لفظ کبھی محض بے جان آواز نہیں ہوتا ۔ یہ زمین کے نہاں خانوں میں دبی وہ صدا ہے جو برف پوش کہساروں کی تنہائی، تپتے ریگزاروں کی تشنہ لبی اور رواں دواں دریاؤں کے لمس میں گندھی زندگی کا استعارہ بنتی ہے۔ اکادمی ادبیات پاکستان کا "بین الصوبائی اقامتی منصوبہ" درحقیقت فکر و نظر کے بحرِ بے کراں میں رواں وہ سفینہ ہے جو نہ صرف جغرافیائی حدیں مٹاتاہےبلکہ دلوںکی دوریوں اور خوف کی سرسراہٹوں کو مسمار کر کے یگانگت کے نئے باب روشن کرتا ہے۔ ماضی کےاوراق پلٹ کردیکھیں تو معلوم ہوتاہے کہ جب وطن عزیز معرضِ وجود میں آیا تو صرف سرحدیں ہی متعین نہیں ہوئی تھیں بلکہ الفاظ بھی اپنی شناخت اور ٹھکانے کی تلاش میں نکل پڑے تھے۔ کچے دیہاتوں کی پراسرار خاموشی، جبالِ شامخ کے سائے اور صحراؤں کی تپش یہ سب ایک ان کہے مکالمے کا حصہ تھے جسے اکادمی نے لفظ کی ابدی ضیا باریوں سے ہمکنار کر دیا ۔اکادمی ادبیات محض ایک ادارے یا عمارت کا نام نہیں یہ اس قوم کی بکھری ہوئی فکری صداوں کا مرکزِ ثقل ہے۔ اردو، پنجابی، سندھی، پہاڑی ،بلوچی، سرائیکی، پشتو، کشمیری، شینا، بلتی، پوٹھوہاری اور براہوئی یہاں ہر زبان روشنی کی سفیر اور ہر قلم کار ایک منفرد داستان کا مسافر ہے۔ جب یہ تمام تخلیقی جھرنے ایک ہی چھت تلے آ کر ملتے ہیں تو فقط ایک نشست وجود میں نہیں آتی بلکہ ایک زندہ اور سانس لیتا ہوا تجربہ جنم لیتا ہے جسکی مہک قاری کی لوحِ دل پر برسوں قیام کرتی ہے۔یہ منصوبہ ادب کی وہ آفاقی مسافت ہے جس نے لہجوں کا بُعد ختم کر کے ایک اجتماعی شعور کو جلا بخشی۔ ملک بھر سے منتخب ہو کر جب تمام صوبوں کے نمائندہ قلم کار یہاں یکجا ہوئے تو اکادمی ادبیات کی یہ بے مثال کاوش حقیقتاً ایک "منی پاکستان" کا روپ دھار چکی تھی جہاں ہر رنگ کی قوسِ قزح اور ہر مٹی کی خوشبو موجود تھی۔اس علمی و ادبی کہکشاں میں پشین کی تنہائی سے لے کر اسکردو کی برف تک اور خاران کی ریت سے لے کر مظفر آباد کی نمی اورڈھرکی کی ثقافت تک پورا ملک سمٹ آیا تھا۔ اس زرخیز گروہ میں سندھ سے روشن شیخ، ڈاکٹر عیسیٰ میمن، شہزین فراز اور جی ایم لاڑک، خیبرپختونخوا سے ارشد سلیم، خرم شاہ، بسمہ نذیر اور عمر خان عمر۔گلگت (گانچھے)سے امینہ یونس اوربلتستان(اسکردو)سے منظور نظر۔مظفرآباد(آزاد کشمیر )سے مشتاق حسین قادری۔ بلوچستان سے نورالحق شاہ، شہزاد سلطان، زنیرہ گل درانی اور لاریب احتشام جبکہ پنجاب سے نازو عروج، شاکر جتوئی، عرفان حیدر،یوحنا جان اور راقم شامل تھے۔ یہاں ہر لہجہ ایک مینارہءنور اور ہر چہرہ ایک مکمل کتاب تھا ۔ڈاکٹر نجیبہ عارف کی بصیرت افروز قیادت میں یہ علمی پل تعمیر ہوا۔ انھیں اس حقیقت کامکمل ادراک ہےکہ ادب کو محض رسمی سرپرستی کی نہیں بلکہ ایک ایسی سازگار فضا کی ضرورت ہوتی ہے جہاں سوال کو زبان مل سکے اور اختلافِ رائے کو احترام کا پیراہن عطا ہو۔ چیئر پرسن کے وژن نے ثابت کیا کہ ادارے اینٹ یا پتھر سے نہیں خلوصِ نیت اور جذبوں کی تمازت سے معتبر ٹھہرتے ہیں۔ اقامت کے یہ دس دن جیسے وقت کے تھم جانے کا استعارہ تھے۔ علمی نشستیں، ورکشاپس اور فکری دورے ایک ذریعہ تھے اصل معجزہ تو اس لمحے رونما ہوتا تھا جب کوئی افسانہ نگار اپنے باطن کے نہاں خانوں سے سچ کشید کرتا یا کوئی شاعر پہلی بار یہ دیکھ کر نہال ہوتا کہ اس کے دکھ کا مداوا کسی دوسرے خطے کے قاری کی آنکھوں میں چھپا ہے۔اسلام آباد کے مقتدر تعلیمی و اسٹریٹجک اداروں کے دوروں جن میں انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز (ISSI)، نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی، نیشنل بک فاؤنڈیشن، ادارہ فروغِ قومی زبان اور نمل یونیورسٹی شامل ہیں نے اس حقیقت کوواضح کر دیا کہ ادب فقط جمالیات کا نام نہیں بلکہ یہ ریاستی فہم، قومی شعور اور فکری تربیت کی اساس بھی ہے۔اس پورے سفر کی اصل روح وہ غیر رسمی نشستیں تھیں جہاں حمید شاہد، فرخ یار، قیصرہ علوی، ثروت محی الدین اور نعیم فاطمہ علوی نے اپنی میزبانی سے لفظوں کو حقیقت کا روپ دیا ۔ان دل کشادہ اکابرین نے اس قافلے کواپنےگھروں میں مدعو کرکے نوجوان لکھاریوں سےگھل مل کرانکی بھرپور حوصلہ افزائی کی۔ اسی سلسلے کی ایک یادگار کڑی راولپنڈی میں پنجابی ادبی تنظیم "دھرتی رنگ رائٹرز کلب" کا وہ پرتکلف عشائیہ اور سحر انگیز مشاعرہ بھی تھا جس نے اس فضا کو تخلیقی توانائی سے بھر دیا۔ اس محفل کے مہمانِ اعزاز نامور ادبی شخصیت واحد سراج تھے جن کی فکر انگیز گفتگو نے حاضرین کو ایک نئے جہانِ معنی سے روشناس کرایا۔ اسی طرح ایک شام ایبٹ آباد سے خصوصی طور پر تشریف لائے ممتاز ادیب،شاعر اورناول نگار احمد حسین مجاہد کی رفاقت اور رائٹرز ہاؤس کی شعری محفل نے بھی جذبوں کو مہمیز کیا۔ محمد اظہار الحق کی جانب سے اسلام آباد کلب میں دیا گیا ظہرانہ مرکز اور کناروں کے مابین ایک اٹوٹ فکری تعلق کا اعلامیہ تھا۔منصوبے کی اس کامیابی کا سہرانام ور شاعراورمعروف ناول نگار اختر رضا سلیمی اور ان کےرفقائےکار، میر نواز سولنگی ، ڈاکٹر امینہ،یوسف خان عبدالرحمان ،زاہد گلزاراورعدنان کی انتھک محنت کے سر ہے جنہوں نے پسِ منظر میں رہ کر اس پورے خواب کو شرمندہ تعبیر کیا۔ ان کے خلوص نے ان دس دنوں کوگویا تاریخ کاایک تابناک حصہ بنا دیا۔ رحمان فارس کی جادوئی شاعری نے بھی اس محفل میں زندگی کی نئی لہر دوڑا دی ۔آج کے کٹھن دور میں انسان کو اگر کوئی شے زندہ رہنے کا حوصلہ دیتی ہے تو وہ "لفظ" ہے۔ یہ اقامتی منصوبہ ہمیں سکھاتا ہے کہ ادب محض تحریر نہیںایک مقدس رشتہ اور اٹوٹ اعتماد ہے۔ جب ریگستان کی تپتی ہوا اور کہساروں کی ٹھنڈی چاندنی ایک ہی میز پر ہم کلام ہوتی ہے تو لفظ اپنی اصل طاقت دکھاتا ہے۔ایسا لفظ جو بظاہر ساکت ہے مگر اپنے اندر ابد تک جینے کی تڑپ رکھتا ہے۔