• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جماعت اسلامی پاکستان کی ایک اہم سیاسی جماعت ہے اور خاص طور پر شہری سندھ کی سیاست سے اس کا گہرا تعلق رہا ہے۔ گو کہ بلدیاتی سیاست میں اُسے خاصی کامیابی ملتی رہی ہے دو بار اُس کے میئر بھی منتخب ہوئے مگر قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں ماسوائے 70 کی دہائی یا پھر 2002 کے عام اتخابات میں جماعت ہمیشہ سے کمزور رہی۔ موجودہ صوتحال میں جماعت کی قیادت کو یہ نظر آرہا ہے کہ ایک طرف پی پی پی کو باوجود شہری سندھ میں وہ پذیرائی نہیں مل رہی جس کی ایک اندرونی کہانی پھر کسی وقت آپ کو سناؤں گا تو دوسری طرف ایم کیو ایم 22؍اگست، 2016ءکے بعد سے مسلسل مشکل میں اور ’کنٹرولڈ‘ ہے تو تیسری طرف پاکستان تحریک انصاف جس کو اب بھی شہری سندھ میں ملک کے کئی دیگر شہروں کی طرح مقبولیت حاصل ہے مگر وہ ریاستی جبر اور تنظیمی کمزوریوں کی وجہ سے اپنا کردار ادا نہیں کر پارہی، یہ سارے ایسے عوامل ہیں جو جماعت کی موجودہ قیادت کی نظر میں ان کی سیاست کیلئے موافق نہیں، اِس لیے امیر جماعت حافظ نعیم الرحمان مسلسل کراچی اور شہری سندھ میں دوبارہ 70کی دہائی کی طرح کامیابی کیلئے پُر امید ہیں۔

’حق دو کراچی‘ کے نام سے انہوں نے نہ شہر کو ’وفاق‘ کے حوالے کرنے کی حمایت کی نہ الگ صوبہ بنانے کی بلکہ با اختیار مقامی حکومتیں بنانے کی بات کی جو ویسے بھی 18ویں ترمیم میں موجود ہے مگر دونوں بڑی جماعتیں پی پی پی اور مسلم لیگ ن، اس کی راہ میں رکاوٹ نظر آتی ہیں۔

جماعتِ اسلامی نے ماضی میں شہری سندھ کو اچھے کردار کے حامل سیاستدان دیئے ،جن میں نمایاں نام پروفیسر غفور احمد، سید منور حسن، عبدالستار افغانی اور نعمت اللہ خان شامل ہیں۔ تاہم 70 کی دہائی میں جماعت نے جو سیاست کی خاص طور پر سندھی زبان کے فروغ کے بل اور کوٹہ سسٹم پر وہ آگے جاکر بنیاد بنی پہلے مہاجر قومی مومنٹ کی جو بعد میں متحدہ مومنٹ میں تبدیل ہوگئی۔ اس کا اعتراف بہت سے جماعت کے قائدین کرتے ہیں۔ 70 کی دہائی میں پی پی پی نے بھی کئی اردو بولنے والے اور اچھے کردار کے حامل سیاست دانوں کو ٹکٹ بھی دیئے اب یہ الگ بات ہے کہ بائیں بازو کے سخت گیر رہنماؤں نے معراج محمدخان جیسے لوگوں کو منع کردیا انتخابی سیاست سے۔ نظریاتی سیاست چاہے اس کا تعلق مذہبی جماعتوں سے ہو یا بائیں بازو سے سیاسی نقصان یہ ہوتا ہے کہ دونوں کو وقت نکل جانے کے بعد احساس ہوتا ہے۔

