سینیٹ کمیٹی قانون و انصاف نے کیس فریقین کی رضا مندی سے ویڈیو، آڈیو ریکارڈنگ کی سفارش منظور کرلی۔
سینیٹر فاروق ایچ نائیک کی سربراہی میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی قانون و انصاف کا اجلاس ہوا، جس میں سینیٹر سرمد علی نے فیملی کورٹس ترمیمی بل پیش کیا۔
سینیٹر سرمد علی نے سفارش کی کہ فیملی کورٹس میں جواب جمع کرانے کےلیے 30 کے بجائے 15 دن دیے جائیں، کیس کی آڈیو اور ویڈیو ریکارڈنگ کی جائے اور محفوظ رکھی جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو کسی مقدمے میں ویڈیو لنک کے ذریعے پیش کردیا جاتا ہے مگر عام عوام کےلیے یہ سہولت نہیں ہے۔
اس موقع پر سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ عدالت کو ان کے حال پر چھوڑ دیں، وکلا اس ترمیم کا غلط استعمال کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ آپ کے ایک جج صاحب نے وڈیولنک استعمال کرکے ایمان مزاری، ہادی علی چٹھہ کو سزا سنادی۔
اسلام آباد انتظامیہ کے نمائندے نے کہا کہ ہم نے کچھ ترامیم کے ساتھ اس بل کی حمایت کی ہے۔
دوران اجلاس کمیٹی نے فریقین کی رضامندی کی شمولیت کے بعد ویڈیو اور آڈیو ریکارڈنگ کی سفارش منظور کرلی ہے۔
کمیٹی نے عوامی عہدے پر گریجویشن کو لازمی شرط قرار دینے کا بل مسترد کردیا، آرٹیکل 228 میں ترمیم کا بل بھی مؤخر کردیا گیا۔