پاکستانی قوم 1990ءسے ہر سال 5فروری کو متواتر یومِ یکجہتی کشمیر پاکستان سمیت دنیا بھر میں مناتی چلی آرہی ہے۔ اِس دن کو یومِ یکجہتی کشمیر کے طور پر منانے کا مقصدآزادی کے متوالوں اورمظلوم کشمیری عوام کو یہ پیغام دیناہے کہ ناجائزبھارتی تسلط کے خلاف کشمیریوں کی تحریکِ آزادی کی جدوجہد میں وہ تنہا نہیں بلکہ پاکستان اور دُنیا بھر کے مظلوم اور جمہوریت پسند عوام ان کے ساتھ ہیں۔تنازع کشمیر تقسیم ہند کا ایک نامکمل ایجنڈا ہے ۔ پاکستان و بھارت کے درمیان بنیادی مسئلہ ہی کشمیر ہے۔ تین ایٹمی قوتوں پاکستان، بھارت اور چین کے بیچ واقع خطہ جنت نظیر وادی کشمیر پر اُس وقت تک جنگ کے بادل منڈلاتے رہیں گے جب تک اس دیرینہ مسئلہ کو وہاں کے عوام کے خواہشات کے مطابق حل نہ کیا جائے۔ خدانخواستہ پاکستان اور بھارت کسی وقت جنگ میں اُلجھ کر ایک دوسرے کے خلاف ایٹمی اسلحہ استعمال کربیٹھے تو اس جنت نظیر وادی سمیت پورا خطہ ایک ایسی ہولناک تباہی و بربادی کی لپیٹ میں آجائیگا جودوسری جنگِ عظیم کے دوران جاپان کے شہروں ہیروشیما و ناگاساکی پر کیے گئے امریکی ایٹمی حملے سے بھی زیادہ تباہ کُن ہوگی ۔
قائد اعظم نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا۔ مسئلہ کشمیر کے حل سے متعلق پاکستانی عوام کا ہمیشہ سے یہی مؤقف رہا ہے کہ کشمیریوں کو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حقِ خود ارادیت دیا جائے اور اس کیلئے کشمیر میں ریفرنڈم کرایا جائے تاکہ کشمیری عوام یہ فیصلہ خود کریں کہ وہ کیا چاہتے ہیں۔ بھارت کی طرف سے کشمیریوں کو حق خود ارادیت سے مسلسل انکار اور پے در پے پاکستانی حکومتوں کی عدم توجہی سے آج حالات اس نہج پر پہنچ گئے ہیں کہ کشمیری عوام کی خودمختاری بھی چھین لی گئی ہے۔ ماضی میں جنرل (ر) پرویز مشرف نے مسئلہ کشمیر پر مختلف فارمولے پیش کیے، مسلم لیگ ن،پیپلزپارٹی نے بھی اپنے دورِ اقتدار میں اپنے مفادات کی خاطر بھارت کو موسٹ فیورٹ قرار دیکر تجارت کیلئے راستے کھول دیے ۔ مودی سے امن کی توقعات رکھنے والی تحریک انصاف کی حکومت نے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے اقوامِ متحدہ میں تقریر کرنے اور ایک منٹ کی خاموشی اختیار کرنےپر ہی اکتفا کیا۔یہی نہیں بلکہ عمران خان نے تو بلااشتعال بھارتی گولہ باری کے نتیجےمیں آزاد کشمیر میں بھاری جانی و مالی نقصان پر بطور احتجاج کنٹرول لائن تک جانے کی خواہش رکھنے والے مظلوم کشمیری عوام کو ہی غدار قرار دے دیا۔ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے پی ٹی آئی حکومت اس قدر رجائیت پسندی کا شکار ہوئی کہ وہ عالمی برادری کے سامنےمسئلہ کشمیر اور وہاں ہونے والے بھارتی مظالم پیش کرنا ہی بھول گئی، حالانکہ اُس وقت کنٹرول لائن پر صورتِ حال غیرمعمولی کشیدہ تھی اور نوبت فضائی جھڑپوں تک پہنچ گئی تھی۔
پے در پے پاکستانی حکومتوں کے اِن نمائشی اور غیرسنجیدہ اقدامات کےنتیجے میں آج مقبوضہ کشمیر بھارتی فوج کے ظلم کا محورہے۔ کشمیری عوام کیلئے ادویات اور خوراک کا حصول ناپید ہے۔جعلی مقابلوں میںنہتے کشمیری نوجوانوں کا قتل عام روز کا معمول ہے۔عالمی برادری، انسانی حقوق کی تنظیمیں بھارتی فوج کے ظلم وجبر پر زبانی جمع خرچ کے سوا کچھ نہیں کررہیں۔ بعض ملکوں کے مادی مفادات اور خود حکومتِ پاکستان کی مسئلہ کشمیر کے حل کے حوالے سے مجرمانہ غفلت اور سردمہری نے مسئلہ کشمیر کو سردخانے بلکہ مردہ خانے میں دھکیل کر رکھ دیا ہے ۔ تاہم ظلم و جبر اور غفلت و لاپروائی کی اس طویل داستان میں آزادی کے متوالے کشمیری عوام اور پاکستانی قوم کا جوش و جذبہ اب بھی ایک زندہ و تابندہ حقیقت ہے۔
