برصغیر پاک و ہند میں بسنت کی روایت کوئی نئی نہیں۔ روایات کے مطابق اسے صوفیاء کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے ۔ یہ اس زمانے کی بات ہے جب حضرت نظام الدین اولیاء کے جواں سال اکلوتے لے پالک بیٹے کا اچانک انتقال ہو گیا اور حضرت نظام الدین اولیاء افسردگی کی علامت بنے اپنےحجرے تک محدود ہر کر رہ گئے ۔ ان کے قریبی دوست اور صوفی شاعر حضرت امیر خسرو ان کی غمزدگی اور خاموشی کی وجہ سے بے حد پریشان تھے ۔
امیر خسرو اپنےمرشد کو خوش کرنے کے لیے مختلف جتن کرتے رہتے۔ ایک روز صبح کے وقت امیر خسرو دور پگڈنڈی پہ پیلے کپڑے پہنے ہاتھوں میںپیلے پھلوں کی ٹوکریاں اٹھائے گیت گاتے ہوئے جاتے نظر آئے ۔ پوچھنے پر خواتین نے بتایا کہ اس روز ہندو دیوی سرسوتی کو خوش کرنے کے لیے مندر پہ پیلےپھولوں کے تحائف پیش کیے جانے کا تہوار ہے۔ امیر خسرو نے پوچھا کیا اس طرح آپ کی دیوی خوش ہو جائیں گی اور مسکرانے لگیں گی۔ خواتین نے بتایا کہ جی بالکل ہماری دیوی پیلے پھولوں سے خوش ہوں گی بلکہ مسکرانے لگیں گی ۔
خواتین کے اس مشورے کے مطابق امیر خسر و پیلے پھولوں کی ٹوکری لے کر اپنے مرشد حضرت نظام الدین اولیاء کے حضور پیش ہوئے ۔ پھولوں کو دیکھتے ہی نظام الدین اولیاء کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی اور ان کے مرید بھی خوش ہو گئے۔پیلے پھولوں کے اسی تہوار کو وقت کے ساتھ بسنت کا نام دیا گیا۔
مغل دور حکمرانی میں اس تہوار کو پورے جوش و جذبے اور خاندانوں کے بیچ پیار، محبت ، ہم آہنگی ، دوستی کے طور پر منایا جانے لگا۔ برصغیر پاک و ہند کا یہ تہوار شدید سرد موسم کے اختتام اور بہار کی آمد کو خوش آمدید کہنے کے لیے منایا جاتا ہے۔ بسنت کا ماضی کچھ بھی ہو مگر لاہور کی روایات کے مطابق برسوں تک یہ تہوار دوستی ، ہم آہنگی ، بھائی چارے اور محبت کے تہوار کے طور پر منایا جاتا رہا ہے ۔
گزشتہ کچھ برسوں سے لاہور میں ہونے والے خصوصاً اندوہناک واقعات اصولی طور پر انتظامی امور میں نااہلی کے باعث رونما ہوئے۔ جس کے باعث لاہوریوں کا پسندیدہ تہوار ” بسنت ممنوع کر دیا گیا۔پیلا پھول محبت ، دوستی اور خوشحالی کی علامت سمجھا جاتا ہے ۔ ہندو دیوی سرسوتی کے مندر سے ہوتا ہوا ۔ مغل حکمرانوں کے درباروں کی زینت بننے کے بعد یہ تہوار عام آدمی کی خوشی کی سبیل بنتا گیا۔ اس تہوار میں مزید رنگ بھرنے کے لیے پتنگ اڑانے کی رسم بھی شامل ہوتی گئی۔ اس بات سے انکار نہیں کہ کاروباری شعبہ کی لا پرواہی کی وجہ سے گلے پر ڈور پھرنے کے کئی واقعات نے ہزاروں گھر اجاڑے اور قیمتی جانوں کا نقصان کیا۔ مگر اس غلط کاری کو آج کی مضبوط پنجاب حکومت ہی قابو کر سکتی ہے ۔ حکمرانوں کا ڈر ہوگا تو نہ کسی کے گلے پر ڈور پھرے گی نہ ہی خوشیوں کا کوئی گہوارہ غم کی اتھاہ گہرائیوں میں ڈوبے گا۔لا ہور اور بسنت کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ کھلے میدانوں پارکوں اور وسیع چھتوں پر لال، پیلی، نیلی ، ہری رنگ برنگی پتنگوں اور دیسی کھانوں، بچے بچیوں کے قہقہے ، لال پیلے جوڑے اور پتنگوں ، گڑیوں کی بہار ۔ اگر ہمیں تین دن ہنسنے مسکرانے اور قہقہے لگانے کا موقع ملےتو یقیناً یہ عام آدمی کی نفسیاتی بھلائی کا باعث بنے گا۔
جس طرح خوشیوں ، خوشبوؤں اور رنگوں کا کوئی ملک اور سرحد نہیں ہوتی ۔ اس طرح برصغیر کے تمام صوفیاء نے محبت، ثقافتی ہم آہنگی اور بھائی چارے کی فضا کو قائم رکھنے کے لیے بسنت منانے سے کبھی گریز نہیں کیا۔ شکریہ وزیر اعلیٰ پنجاب آپ نے ہماری گمشدہ بسنت واپس لوٹا دی۔