بلوچستان میں دہشت گردی سے متعلق قرارداد قومی اسمبلی میں پیش کر دی گئی۔
قومی اسمبلی میں پیش کی گئی قرار داد میں شہداء اور زخمیوں کے اہلِ خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا گیا ہے۔
قرارداد اسپیکر قومی اسمبلی نے ایوان میں پیش کی، جس میں بیرونی اسپانسرز اور اندرونی پراپیگنڈا کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
اسپیکر نے اراکین سے قرارداد کے حق اور مخالفت میں رائے طلب کر لی۔
اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے اعتراض کیا کہ اس قرار داد کے آغاز میں ہر صوبے کے وسائل اس کے عوام کے ہونے چاہئیں۔
وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے، ہمیں مشترکہ پیغام دینا چاہیے۔
نور عالم خان کا کہنا تھا کہ اس قرارداد میں خیبرپختونخوا کو بھی شامل کریں، دہشت گردی کےپی میں سب سے زیادہ ہو رہی ہے، دہشت گردی کی ہر قسم کے خلاف بولنا ہوگا۔
سحر کامران نے کہا کہ ٹی ٹی پی اور ہندوستان کے اتحاد کو سامنے رکھیں تو یہ ایک منظم حملہ تھا، فوج اور سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں کہ انہوں نے اس حملے کو ناکام بنایا۔