تنازع کشمیر کو کشمیری عوام کی اُمنگوںکےمطابق حل کرنےکیلئےپاکستان کو پوری سنجیدگی کیساتھ عالمی اور علاقائی سطح پر مندرجہ ذیل سفارتی، سیاسی کوششیں بروئے کار لانےکی ضرورت ہے۔ضروری ہے کہ حکومت مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے قومی اور اُصولی موقف پر مشتمل ’’قومی کشمیر پالیسی‘‘تشکیل دے۔نیز کشمیر کمیٹی کی تشکیل نو کرکے اسے حقیقی معنوں میں متحرک کیا جائے، مقبوضہ کشمیر میں جاری ظلم و بربریت روکنے کیلئے بھارت پر عالمی دباؤبڑھانے کی غرض سے بیرونِ ملک پاکستانی سفارت خانوں کو فعال اور متحرک کردار ادا کرنے کیلئے گائیڈ لائن دی جائے۔مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے بین الاقوامی سطح پر کی جانے والی کوششوں میں اقوامِ متحدہ، عالمی عدالتِ انصاف اور انسانی حقوق کے اداروں میں اپنا مقدمہ پوری تیاری کیساتھ پیش کیا جائے۔مسئلہ کشمیر کے حل کیلئےاقوامِ متحدہ نے کم و بیش 30 قراردادیں پاس کیں جن میں مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے کشمیری عوام کے استصوابِ رائے کے حق کو تسلیم کیا گیا۔ اب اقوامِ متحدہ اپنے وعدوں پر عمل کرے اور کشمیری عوام کو رائے شماری کا حق دیا جائے۔کشمیر کو غیر فوجی علاقہ قرار دے کر وہاں پر اقوامِ متحدہ کی نگرانی میں استصوابِ رائے کیلئے اقدامات کے جائیں۔کشمیری اور بھارتی جیلوں میں قید ہزاروں بے گناہ کشمیریوں، سیاسی قیادت کو بلاتاخیر اور غیرمشروط طور پر رہا کیا جائے۔بھارتی آئین میں آرٹیکل 370اور 35۔اے کو5اگست 2019ء سے پہلے والی حالت پر فی الفور بحال کیا جائے۔کشمیری عوام کو کنٹرول لائن کے آر پار نقل و حرکت کا حق دلانےکیلئے سیاسی اور سفارتی کوششیں تیز کی جائیں، نیزمقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے ہاتھوںانسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کےحوالے سے بین الاقوامی مندوب کا تقرر کیا جائے۔مسئلہ کشمیر کا واحد حل کشمیری عوام کی خواہشات اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق استصوابِ رائے میں مضمر ہے۔ جتنی جلد عالمی برادری اس کیلئے سنجیدہ کوششیں شروع کردے، اتنی ہی جلد یہ مسئلہ حل ہوکر تاریخ کا حصہ بن جائیگا۔ کشمیریوں نے اپنی قربانیوں سے مسئلہ کشمیر کو زندہ رکھا ہوا ہے ۔ جس طرح تاریخ کی بدترین سفاکیت اور نسل کشی کے باوجود ناجائز صہیونی اسرائیلی ریاست اہلِ غزہ و فلسطین کے جذبہ مزاحمت کے آگے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوئی، اِسی طرح غاصب بھارت بھی انشاء اللہ! جلد ہی کشمیری عوام کی لازوال قربانیوں اور جذبہ حریت کے آگے گھٹنے ٹیکنےپر مجبور ہوگا۔ پاکستانی قوم ہمیشہ کی طرح اپنے کشمیری بہن بھائیوں کی پشتیبانی کرتی رہے گی۔ کشمیری شہدا، غازیوں اور عشروں سے بھارتی مظالم سہتے کشمیری عوام کی قربانیوں کا تقاضاہے کہ بامعنی مذاکرات کے ذریعے کشمیری عوام کی اُمنگوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کا قابلِ قبول حل نکالا جائے۔ اگر یہ ساری کوششیں بھی خدانخواستہ بارآور ثابت نہ ہوں تو پھر افغان عوام کی طرح کشمیری عوام بھی بزورِ شمشیر بھارت کے منہ سے آزادی چھین لینے میں حق بجانب ہو نگے۔ دُعا ہے کہ آزادئ کشمیر کیلئے کشمیری عوام کی جدوجہد نتیجہ خیز ثابت ہو اور کشمیری عوام کو بھی جلد ہی آزادی کا سورج طلوع ہوتے دیکھنا نصیب ہو۔ آمین