اس سب کے باوجود اگر آپ70کی شہری سندھ کی سیاست پر نظر ڈالیں تو ہمیں  دونوں طرف اچھے کردار کے حامل نظریاتی سیاستدان نظر آئیں گے جن میں JUPکے مولانا شاہ احمد نورانی، شاہ فرید الحق، حاجی حنیف طیب، پی پی پی کے پروفیسر این ڈی خان، سعید سیدحسن، پیار علی الانا اور بعد میں حکیم محمد سعید، جمیل الدین عالی جیسے لوگ بھی نظر آتے ہیں۔ جماعت کے دوستوں کا میں اوپر ذکر کرچُکا ہوں۔ وصی مظہر ندوی، مولانا ظفر انصاری اور کئی دیگر نام بھی لئے جاسکتے ہیں۔ شاید یہی وجہ تھی کہ جب سندھی زبان کے بل اور کوٹہ سسٹم پر شہری سندھ میں فسادات پھوٹ پڑے تو وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے مسئلے کو سیاسی طور پر سیاستدانوں سے نہیں اردو اور سندھی بولنے والے دانشوروں کو اسلام آباد بُلا کر حل کرنے کی کوشش کی۔ نوکریوں میں 40-60 فیصد کا مسئلہ اُس کے نتیجہ میں سامنے آیا۔

1977ء کو پی این اے کی تحریک چلی تو شہری سندھ نے پی پی پی کے خلاف واضح ووٹ بھی دیا اور جماعتِ اسلامی نے اس مسئلے کو اُن کے خلاف استعمال بھی کیا مگر اس سب کا فائدہ دراصل جنرل ضیاء کو ہوا اور یوں 1977 کے بعد سندھ کو خاص طور پر شہری سندھ کو لسانی اور فرقہ ورانہ سیاست کی بھینٹ چڑھا دیا گیا۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ مارشل لا لگنے کے بعد پی پی پی نے صرف ملک میں نہیں شہری سندھ خاص طور پر کراچی میں’کم بیک‘ کیا اور بیگم نصرت بھٹو نے نشتر پارک میں تاریخی جلسہ کیا تو الیکشن ملتوی کردیئے گئے اور پھر جنرل ضیاء نے وہ کھیل کھیلا جسکی چنگاری آج تک شعلے پیدا کر کے بار بار آگ کی شکل میں نظر آئی ہزاروں لوگ مارے گئے۔ وہ کوٹہ سسٹم جو صرف 10سال کیلئے تھا اُس میں باربار توسیع کی جاتی رہی تاکہ وہ ایشولسانی سیاست کو دیہی اور شہری سندھ میں تقسیم کیلئےبرقرار رکھے۔

1986 ءمیں سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو نے کراچی سینٹرل جیل میں پارٹی لیڈر مسرور احسن کو متحدہ قومی مومنٹ کے قائدِ الطاف حسین اور انکے ساتھیوں کا خیال رکھنے کا کہا اور1987ءکے بلدیاتی الیکشن کے وقت وہ بانیٔ متحدہ کیساتھ بلدیاتی انتخابات میں جماعتِ اسلامی مخالف اتحاد بنانا چاہتی تھیں مگر پی پی پی کے مقامی لیڈروں نے یہ کہہ کر 70کلفٹن کی ملاقات ملتوی کروادی کہ یہ نوجوان لڑکے ہیں اُنکے پاس ووٹ نہیں ہے۔ جب نتائج آئے تو بی بی نے پی پی پی کے ان رہنماؤں کی خاصی کلاس لی۔ اس سے پہلے 1979ءاور1983ء کے بلدیاتی الیکشن میں ڈپٹی میئر پی پی پی کا آیا۔

شاید ایم کیو ایم کی نوجوان قیادت کو اس وقت جو پذیرائی ملی وہ اسے سنبھال نہ سکے اور جب سائیں جی ایم سید اور الطاف نے سیاسی اتحاد کیا تو نامعلوم قوتوں نے لسانی فسادات کروادیے۔ ایسا ہی کچھ 1988ءمیں پی پی پی اور ایم کیو ایم کے اتحاد کے بعد ہوا۔ جس وفاق کی ایم کیو ایم آج بات کررہی ہے اُنہی کے ہاتھوں وہ اس مقام تک پہنچے ہیں۔ کبھی پی پی پی کے خلاف استعمال ہوئے تو کبھی پی ٹی آئی کے خلاف۔

اس وقت ایک سیاسی خلا موجود ہے ایم کیو ایم، پی ٹی آئی دونوں مشکل میں ہیں اور پی پی پی کی قیادت اور حکومت خراب گورننس کے ذریعے ’شہر‘ کو بند گلی میں لے آئے ہیں۔ شاید جماعت اسی خلا کو موافق سمجھ رہی ہے اپنے لئے۔

تازہ ترین