدایات لینے کی مہلت دی جائے۔

قومی خبریں سے مزید